گھوٹکی، ٹک ٹاکر سمیرا راجپوت پراسرار طور پر جاں بحق،پولیس نے دو ملزمان کو گرفتار کرلیا
اشاعت کی تاریخ: 25th, July 2025 GMT
گھوٹکی(اردوپوائنٹ اخبار تازہ ترین۔25جولائی 2025)گھوٹکی،ٹک ٹاکر سمیرا راجپوت پراسرار طور پر جاں بحق، پولیس نے دو ملزمان علی راجپوت اور عدنان راجپوت کو گرفتار کرلیا ہے تاہم واقعے کا مقدمہ تاحال درج نہ ہوسکا،ای سیکشن پولیس نے لاش پوسٹ مارٹم کے بعد ورثا کے حوالے کردی،ٹک ٹاکر سمیرا راجپوت کے بھائی نے الزام لگایا ہے کہ سمیرا کو اس کے سابق شوہر نے مبینہ طور پر زہردے کر قتل کیا ہے۔
قبل ازیں بھی پشاور کے علاقے ورسک روڈ پرمعروف خاتون ٹک ٹاکر سائیکو ارباب پراسرارطور پر جاں بحق ہوگئی تھیں جس کی نعش پوسٹمارٹم رپورٹ کیلئے ہسپتال منتقل کردی گئی تھی۔ پولیس نے گھر سے اہم شواہد اکٹھے کرکے انکوائری شروع کردی تھی۔بتایاگیاتھا کہ خاتون ٹک ٹاکر کی ہلاکت سے مختلف خدشات ظاہر کئے جارہے تھے۔(جاری ہے)
تھانہ مچنی گیٹ پولیس کو بیان دیتے ہوئے محمد یسین ساکن اسلام آباد نے آکر بتایاتھاکہ اس کی بہن سیماگل عرف سائیکو ارباب مشہور ٹک ٹاکر تھی، اسے اطلاع ملی کہ بہن گھرواقع ورسک روڈ میں موجود تھی جہاں اس کی حالت بگڑ گئی تھی۔
انہوں نے یہ خدشہ بھی ظاہر کیا تھاکہ اس کی موت مبینہ طورپر نشہ آور چیز کھانے سے ہوئی مگرانہوں نے یہ بھی کہا کہ اس کی طبعی موت بھی واقع ہوسکتی تھی۔ مدعی کا کہنا تھا کہ ہماری کسی کے ساتھ کوئی دشمنی نہیں تھی۔دوسری جانب پولیس نے بتایاکہ نعش پوسٹمارٹم رپورٹ کیلئے منتقل کرکے گھر سے اہم شواہد اکٹھے کرلئے تھے۔پوسٹمارٹم رپورٹ آنے کے بعد موت کی اصل وجہ معلوم ہوسکے گی۔خیال رہے کہ متوفیہ ٹک ٹاک ویڈیوز بنا تی تھی جس کے کئی ویڈیوز بھی سوشل میڈیا پر موجود تھے۔ان کے ٹک ٹاک اکاؤنٹ پر 8 لاکھ 77 ہزار سے زائد فالوورز تھے جبکہ ٹک ٹاک پر ان کی ویڈیوز کو 18.9 ملین لائکس مل چکے تھے۔ ٹک ٹاکر سائیکو ارباب اپنے ٹک ٹاک اکاؤنٹ پر اپنے تخلیقی مواد، مزاحیہ ویڈیوز اور بولڈ اسٹیٹمنٹس کے باعث کافی مقبول تھیں اور ان کے مداح بڑی تعداد میں ان کی ویڈیوز دیکھنے کے منتظر رہتے تھے۔انہوں نے اپنی آخری ویڈیو پر پشتو زبان میں کچھ لائنز کی لپ سنگنگ کی تھی۔
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے پولیس نے ٹک ٹاکر ٹک ٹاک
پڑھیں:
اٹلی میں چار پاکستانی زرعی مزدوروں کا قتل، دو پاکستانی شہری گرفتار
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 02 جون 2026ء) اخبار کے مطابق جلی ہوئی گاڑی امینڈولارا نامی گاؤں کے قریب ایک پٹرول پمپ پر ملی، جو کالابریا کے وسیع زرعی علاقے میں واقع ہے۔
اخبار کے مطابق پٹرول پمپ کے سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج میں دو افراد کو منی وین کے دروازے باہر سے بند کرتے اور اس کے اندر آتش گیر مائع پھینکتے ہوئے دیکھا گیا۔
رپورٹ کے مطابق اس کے بعد گاڑی میں آگ بھڑک اٹھی اور دونوں مشتبہ افراد موقع سے فرار ہو گئے۔
فائر بریگیڈ نے آگ بجھانے کے بعد گاڑی کے اندر سے چار لاشیں برآمد کیں۔
مقامی پولیس چیف نے اس اطالوی اخبار سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’یہ یقینی طور پر قتل کا واقعہ ہے، اب ہمیں صرف اس کی تفصیلات معلوم کرنا ہیں۔
(جاری ہے)
‘‘
اخبار نے مزید لکھا کہ گزشتہ چند مہینوں کے دوران اس علاقے میں پاکستانیوں کی گاڑیوں اور منی وینز کے نذر آتش کیے جانے کے 14 واقعات پیش آ چکے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق علاقے میں تارکین وطن کے مختلف گروہوں کے درمیان زرعی کام کی تقسیم، رہائشی دستاویزات (ریذیڈنسی پیپرز)، اور رہائش کے مسائل پر کشیدگی پائی جاتی ہے، جسے ممکنہ طور پر اس واقعے کے پس منظر سے جوڑا جا رہا ہے۔
اطالوی حکام اس واقعے کی تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہیں تاکہ اکٹھے چار افراد کے اس قتل کے محرکات اور اس کے ذمہ دار افراد کے اس جرم میں کردار کی مکمل طور پر وضاحت ہو سکے۔
ادارت: مقبول ملک