اسلام آباد:

قطر سے درآمد کی جانے والی ایل این جی مقامی تیل و گیس کی پیداوار کے لیے نقصان دہ ثابت ہو رہی ہے جس کے باعث خیبرپختونخوا نے جبری پیداوار میں کمی پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔

صوبے کی جانب سے وفاقی حکومت کو آگاہ کیا گیا ہے کہ اس اقدام سے نہ صرف پیداوار متاثر ہوئی بلکہ صوبائی حکومت کو رائلٹی اور ونڈ فال لیوی کی مد میں بھاری مالی نقصان بھی اٹھانا پڑا۔

مقامی آئل اینڈ گیس کمپنیوں جن میں او جی ڈی سی ایل اور ایم او ایل شامل ہیں  کو بھی گیس کی جبری بندش کے باعث پیداوار میں کمی اور ریونیو میں نقصان کا سامنا ہے۔

مزید پڑھیں: او جی ڈی سی ایل کی ضلع چکوال میں راجیان آئل فیلڈ سے تیل کی پیداوار بحال

اس حوالے سے ان کمپنیوں نے وزیراعظم شہباز شریف سے بھی رابطہ کیا ہے اور تحفظات کا اظہار کیا ہے۔وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا کے معاونِ خصوصی برائے توانائی و بجلی نے حالیہ اجلاس میں وفاقی حکومت کو بتایا کہ جبری گیس بندش نہ صرف ذخائر کو نقصان پہنچا رہی ہے بلکہ صوبے کی مالی بنیادوں کو بھی کمزور کر رہی ہے۔

انھوں نے مطالبہ کیا کہ مستقبل میں اس نوعیت کے اقدامات سے بچنے کے لیے ایک مؤثر اور مستقل نظام بنایا جائے۔ذرائع کے مطابق وفاقی اور صوبائی حکومتوں نے اس مسئلے کو قومی نوعیت کا قرار دیتے ہوئے فیصلہ کیا ہے کہ تمام فریقین کی مشاورت سے مسئلے کا پائیدار حل نکالا جائے گا۔

دوسری جانب مقامی پیداوار کو نظرانداز کرتے ہوئے مہنگی ایل این جی درآمد کرنے سے نہ صرف گردشی قرضوں میں اضافہ ہو رہا ہے بلکہ ملکی درآمدی بل پر بھی دباؤ بڑھ رہا ہے۔

مزید پڑھیں: ریکوڈک منصوبے سے 2028 تک سونے اور تانبے کی پیداوار متوقع، ترجمان او جی ڈی سی ایل

پاور سیکٹر ایل این جی اٹھانے سے گریزاں ہے جس سے پاکستان اسٹیٹ آئل (پی ایس او) کو سخت مالی مشکلات کا سامنا ہے۔جبری گیس بندش کے باعث اٹک ریفائنری لمیٹڈ (اے آر ایل) نے بھی اپنے مرکزی کروڈ ڈسٹلیشن یونٹ کو یکم جون 2025 تک بند کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ یہ یونٹ یومیہ 32,400 بیرل کی صلاحیت رکھتا ہے۔

واضح رہے کہ سابقہ حکومت نے قطر سے ایل این جی کے معاہدے بغیر مکمل تجزیہ اور منصوبہ بندی کے کیے جس کا خمیازہ آج توانائی کے شعبے کو بھگتنا پڑ رہا ہے۔ ملک میں موجود دو ایل این جی ٹرمینلز میں سے ایک بدانتظامی کے باعث جزوی طور پر چل رہا ہے، جس سے توانائی کی ترسیل کا نظام مزید کمزور ہو گیا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: ایل این جی کے باعث رہا ہے کیا ہے

پڑھیں:

سرکاری ملازمین پنشن میں اضافہ، خیبرپختونخوا حکومت کا بڑا ریلیف اعلان

پشاور: سرکاری ملازمین پنشن میں اضافہ کے حوالے سے خیبرپختونخوا حکومت نے اہم فیصلہ کرتے ہوئے صوبے کے پنشنرز کی نیٹ پنشن میں 7 فیصد اضافے کی منظوری دے دی ہے۔ اس فیصلے کا اطلاق یکم جولائی 2026 سے ہوگا، جبکہ اس حوالے سے محکمہ خزانہ نے باضابطہ نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا ہے۔

جاری کردہ اعلامیے کے مطابق یہ اضافہ 30 جون 2026 تک وصول کی جانے والی نیٹ پنشن کی بنیاد پر دیا جائے گا۔ حکومت کے اس اقدام سے لاکھوں ریٹائرڈ سرکاری ملازمین اور ان کے اہل خانہ کو مہنگائی کے موجودہ دور میں مالی سہارا ملنے کی امید ہے۔

نوٹیفکیشن میں واضح کیا گیا ہے کہ یکم جولائی 2026 یا اس کے بعد ریٹائر ہونے والے سرکاری ملازمین بھی اس 7 فیصد اضافے سے مستفید ہوں گے۔ اسی طرح فیملی پنشن حاصل کرنے والے افراد اور کمپیشنٹ الاؤنس لینے والے مستحقین پر بھی یہ اضافہ یکساں طور پر لاگو ہوگا۔

محکمہ خزانہ کے مطابق بیرون ملک مقیم وہ پنشنرز بھی، جو خیبرپختونخوا حکومت کی پنشن کے اہل ہیں، مقررہ قواعد و ضوابط کے تحت اس اضافے سے فائدہ اٹھا سکیں گے۔

حکومت نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ یہ اضافہ پہلے سے دی جانے والی کسی بھی خصوصی اضافی پنشن پر لاگو نہیں ہوگا، بلکہ صرف بنیادی نیٹ پنشن کی بنیاد پر ادا کیا جائے گا۔

ماہرین کے مطابق سرکاری ملازمین پنشن میں اضافہ کا یہ فیصلہ بڑھتی مہنگائی کے پیش نظر ریٹائرڈ ملازمین کے لیے اہم ریلیف ثابت ہوگا اور ان کے ماہانہ اخراجات پورے کرنے میں مدد فراہم کرے گا۔

متعلقہ مضامین

  • پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ ، شہری پھٹ پڑے
  • پنجاب حکومت کے اقدامات دھرے کے دھرے رہ گئے‘بارشوں نے تباہی مچادی
  • بارشوں سے پنجاب میں اب تک 21 شہری جاں بحق اور 154 زخمی ہوئے، پی ڈی ایم اے
  • لاہور میں موسلا دھار بارش، سڑکیں زیر آب، معمولات زندگی متاثر
  • مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کو بچانے کیلئے طلباء کا احتجاج جاری، ہزاروں طلباء کا احتجاج
  • سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت
  • سرکاری ملازمین پنشن میں اضافہ، خیبرپختونخوا حکومت کا بڑا ریلیف اعلان
  • آئی ایم ایف کی شرط پر ایکسپورٹ پروسیسنگ زونز کی مصنوعات مقامی مارکیٹ کو فروخت نہ کرنے کا فیصلہ
  • مصنوعی مٹھاس دماغی صحت کے لیے خطرہ؟ نئی تحقیق میں یادداشت متاثر ہونے کا اشارہ
  • آزاد کشمیر میں ڈیڑھ ماہ بعد انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع