آزاد جموں و کشمیر (اے جے کے) میں عوامی حقوق کے لیے مہم چلانے والے سول سوسائٹی کے اتحاد نے علاقائی حکومت کو اپنے ’چارٹر آف ڈیمانڈز‘ پر عملدرآمد کے لیے 8 جون کی ڈیڈلائن دیتے ہوئے (حالانکہ عید الاضحیٰ غالباً 7 جون کو ہوگی) خبردار کیا ہے کہ اگر حکومت نے ٹال مٹول کی تو بڑے پیمانے پر عوامی تحریک شروع کی جائے گی۔

نجی اخبار کی رپورٹ کے مطابق یہ اعلان جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (جے کے جے اے اے سی) کے ممتاز رہنما شوکت نواز میر نے اتوار کی صبح مظفرآباد کے لال چوک میں بڑے جلسے میں اپنی تقریر کے دوران کیا۔

اس جلسے کا عنوان ’شہدائے جموں و کشمیر کانفرنس اور عوامی حقوق‘ رکھا گیا تھا، جو ہفتے کی دوپہر شروع ہوا، اور اس میں ہزاروں شرکا پورے خطے سے قافلوں کی صورت میں شام گئے تک شریک ہوتے رہے۔

یہ تقریب اتوار کی صبح فجر تک جاری رہی، اس دوران 2 درجن سے زائد مقررین، بشمول جے کے جے اے سی سی کی کور کمیٹی کے ارکان نے جذباتی شرکا سے خطاب کیا۔

مقامی ہوٹل اور تاجر تنظیموں نے شرکا کو مفت رہائش اور کھانے کی سہولت فراہم کی، یہ پروگرام پرامن طور پر اختتام پذیر ہوا جس پر مقامی انتظامیہ نے سکھ کا سانس لیا۔

جلسے میں شوکت نواز میر کی جانب سے پڑھا گیا 13 نکاتی اعلامیہ داخلی طرزِ حکمرانی، مسئلہ کشمیر اور جنوبی ایشیا میں جوہری جنگ کے خدشات جیسے موضوعات پر مبنی تھا۔

اعلامیے میں زور دیا گیا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان اور مجموعی طور پر جنوبی ایشیا میں پائیدار امن مسئلہ کشمیر کے کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق حل کے بغیر ممکن نہیں۔

اعلامیے کے مطابق بین الاقوامی برادری کو کشمیری عوام کی اجتماعی مرضی اور اقوام متحدہ کے چارٹر کے تحت ان کے ناقابلِ تنسیخ حقِ خودارادیت کے مطابق مسئلہ کشمیر کا پرامن اور مستقل حل یقینی بنانا چاہیے۔

اس میں مزید خبردار کیا گیا کہ اگر کشمیری عوام کی مرضی کے خلاف کوئی فیصلہ مسلط کیا گیا یا خطے پر جنگ تھوپی گئی تو جموں و کشمیر کی سابق ریاست کے تمام منقسم حصوں کے عوام پرامن طور پر نام نہاد ’خونیں‘ لائن آف کنٹرول (ایل او سی) کو ختم کرنے کا حق محفوظ رکھتے ہیں۔

اعلامیے میں بھارت اور پاکستان کے درمیان جوہری تصادم کے خطرے پر گہری تشویش ظاہر کی گئی اور بھارت، پاکستان، بنگلہ دیش، سری لنکا، نیپال، بھوٹان، مالدیپ، افغانستان اور ایران کے عوام سے اپیل کی گئی کہ وہ کشمیریوں کے حقِ خودارادیت کی حمایت کریں تاکہ کسی تصادم میں ضمنی نقصان سے بچا جا سکے۔

اعلامیے میں ممتاز کشمیری مزاحمتی رہنما یٰسین ملک اور بھارتی جیلوں میں قید دیگر سیاسی قیدیوں کی رہائی کا مطالبہ کیا گیا، آزاد کشمیر میں جبری گمشدگیوں اور گلگت بلتستان میں سیاسی کارکنوں کی گرفتاریوں کی مذمت کی گئی۔

نیا 16 نکاتی چارٹر
کمیٹی نے آزاد کشمیر حکومت کو متنبہ کیا کہ وہ سابقہ معاہدے کے تحت 10 نکاتی مطالبات پر عمل درآمد کو یقینی بنائے، اگر 8 جون تک عمل نہ ہوا تو اتحاد میرپور ڈویژن میں نمائندہ اجلاس کے دوران آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان کرے گا۔

