حکومت نے 6 مزید ایل این جی کارگو عالمی مارکیٹ کی طرف موڑ دیئے ، بڑی خبر آ گئی
اشاعت کی تاریخ: 25th, May 2025 GMT
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن ) پاکستان نے 6 مزید ایل این جی کارگو عالمی مارکیٹ کی طرف منتقل کردیے، پہلے بھی 5 کارگو موڑے جا چکے ہیں جس کے بعد کل تعداد 11 ہو گئی ہے۔
حکومت نے قطر سے 2025میں درآمد کیے جانیوالے 5 کارگو بھی مؤخر کردیے، ایک بڑی پیشرفت میں حکومت نے جولائی، اگست، ستمبر، اکتوبر، نومبر اور دسمبر 2025 کے لیے مقررہ 6 مزید ایل این جی کارگو عالمی سپاٹ مارکیٹ کی طرف موڑ دیے ہیں۔
یہ کارگو اطالوی کمپنی ENI سے درآمد کیے جانے تھے، جس کے ساتھ پاکستان ایل این جی لمیٹڈ (PLL) کا 15 سالہ طویل مدتی معاہدہ ہے، جس کے تحت ہر ماہ ایک کارگو درآمد کرنا لازم ہے۔سوئی ناردرن گیس پائپ لائنز لمیٹڈ (SNGPL) کے ترجمان نے تصدیق کی کہ حکومت نے 6 مزید ایل این جی کارگو عالمی مارکیٹ کی طرف موڑنے میں کامیابی حاصل کی ہے اور یہ بات پیٹرولیم ڈویژن نے بتائی ہے۔
اداکارہ ندا یاسر نے مارضی کے حیران کن راز سے پردہ اٹھا دیا
دسمبر 2025 تک ENI سے موڑے گئے کل کارگو کی تعداد 11 ہو گئی ہے تاہم ہر ماہ ایک کارگو عالمی مارکیٹ کی طرف موڑنے کے باوجود فروری 2025 سے لائن پیک گیس پریشر میں ابھی تک کوئی خاطر خواہ کمی نہیں آئی۔ لائن پیک پریشر اب بھی 5 ارب مکعب فٹ (BCF) سے زائد ہے جو کہ نیشنل گیس ٹرانسمیشن نیٹ ورک کے لیے خطرناک حد سمجھی جاتی ہے۔
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: حکومت نے
پڑھیں:
میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت
لندن کے میئر سر صادق خان(sadiq khan) نے 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بچوں کو آن لائن دنیا میں درپیش خطرات اور نقصانات سے بچانے کے لیے یہ ایک ضروری اقدام ہے۔
منگل کو لندن میں انجینئرز، کاروباری شخصیات اور سرمایہ کاروں سے خطاب کے دوران صادق خان نے کہا کہ جس طرح خوراک اور ادویات تیار کرنے والی کمپنیوں کو اپنی مصنوعات کی حفاظت ثابت کرنا پڑتی ہے، اسی طرح سوشل میڈیا کمپنیوں کو بھی اپنے پلیٹ فارمز کے بچوں کے لیے محفوظ ہونے کا ثبوت دینا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ جب تک سوشل میڈیا کمپنیاں اپنے پلیٹ فارمز کی حفاظت ثابت نہیں کرتیں، اس وقت تک کم عمر بچوں کے لیے ان پر پابندی عائد کرنا ہی نقصانات کو روکنے کا مؤثر طریقہ ہے۔
میئر نے اس بات پر بھی تشویش کا اظہار کیا کہ آن لائن مینوسفیئر نامی رجحان نوجوان لڑکوں اور مردوں پر منفی اثرات مرتب کر رہا ہے، جس سے ایک کھوئی ہوئی نسل پیدا ہونے کا خطرہ ہے۔
یہ مؤقف برطانوی وزیر اعظم سر کیئر اسٹارمر کے مؤقف سے زیادہ سخت سمجھا جا رہا ہے، اگرچہ وزیر اعظم نے بچوں کی آن لائن حفاظت کے لیے اہم اقدامات کا وعدہ کیا ہے، تاہم انہوں نے ابھی تک سوشل میڈیا پر مکمل پابندی کی حمایت نہیں کی۔
برطانوی حکومت نے حال ہی میں بچوں کے آن لائن تحفظ سے متعلق ایک مشاورتی عمل مکمل کیا ہے، جس میں سوشل میڈیا کے لیے کم از کم عمر مقرر کرنے، ایپس کے استعمال کے اوقات محدود کرنے، لا محدود اسکرولنگ اور آٹو پلے جیسی عادت ساز خصوصیات پر پابندی لگانے اور عمر کی تصدیق کے سخت نظام متعارف کرانے جیسے اقدامات پر رائے طلب کی گئی تھی۔
مزید پڑھیں:نیشنل ہیلتھ سروسز کیلئے 22 ارب روپے کا بجٹ مختص، اہم تفصیلات سامنے آگئیں
مشاورت کے نتائج کی بنیاد پر حکومت بچوں کے تحفظ کے لیے آئندہ پالیسی اور قانون سازی کے حوالے سے فیصلے کرے گی۔