ٹرمپ انتظامیہ نے فلسطین کے حامی طلبا کا ریکارڈ ہارورڈ سے طلب کرلیا
اشاعت کی تاریخ: 10th, July 2025 GMT
واشنگٹن / کیمبرج: امریکا کی طاقتور ترین یونیورسٹی ہارورڈ کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے ایک عدالتی حکم کے ذریعے فلسطین کے حامی مظاہروں میں شریک طلبہ کا ریکارڈ فراہم کرنے کا حکم دیا ہے۔
اے ایف پی کے مطابق، یہ قدم اس وقت اٹھایا گیا جب ٹرمپ نے ہارورڈ پر یہود مخالف نظریات کو فروغ دینے اور غیر ملکی طلبہ کو شدت پسندی کی اجازت دینے کا الزام لگایا۔
محکمہ ہوم لینڈ سیکیورٹی (DHS) نے ایک باضابطہ بیان میں کہا ہے کہ ہارورڈ کو یکم جنوری 2020 سے تمام امیگریشن سے متعلقہ ریکارڈ، مواصلات اور دستاویزات عدالت میں پیش کرنا ہوں گی۔
ڈی ایچ ایس کی اسسٹنٹ سیکریٹری ٹریشیا میک لافلن کا کہنا ہے کہ ہارورڈ جیسے ادارے کیمپس میں تشدد اور دہشت گردی کی حمایت کرنے والے غیر ملکی طلبہ کو تحفظ دے رہے ہیں۔
یہی نہیں، ٹرمپ انتظامیہ نے ہارورڈ کی وفاقی فنڈنگ بند کرنے، غیر ملکی طلبہ کے ویزے منسوخ کرنے اور ان کے امریکا داخلے پر پابندی کی بھی کوشش کی، جسے عدالت نے عارضی طور پر روک دیا ہے۔
ہارورڈ یونیورسٹی اس وقت 27 فیصد غیر ملکی طلبہ پر انحصار کرتی ہے، جو یونیورسٹی کے لیے مالی طور پر نہایت اہم ہیں۔
جبکہ کولمبیا یونیورسٹی جیسے دیگر ادارے ٹرمپ کے مطالبات کے سامنے جھک چکے ہیں، ہارورڈ نے ابھی تک مزاحمت برقرار رکھی ہے۔
یاد رہے کہ ہارورڈ کیمپس میں اسرائیل کے غزہ پر حملوں کے خلاف فلسطین کی حمایت میں بڑے مظاہرے ہوئے تھے، جن میں غیر ملکی طلبہ کی بڑی تعداد نے شرکت کی تھی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: غیر ملکی طلبہ
پڑھیں:
مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے بڑھتے ہوئے واقعات کے خلاف سخت اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے جرائم میں ملوث افراد کو جلد انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیےفاسٹ ٹریک عدالتیںقائم کی جائیں گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ طلبہ کے مستقبل سے کھیلنے والوں کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر جاری اپنے بیان میں وزیراعظم مودی نے کہا کہ نوجوانوں کا مستقبل حکومت کی اولین ترجیح ہے اور امتحانی نظام میں بدعنوانی یا پرچے لیک کرنے جیسے جرائم میں ملوث عناصر کو سخت اور فوری سزا دی جائے گی۔
یہ امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے معاملے پر وزیراعظم مودی کا پہلا عوامی بیان ہے۔ تاہم ان کے ردعمل کے بعد بھی ملک بھر میں جاری طلبہ احتجاج میں کمی نہیں آئی۔ متعدد طلبہ اور سماجی حلقوں نے سوال اٹھایا کہ حکومت نے اس حساس معاملے پر ردعمل دینے میں اتنی تاخیر کیوں کی۔
دوسری جانب لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے وزیراعظم کے بیان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے حکومت پر تعلیمی نظام کو کمزور کرنے کا الزام عائد کیا۔
راہل گاندھی نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں لکھا کہ نوجوانوں کے مستقبل کو سب سے زیادہ نقصان موجودہ حکومت نے پہنچایا ہے۔ ان کے مطابق حکومت نے نہ صرف تعلیمی نظام کو تباہ ہونے دیا بلکہ ذمہ دار افراد کو بھی تحفظ فراہم کیا۔
انہوں نے کہا کہ احتجاج کرنے والے طلبہ کے تین بنیادی مطالبات ہیں، جن میں وزیر تعلیم دھرمندر پردھان کو عہدے سے ہٹانا، طلبہ سے باضابطہ معافی مانگنا اور احتجاج کے دوران طلبہ پر مبینہ تشدد میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی شامل ہے۔
واضح رہے کہ ملک میں تعلیمی اصلاحات اور امتحانی نظام میں شفافیت کے مطالبات کے حوالے سے احتجاجی تحریک جاری ہے۔ حالیہ دنوں میں طلبہ اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کے بعد یہ معاملہ مزید شدت اختیار کر گیا ہے، جبکہ امتحانی پرچے لیک ہونے کے واقعات نے بھارت کے تعلیمی نظام پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