فرانسیسی کمپنی ڈسالٹ اور بھارتی حکومت کے درمیان رافیل کی کارکردگی پر شدید اختلافات پیدا ہو گئے WhatsAppFacebookTwitter 0 29 May, 2025 سب نیوز

اسلام آباد (سب نیوز)بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق، پاک-بھارت حالیہ کشیدگی کے دوران بھارت کے مہنگے فرانسیسی ساختہ رافیل طیاروں کی کارکردگی شدید تنقید کی زد میں آ چکی ہے، اور ان کی کارکردگی پر بھارت اور فرانس کے درمیان شدید اختلافات سامنے آ رہے ہیں۔ فرانس کی معروف دفاعی کمپنی ڈسالٹ ایوی ایشن اور بھارتی حکومت کے درمیان رافیل طیاروں کی کارکردگی کو لے کر کشیدگی بڑھتی جا رہی ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق، فرانسیسی ماہرین کی ایک ٹیم نے بھارت میں موجود رافیل بیڑے کا معائنہ کرنے کی درخواست دی تاکہ ان طیاروں کی کارکردگی سے متعلق پیدا ہونے والے شکوک و شبہات کا جائزہ لیا جا سکے، تاہم نئی دہلی نے یہ درخواست سیکیورٹی خدشات کے تحت مسترد کر دی۔ فرانسیسی ٹیم کا دعوی ہے کہ وہ طیاروں میں درپیش تکنیکی مسائل کو جانچنا چاہتی تھی تاکہ حالیہ جنگ میں کارکردگی سے متعلق شبہات کو دور کیا جا سکے۔
رافیل طیاروں کی کمزور کارکردگی کے تناظر میں دیگر ممالک بھی الرٹ ہو گئے ہیں۔ انڈونیشیا نے ڈسالٹ کے ساتھ اپنے حالیہ جنگی طیارہ خریداری معاہدے پر نظر ثانی کا عمل شروع کر دیا ہے، اور بھارتی رافیلز کی کارکردگی اس پر نظر ثانی کا سبب بنی ہے۔
بین الاقوامی میڈیا کے مطابق، پاکستان کی جانب سے استعمال کیے گئے چینی ساختہ PL-15 میزائلوں کی موثر کارکردگی نے بھارت کے مہنگے دفاعی دعووں پر کاری ضرب لگائی ہے۔ بھارت نے فی رافیل طیارہ 288 ملین ڈالر خرچ کیے، تاہم اس کے باوجود وہ اپنے ہی خریدے گئے سسٹمز پر مکمل کنٹرول حاصل کرنے میں ناکام رہا۔ بھارتی حکام نے الزام عائد کیا ہے کہ ڈسالٹ ایوی ایشن نے رافیل کے اہم مشن سسٹمز اور ایویونکس کے سورس کوڈ تک رسائی دینے سے انکار کر دیا، حالانکہ یہ کوڈ جنگی تیاری، اسلحہ انضمام، اور پائلٹ تربیت کے لیے نہایت ضروری سمجھے جاتے ہیں۔ فرانسیسی کمپنی کے اس انکار نے رافیل کے موثر استعمال میں سنگین رکاوٹیں پیدا کر دی ہیں۔
دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ حالیہ جنگ نے بھارت کی دفاعی تیاریوں میں موجود بنیادی خامیوں کو نمایاں کر دیا ہے۔ ان کے مطابق بھارت میں پائلٹس کی شدید کمی اور ناقص تربیت نے جنگ کے آغاز ہی میں بھارتی فضائیہ کو شدید نقصان سے دوچار کیا۔ بین الاقوامی میڈیا نے دسمبر 2024 کی ایک رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ بھارتی فضائیہ میں پائلٹوں کی کمی 2015 میں 486 سے بڑھ کر 2021 میں 596 ہو گئی، جب کہ بھارت کے پاس 42 اسکواڈرن کی ضرورت کے برعکس صرف 31 لڑاکا اسکواڈرن موجود تھے، جو کسی جنگ کے لیے ناکافی تھے۔
دفاعی تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ بھارت کو اپنی افواج کی حکمت عملی اور دفاعی خریداریوں پر از سرنو غور کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ مہنگے فرانسیسی طیاروں کے باوجود پاکستان کے چینی میزائل موثر ثابت ہوئے، اور یہ حقیقت بھارتی فضائی صلاحیتوں کے بارے میں ایک بڑا سوالیہ نشان بن چکی ہے۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبربھارتی ریاستی دہشت گردی کے مزید شواہد منظر عام پر آگئے، دہشتگرد ڈاکٹر عبدالروف کے افغانستان میں موجودگی کے شواہد پیش بھارتی ریاستی دہشت گردی کے مزید شواہد منظر عام پر آگئے، دہشتگرد ڈاکٹر عبدالروف کے افغانستان میں موجودگی کے شواہد پیش پی ٹی آئی نے عمران خان کی کال پر تحریک کی منصوبہ بندی شروع کردی،ہری پور کے پہاڑوں میں ٹینٹ ویلج لگانے کا فیصلہ شوگر ملز کی جانب سے چینی کی قیمتوں میں عارضی کمی کا اعلان عالمی بینک کا پاکستان کو 40ارب ڈالرز کی فراہمی کا اعلان، عمل درآمد فریم ورک پر کام شروع ملک کے وسطی اورجنوبی علاقوں میں معمول سے 20فیصد زائد بارش ہوگی، محکمہ موسمیات پیپلزپارٹی کارکنان پر شیلنگ، وزیراعلی خیبرپختونخوا کیخلاف اندراج مقدمہ کی درخواست جمع TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2025, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Sub News

