لاہور، یوم تکریم شہداء کی تقریب، شہید ابراہیم ریئسی کی صاحبزادی کی شرکت
اشاعت کی تاریخ: 26th, May 2025 GMT
تقریب سے خطاب میں شہید جمہور کی دختر ڈاکٹر ریحانہ سادات رئیسی کا کہنا تھا کہ ہمیں وعدہ کرنا ہوگا کہ شہداء کی قربانیوں کے مقصد کو علمی جامہ پہنائیں گے۔ شہداء نے سیرت حسینؑ پر چلتے ہوئے اپنی جانیں ایک مقصد کیلئے قربان کیں، اور جو پیچھے رہ گئے، ان کی ذمہ داری ہے کہ وہ کارِ زینبیؑ ادا کرتے ہوئے، اس مقصد کو زندہ رکھیں اور آنیوالی نسلوں تک اس کو بطور امانت پہنچائیں۔ اسلام ٹائمز۔ محمدی مسجد حالی روڈ گلبرگ لاہور میں یومِ تکریم شہداء منایا گیا۔ سابق ایرانی صدر شہید آیت اللہ ابراہیم رئیسی کی صاحبزادی ڈاکٹر ریحانہ سادات رئیسی نے بطور مہمان خصوصی شرکت کی۔ ایرانی قونصل جنرل مہران موحد فر، ڈی جی خانہ فرہنگ ایران ڈاکٹر اصغر مسعودی سمیت دیگر شخصیات بھی شریک ہوئیں۔ تقریب میں شہدائے محورِ مقاومت ایران، شہدائے بنیان مرصوص اور شہدائے پاراچنار کو خراجِ عقیدت پیش کیا گیا۔ ڈاکٹر ریحانہ سادات رئیسی کا کہنا تھا کہ ہمیں وعدہ کرنا ہوگا کہ شہداء کی قربانیوں کے مقصد کو علمی جامہ پہنائیں گے۔ شہداء نے سیرت حسینؑ پر چلتے ہوئے اپنی جانیں ایک مقصد کیلئے قربان کیں، اور جو پیچھے رہ گئے، ان کی ذمہ داری ہے کہ وہ کارِ زینبیؑ ادا کرتے ہوئے، اس مقصد کو زندہ رکھیں اور آنیوالی نسلوں تک اس کو بطور امانت پہنچائیں۔
ڈاکٹر ریحانہ سادات رئیسی کا کہنا تھا کہ ان کے والد شہید ابراہیم رئیسی پاکستان کیلئے خصوصی محبت کا جذبہ رکھتے تھے۔ وہ پاکستان کو ایک عظیم اسلامی مملکت کے طور پر دیکھنا چاہتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ آج اگر شہید ابراہیم رئیسی زندہ ہوتے تو بہت خوش ہوتے کہ پاکستان کو دنیا بھر میں سراہا جا رہا ہے، پاکستان کا دفاع مضبوط ہاتھوں میں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران اور لاہور کی ثقافت ملتی ہے، ایرانی اور لاہوری بھائی بھائی ہیں۔ شہیدِ جمہور نہ صرف ایران بلکہ عالم اسلام کا فخر ہیں، ان کی شہادت پر پوری امت اسلامیہ نے افسوس کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہم سب نے شہید جمہور سے دلیری وراثت میں لی ہے، قرآن کریم کے زیرسایہ ہم سب کو ایک ہونا ہو گا۔ ڈاکٹر ریحانہ سادات کا کہنا تھا کہ ہم راہ حق میں آگے بڑھتے رہیں گے، ہمیں وعدہ کرنا ہوگا شہداء کی قربانیوں اور مقصد کو عملی جامہ پہنانا ہوگا۔ پرودگار ہمیں شہداء کے سامنے شرمندہ ہونے سے بچائے، خدا ہمیں ان لوگوں میں شمار کرے جن سے وہ راضی ہوں۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: ڈاکٹر ریحانہ سادات رئیسی کا کہنا تھا کہ شہداء کی مقصد کو
پڑھیں:
ایران کے شہید سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی تدفین مشہد میں ہوگی، تیاریاں شروع
ایران کے شہید سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی تدفین تین بڑے شہروں ایران، قم اور مشہد میں نماز جنازہ کے بعد مشہد میں امام رضا کے مزار میں ہوگی، جس کے لیے حکام کی جانب سے تیاریاں شروع کی گئی ہیں۔
ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق ایران کے دارالحکومت تہران کے سماجی و ثقافتی امور کے نائب محمد امین توکلی زادہ نے بتایا کہ شہید سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ کی تدفین کے لیے تیاریاں جاری ہیں اور صرف دارالحکومت تہران میں ڈیڑھ سےدو کروڑ (15 سے 20 ملین) لوگوں کے لیے تیاریاں جاری ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہم دنیا کے انتہائی استکبار مخالف رہنما، امریکا اور اسرائیل کے خلاف جنگ کے عظیم کمانڈر اور ایران کے عظیم قابل تقلید رہنما کے جنازے میں شریک ہو رہے ہیں۔
امین توکلی زادہ نے کہا کہ مختلف صوبوں کی جانب سے جنازے کی میزبانی کے لیے درخواستیں کی گئی ہیں اور تدفین ممکنہ طور پر ذوالحج کے اختتام اور محرم کے شروع میں ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ تہران میں نماز جنازے کا پروگرام تقریباً 24 گھنٹوں تک جاری رہے گا، ہم شیعہ مسلمانوں کا ایک بہت بڑا اجتماع دیکھیں گے اور یہاں تک کہ تمام مسلمانوں کا ایک عظیم اجتماع ہوگا۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ آیت اللہ علی خامنہ ای کی نماز جنازے میں ہمسایہ ممالک بشمول پاکستان، افغانستان، بھارت، بنگلہ دیش اور کشمیر سے بڑی تعداد میں سوگواروں کی شرکت کا امکان ہے۔
یاد رہے کہ ایران کے سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای 28 فروری کو امریکا اور اسرائیل کے حملے میں شہید ہوگئے تھے جب ایران پر اچانک حملہ کیا گیا تھا اور بم باری کے نتیجے میں آیت اللہ علی خامنہ ای کے علاوہ ان کے خاندان کے چند انتہائی قریبی ارکان سمیت پاسداران انقلاب کے اعلیٰ کمانڈرز بھی شہید ہوگئے تھے۔
امریکا اور اسرائیل کے اس حملے میں مناب میں لڑکیوں کے ایک اسکول پربھی بم باری کی گئی تھی، جس کے نتیجے میں اسکول کی بچیوں سمیت 165 افراد شہید ہوگئے تھے، جبکہ ایران نے جواب میں اسرائیل اور خطے کے ممالک میں قائم امریکی اڈوں پر حملے شروع کیے تھے۔
پاکستان کی ثالثی میں اپریل میں امریکا اور ایران نے جنگ بندی پر اتفاق کیا اور دونوں اطراف سے حملے روک دیے گئے تاہم ایران نے آبنائے ہرمز کا کنٹرول اپنے پاس رکھا جبکہ امریکا نے ناکہ بندی کی جو تاحال جاری ہے لیکن مخصوص جہازوں کو گزرنے کی اجازت دی جاتی ہے۔