شوکت نواز میر نے کہا کہ ہم حکمرانوں کو خبردار کرتے ہیں کہ اگر دوبارہ احتجاج کی کال دینے پر مجبور کیا گیا تو وہ اس کے نتائج سے بچ نہیں سکیں گے۔

اتحاد نے آزاد کشمیر کی اشرافیہ کے لیے حالیہ مراعات اور سہولتوں میں اضافے کو عوامی جذبات کی توہین قرار دیتے ہوئے اسے مکمل طور پر واپس لینے کا مطالبہ دہرایا۔

وزیر اعظم آزاد کشمیر چوہدری انوار الحق کے ’را کی فنڈنگ‘ کے الزامات کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے شوکت نواز میر نے انہیں بے بنیاد اور بدنیتی پر مبنی قرار دیا۔

انہوں نے کہا کہ ہماری تحریک کو مقامی باشندوں اور بیرون ملک کشمیریوں کی جانب سے دی گئی امداد سے چلایا جا رہا ہے، اور اس کی مکمل شفافیت سوشل میڈیا پر واضح ہے۔

جے کے جے اے سی سی کے مطابق نیا 16 نکاتی چارٹر، جو 21 مئی کو دھیرکوٹ (ضلع باغ) میں کور کمیٹی کے اجلاس میں باضابطہ طور پر منظور کیا گیا تھا، اسے اب پہلے سے موجود مطالبات کے ساتھ ساتھ آگے بڑھایا جائے گا۔

ان نئے مطالبات میں تعلیم اور صحت تک مفت اور مساوی رسائی، روزگار کے مواقع، آزاد کشمیر میں بین الاقوامی ہوائی اڈے کا قیام، صاف پینے اور آبپاشی کے لیے پانی کی فراہمی، تاؤ بٹ تا بھمبر ایکسپریس وے کی تعمیر، سرکاری اداروں میں کرپشن، رشوت اور سفارش کا خاتمہ، نوجوانوں کے لیے بلاسود قرضے، استحصالی موبائل کمپنیوں کا ریگولیشن، معذور افراد کے لیے کوٹے اور مالی معاونت، ٹیکس میں چھوٹ کا مطالبہ شامل ہے۔

مزید برآں، عدالتی نظام میں اصلاحات، شفاف بھرتیاں، بروقت سماعتیں اور عدالتی احتساب کے مطالبات بھی شامل کیے گئے ہیں تاکہ عوامی حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔

اعلامیے میں عبوری آئین کے آرٹیکل 52 سی اور 2019 کے آزاد کشمیر ہائی کورٹ کے پن بجلی وسائل سے متعلق فیصلے کی مسلسل خلاف ورزی کی شدید مذمت کی گئی، اور اسے قانون کی حکمرانی کے لیے نقصان دہ قرار دیا گیا۔

ایک اور اہم مطالبہ پاکستان میں مقیم کشمیری مہاجرین کے لیے مختص 12 نشستوں کے خاتمے کا تھا، کمیٹی نے دعویٰ کیا کہ یہ نشستیں استحصال کا ذریعہ بن چکی ہیں اور مقامی خودمختاری کی راہ میں رکاوٹ ہیں، لہٰذا ان کا فوری خاتمہ ضروری ہے۔

جے کے جے اے سی سی نے کہا کہ اس کے برعکس، آزاد کشمیر میں مقیم مہاجرین، خاص طور پر 1989 کے بعد بے گھر ہونے والوں کو قانون ساز اداروں میں نمائندگی اور جائیداد کے حقوق دیے جانے چاہئیں۔

کمیٹی نے آزاد کشمیر سے ترقیاتی فنڈز کی نام نہاد 12 پاکستانی حلقوں کی طرف غیر آئینی اور غیر اخلاقی منتقلی کو فوری طور پر روکنے کا بھی مطالبہ کیا اور اسے کھلی کرپشن قرار دیا۔

ساتھ ہی پاکستان میں آباد مہاجرین کے لیے روزگار کے کوٹے کی بھی مخالفت کی گئی اور اسے آزاد کشمیر کے مقامی باشندوں کے ساتھ ناانصافی قرار دیا گیا۔

