’’میرے ساتھ طوائف جیسا سلوک ہوا‘‘، برطانوی حسینہ نے بھارت کی حقیقت بیان کردی
اشاعت کی تاریخ: 28th, May 2025 GMT
بھارت میں منعقدہ مس ورلڈ 2025 کے مقابلے میں شرکت کرنے والی برطانوی حسینہ، ملا میگی نے بھارتی معاشرے میں پیش آئے شرمناک سلوک پر خاموشی توڑ دی۔
برطانوی میڈیا کو دیے گئے انٹرویو میں 24 سالہ ملا میگی کا کہنا تھا کہ ’’میرے ساتھ طوائفوں جیسا سلوک کیا گیا، مجھے امیر اور ادھیڑ عمر مردوں کے ساتھ زبردستی پورا دن گزارنے پر مجبور کیا گیا، جیسے میں ان کی تفریح کا سامان ہوں۔‘‘
انہوں نے مزید کہا، ’’میں ایک عزت دار مقابلے میں حصہ لینے آئی تھی، کسی کی دل لگی یا وقت گزاری کے لیے نہیں۔ مس ورلڈ جیسے مقابلے میں بھی کچھ اخلاقی حدود ہونی چاہئیں۔‘‘
میلا میگی نے انکشاف کیا کہ وہ ان حالات میں مزید وہاں رہنا برداشت نہ کر سکیں اور فوراً مقابلہ ادھورا چھوڑ کر واپس انگلینڈ چلی گئیں۔
اس انکشاف کے بعد سوشل میڈیا پر شدید ردعمل سامنے آیا ہے، جہاں صارفین نے بھارتی ایونٹس میں خواتین سے ہونے والے سلوک کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
مقبوضہ کشمیر میں حالاے نشل کشی کے دہانے پر پہنچ گئے ہیں، رُکن برطانوی پارلیمنٹ
برطانوی ایوانِ بالا کے رکن لارڈ قربان حسین نے کہا ہے کہ مقبوضہ کشمیر کے حالات نسل کُشی کی طرف جارہے ہیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق لارڈ قربان حسین نے برطانوی پارلیمنٹ میں مقبوضہ کشمیر کی انسانی حقوق کی صورتحال پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ ان کے مطابق وہاں کے حالات نسل کشی کے دہانے پر پہنچ چکے ہیں۔
انہوں نے جینوسائڈ واچ کی ایک رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے برطانوی حکومت سے پوچھا کہ وہ ان انتباہات کو کس حد تک سنجیدگی سے لیتی ہے اور ممکنہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی روک تھام کے لیے کیا اقدامات کر رہی ہے۔
جواب میں برطانوی حکومت کی جانب سے پارلیمانی انڈر سیکرٹری لارڈ کولنز نے کہا کہ برطانیہ انسانی حقوق سے متعلق اپنے دیرینہ مؤقف پر قائم ہے اور بھارتی پولیس یا سکیورٹی فورسز کے خلاف مبینہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے الزامات کی مکمل، شفاف اور غیرجانبدارانہ تحقیقات کی حمایت کرتا ہے۔