پاکستان کرپٹو کونسل کے تحت جدید ڈیجیٹل منصوبہ شروع ، اربوں ڈالرز کی سرمایہ کاری متوقع
بٹ کوائن مائننگ سے ڈالر میں آمدن اور قومی ڈیجیٹل خزانہ بنانے کا منصوبہ ہے، وزارت

حکومت نے ڈیجیٹل پاکستان کی جانب تاریخی قدم اٹھاتے ہوئے بٹ کوائن مائننگ اور اے آئی ڈیٹا سینٹرز کیلئے 2000میگاواٹ بجلی مختص کردی۔رپورٹ کے مطابق وزارت خزانہ نے کہا کہ پاکستان کرپٹو کونسل کے تحت جدید ڈیجیٹل منصوبہ شروع کردی جب کہ اضافی بجلی سے اربوں ڈالرز کی سرمایہ کاری متوقع ہے ۔عالمی بٹ کوائن اور ڈیٹا کمپنیاں پاکستان کا رُخ کرنے لگیں، وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا کہ ڈیجیٹل معیشت سے زرمبادلہ کا نیا راستہ کھلے گا۔بٹ کوائن مائننگ سے ڈالر میں آمدن اور قومی ڈیجیٹل خزانہ بنانے کا منصوبہ ہے ، پاکستان میں دنیا کی سب سے بڑی انٹرنیٹ کیبل کی لینڈنگ مکمل ہے ، ملک بھر میں جدید ڈیٹا سینٹرز سے ہزاروں روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے ۔پاکستان کو بھارت اور سنگاپور پر توانائی اور زمین کی قیمتوں میں برتری حاصل ہے جب کہ مستقبل میں سولر، ونڈ اور ہائیڈرو پاور سے ڈیجیٹل حب قائم کیے جائیں گے ۔ٹیکس چھوٹ اور ڈیوٹی میں رعایت کے ذریعے سرمایہ کاری کو فروغ دینے کا اعلان کیا ہے ، کرپٹو صارفین کی تعداد 4 کروڑ سے تجاوزکرگئی ہے ، ڈیجیٹل ترقی کا نیا دور شروع ہونے جارہا ہے ۔وزارت خزانہ نے کہا کہ پاکستان کا جغرافیائی محلِ وقوع ملک کو عالمی ڈیٹا حب بنانے کے لیے موزوں ترین ہے ۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Juraat

کلیدی لفظ: بٹ کوائن مائننگ

پڑھیں:

بجٹ میں کرپٹو کرنسی کے لین دین پر ٹیکس عائد کیے جانے کا امکان

اسلام آباد:

نئے بجٹ میں کرپٹو ٹرانزیکشنز کو ٹیکس نیٹ میں لانے کے لیے کرپٹو ٹریڈنگ سے حاصل ہونے والے منافع پر کیپیٹل گین ٹیکس عائد کیے جانے کا امکان ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ کرپٹو ٹریڈنگ پر 10 سے 30 فی صد تک کیپیٹل گین ٹیکس نافذ کیا جا سکتا ہے اس بارے میں بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی مشاورت کے بعد کرپٹو سیکٹر کو ٹیکس نیٹ میں شامل کرنے پر غور کیا جا رہا ہے۔

ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف نے تمام ڈیجیٹل کاروبار سے حاصل ہونے والے گین پر ٹیکس عائد کرنے کا مطالبہ کیا ہے جبکہ کرپٹو لین دین میں کیپیٹل گین ٹیکس کی وصولی کی بھی تجویز دی گئی ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ انکم ٹیکس ایکٹ 2001ء کے سیکشن 37 میں کرپٹو ٹرانزیکشنز سے متعلق کیپیٹل گین کی شق شامل کیے جانے کا امکان ہے۔ اس سلسلے میں سیکشن 37 میں شق 37 سی کا اضافہ کر کے کرپٹو لین دین سے کیپیٹل گین وصول کیا جا سکتا ہے۔

ذرائع کے مطابق پاکستان میں تقریباً 90 لاکھ افراد کرپٹو کرنسی استعمال کرتے ہیں اور حکومت کو کرپٹو ٹرانزیکشنز سے اربوں روپے اضافی ریونیو حاصل ہونے کی توقع ہے اور کرپٹو ٹریڈنگ سے حاصل ہونے والا منافع جلد ٹیکس کے دائرے میں آ سکتا ہے۔

ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ پاکستان ورچوئل ایسیٹ ریگولیٹری اتھارٹی کو کرپٹو صارفین کے لیے ٹیکس اقدامات تجویز کرنے کی ہدایات دی گئی تھیں، جب کہ کرپٹو صارفین کی تعداد، ٹرانزیکشنز اور ٹیکس میکنزم کا جائزہ لینے کے لیے ایک کمیٹی بھی قائم کی گئی تھی۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ چند ماہ قبل مرکزی بینک نے ورچوئل اثاثوں کو قانونی حیثیت دینے اور ڈیجیٹل کرنسی متعارف کرانے کا فیصلہ کیا تھا۔ اس اقدام کے تحت پاکستانی روپے کو ڈیجیٹل کرنسی میں تبدیل کر کے ورچوئل اثاثوں کی خریداری ممکن بنائی جا سکے گی، جب کہ پاکستانی روپے کی شکل میں موجود رقم کو کرپٹو کرنسی میں ایکسچینج بھی کیا جا سکے گا۔

ذرائع کے مطابق ورچوئل اثاثوں کو اشیا، خدمات اور ایکو سسٹم سے باہر خریداری کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکے گا، جب کہ ڈیجیٹل کرنسی صرف ورچوئل اثاثوں کے لیے پاکستان میں قائم دفاتر کو جاری کی جائے گی۔

ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ کرپٹو کرنسی کے لیے قانونی فریم ورک بھی تیار کیا جا چکا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • امریکی محکمہ خزانہ نے ایران پر نئی پابندیاں عائد کر دیں
  • حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ” بنانے کیلئے نیا سسٹم متعارف کرادیا۔۔؟؟
  • ڈرائیونگ لائسنس سے متعلق بڑا فیصلہ، اہم شرط بھی ختم
  • بجلی کی قیمت میں ایک روپے 72 پیسے اضافے کا امکان
  • فراہمی آب کا ’کے فور منصوبہ‘ مزید تاخیر کا شکار، 2029ء تک مکمل ہونے کا امکان
  • بٹ کوائن کی تاریخی گراوٹ، سرمایہ کاروں کے کروڑوں ڈالر ڈوب گئے
  • کے فور منصوبہ مزید تاخیر کا شکار، 2029 تک مکمل ہونے کا امکان
  • اراکین پارلیمنٹ کیلئے اضافی فیملی سوٹس کی تعمیر کی تجویز، بجٹ میں ڈیڑھ ارب روپے مختص ہونے کا امکان
  • پی ایس ڈی پی میں ارکان پارلیمنٹ اور ترقیاتی منصوبوں کیلئے اربوں روپے مختص کرنے کی تجویز
  • بجٹ میں کرپٹو کرنسی کے لین دین پر ٹیکس عائد کیے جانے کا امکان