اعلامیے میں کہا گیا کہ آزاد علاقے میں روزگار کا حق صرف وہاں کے مکینوں تک محدود ہونا چاہیے۔

Post Views: 1.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: شوکت نواز میر اعلامیے میں جے کے جے اے کے مطابق قرار دیا کیا گیا کے لیے کی گئی اور اس

پڑھیں:

کفایت شعاری اقدامات، حکومت نے مارکیٹوں اور ریسٹورنٹس کے اوقات کار میں توسیع کردی گئی

 نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی زیر صدارت کفایت شعاری اقدامات پر اہم اجلاس ہوا جس میں مارکیٹوں اور ریسٹورنٹس کے اوقات کار میں توسیع کردی گئی۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار کی زیر صدارت وزارتِ خارجہ میں کفایت شعاری اقدامات کی نگرانی اور عملدرآمد سے متعلق کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا۔

اجلاس میں ملک بھر میں توانائی کے مؤثر استعمال اور کاروباری سرگرمیوں کے اوقات کارجبکہ جاری کفایت شعاری اقدامات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔

موسمِ گرما میں دن کے دورانیے میں اضافے اور بلند درجہ حرارت کے پیش نظر کمیٹی نے دکانوں، بازاروں، شاپنگ مالز اور جنرل ریٹیل کاروبار کے اوقات کار رات 9 بجے تک بڑھانے کی منظوری دے دی۔

مزید پڑھیں

لاہور میں بھی اسمارٹ لاک ڈاؤن پھر سے نافذ، پرانے اوقات کار بحال

اجلاس کے فیصلوں کے مطابق ریسٹورنٹس، کیفے اور دیگر کھانے پینے کے مراکز رات 11 بجے تک کھلے رہ سکیں گے، تاہم ٹیک اوے اور ہوم ڈلیوری سروسز ان اوقات کی پابندی سے مستثنیٰ ہوں گی۔

شادی ہالز اور تقریبات کے مقامات کے اوقات کار رات 10 بجے تک برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا گیا جبکہ فارمیسیز، ہسپتال، پٹرول پمپس، آئی ٹی اور ٹیلی کام سے متعلق خدمات سمیت ضروری سروسز کو ان پابندیوں سے استثنیٰ حاصل ہوگا۔

کمیٹی نے صوبائی حکومتوں کو ہدایت کی کہ وہ وفاقی حکام کے ساتھ مکمل تعاون کرتے ہوئے ان فیصلوں پر مؤثر عملدرآمد یقینی بنائیں۔

اجلاس میں وفاقی وزراء برائے پیٹرولیم، موسمیاتی تبدیلی، اطلاعات اور آئی ٹی و ٹیلی کام، وزیر اعظم کے معاونینِ خصوصی برائے خزانہ اور نائب وزیراعظم، وفاقی سیکریٹریز تجارت، کابینہ، پیٹرولیم اور آئی ٹی و ٹیلی کمیونی کیشنز کے علاوہ صوبائی حکومتوں کے سینئر حکام نے بھی شرکت کی۔کمیٹی نے ایجنڈے میں شامل دیگر امور اور کیسز کی بھی منظوری دی۔

متعلقہ مضامین

  • کفایت شعاری اقدامات، حکومت نے مارکیٹوں اور ریسٹورنٹس کے اوقات کار میں توسیع کردی گئی
  • عید تعطیلات کے بعد کاروباری اوقات کار پھر تبدیل کردئیے گئے
  • اگر لداخ سیاسی اتحاد قائم کرسکتا ہے تو ہم بھی کرسکتے ہیں، محبوبہ مفتی
  • بجٹ 2026-27، پائیڈ کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز
  • نیشنل کانفرنس کی حکومت ہر محاذ پر ناکام ہو چکی ہے، غلام علی کھٹانہ
  • کے فور منصوبہ مزید تاخیر کا شکار، 2029 تک مکمل ہونے کا امکان
  • آزاد کشمیر کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے 54 ارب روپے سے زائد فنڈز تجویز
  • مہاجرین کی نشستوں کے مستقبل پر بڑا فیصلہ قریب، اہم پیش رفت سامنے آگئی
  • میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت
  • کراچی: نجی ایئر لائن کی حج پرواز جدہ سے 15 گھنٹے کی تاخیر سے پہنچ گئی