ڈاکٹر ریحانہ سادات رئیسی نے اپنے خطاب میں پاکستان سے محبت اور غزہ کے حوالے سے غیر معمولی جذبات کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ جنہوں نے اس ملک کا نام 'پاکستان' رکھا، انہوں نے نہایت بامعنی اور باعظمت نام چنا۔ یعنی پاکیزہ لوگوں کی سرزمین ہے اور ایسی سرزمین سے ہمیں توقع ہے کہ وہ غزہ جیسے مظلوم خطے کیلئے ضرور مضبوط اور باوقار کردار ادا کرے گی۔ اسلام ٹائمز۔ اسلامی جمہوریہ ایران کے سابق صدر، مردِ میدان اور مظلوموں کے وکیل، شہید آیت اللہ ابراہیم رئیسی کی پہلی برسی کی پُراثر تقریب جامعہ عروۃ الوثقی لاہور میں منعقد ہوئی۔ تقریب میں شہید کی صاحبزادی، ممتاز علمی شخصیت اور تہران یونیورسٹی کی استاد، پروفیسر ڈاکٹر ریحانہ سادات رئیسی بطور مہمانِ خصوصی شریک ہوئیں۔ تقریب کا آغاز جامعہ کے سربراہ علامہ سید جواد نقوی کے خطاب سے ہوا۔ انہوں نے کہا کہ یہ ہمارے لیے اعزاز اور فخر کا لمحہ ہے کہ، شہید آیت اللہ رئیسی کی بوئے گل، ان کی صاحبزادی، اس پاک سرزمین پر تشریف لائی ہیں، آپ کا وجود ہمیں شہید رئیسی کے اُس کردار کی یاد دلاتا ہے جو مظلوموں کا وکیل، غزہ کا محافظ اور انسانیت کا علمبردار تھا۔ ڈاکٹر ریحانہ سادات رئیسی نے اپنے خطاب میں پاکستان سے محبت اور غزہ کے حوالے سے غیر معمولی جذبات کا اظہار کیا۔
 
ان کا کہنا تھا کہ جنہوں نے اس ملک کا نام 'پاکستان' رکھا، انہوں نے نہایت بامعنی اور باعظمت نام چنا۔ یعنی پاکیزہ لوگوں کی سرزمین ہے اور ایسی سرزمین سے ہمیں توقع ہے کہ وہ غزہ جیسے مظلوم خطے کیلئے ضرور مضبوط اور باوقار کردار ادا کرے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ غزہ میں یہ جنگ زمین کی نہیں، شرافت اور انسانیت کی بقاء کی جنگ ہے۔ یہ ظلم اور ضمیر کے درمیان معرکہ ہے، ہمیں ہرگز غزہ کے شہید بچوں کو بھولنا نہیں چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ میرے والدِ محترم، شہید آیت اللہ رئیسی، جہاں بھی گئے، غزہ کو فراموش نہیں کیا۔ انہوں نے کبھی ظالم کیساتھ سمجھوتہ نہ کیا، بلکہ ہر عالمی فورم پر مظلوم فلسطینیوں کی آواز بنے، پاکستان کی سرزمین پر بھی انہوں نے غزہ کے حق میں صدائے احتجاج بلند کی۔ آخر میں انہوں نے کہا کہ ہم غزہ کیلئے آواز بلند کریں اور مظلوموں کے شانہ بشانہ کھڑے ہوں۔ استقامت، غیرت اور بیداری کے ساتھ، یہ کربلا  کا درس ہے۔
 

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: ڈاکٹر ریحانہ سادات رئیسی انہوں نے غزہ کے

پڑھیں:

مستونگ: سیشن جج اور گن مین قاتلانہ حملے میں شہید، ایڈیشنل سیشن جج شدید زخمی

ویب ڈیسک : مستونگ میں ہونے والے قاتلانہ حملے میں سیشن جج مستونگ عبدالحکیم کاکڑ اور گن مین شہید ہو گئے جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری شدید زخمی ہوئے۔

حکومت بلوچستان نے مستونگ حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے دہشت گردوں کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کا حکم دے دیاہے۔ معاون وزیر اعلیٰ بلوچستان شاہد رند کا کہنا ہے کہ سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین کی شہادت انتہائی افسوسناک اور قابلِ مذمت ہے۔

پاکستان کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی مثبت شرح میں کمی آگئی

 معاون وزیر اعلیٰ بلوچستان شاہد رند کے مطابق وکلاء اور ججز کو نشانہ بنانا ایک گہری سازش کا حصہ ہے،دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کو کسی صورت نہیں چھوڑا جائے گا۔

 وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے مستونگ حملے میں زخمی ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سے رابطہ کرکے ان کی خیریت دریافت کی اوران کی مکمل صحت یابی کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیاہے۔

 وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے زخمی ایڈیشنل سیشن جج سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ قانون کے محافظوں پر حملہ ناقابل برداشت ہے، ملوث عناصر کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا،حکومت عدلیہ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ ہر قدم پر کھڑی ہے۔ 

جعلی امیدواروں کی شامت، پی پی ایس سی امتحانات میں بائیو میٹرک نظام نافذ

متعلقہ مضامین

  • شہدا ء کا مقام اور فضیلت
  • کوہاٹ میں گاڑی پر فائرنگ سے کسٹم اہلکار شہید، ایک شخص زخمی
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
  • بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
  • مستونگ: سیشن جج اور گن مین قاتلانہ حملے میں شہید، ایڈیشنل سیشن جج شدید زخمی
  • لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
  • کراچی: ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار تینوں ڈاکو اپنے ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک
  • پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات کا اسکولوں میں خود پڑھانے کا اعلان