کلیدی لفظ: کی کارکردگی اور بھارتی کے درمیان

پڑھیں:

فراری کی پہلی الیکٹرک کار متعارف، رونمائی کے فوراً بعد تنقید کا طوفان

پُرتعیش گاڑیاں بنانے والی عالمی شہرت یافتہ کمپنی فراری کی پہلی مکمل الیکٹرک گاڑی منظرِ عام پر آتے ہی شدید تنقید کی زد میں آ گئی، جس کے اثرات کمپنی کی مارکیٹ پوزیشن پر بھی نمایاں طور پر دیکھے جا رہے ہیں۔

’لُوچے‘نامی اس نئی الیکٹرک گاڑی کو معروف ڈیزائنر سر جونی آئیو کے تخلیقی وژن کے تحت تیار کیا گیا ہے۔ اطالوی زبان میں ’لُوچے‘  کا مطلب ’روشنی‘ ہے۔ تاہم، گاڑی کا ڈیزائن اور مجموعی تصور صارفین اور ناقدین کی توقعات پر پورا نہ اتر سکا۔

فراری کی تاریخ میں پہلی بار متعارف کرائی گئی پانچ نشستوں والی اس الیکٹرک گاڑی کو غیرمعمولی کارکردگی کے ساتھ پیش کیا گیا ہے۔

کمپنی کے مطابق یہ گاڑی محض ڈھائی سیکنڈ میں صفر سے 96 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار حاصل کر سکتی ہے۔ اس کی قیمت 6 لاکھ 40 ہزار ڈالر، یعنی پاکستانی کرنسی میں تقریباً 18 کروڑ روپے رکھی گئی ہے۔

گاڑی کی تقریبِ رُونمائی میں اٹلی کی اہم شخصیات سمیت ملک کے صدر اور عیسائی برادری کے روحانی پیشوا پوپ لیو کو بھی مدعو کیا گیا تھا۔ تاہم، شاندار تقریب کے باوجود مارکیٹ کا ردِعمل فراری کے لیے حوصلہ افزا ثابت نہ ہو سکا۔

رونمائی کے صرف ایک دن بعد ہی کمپنی کے شیئرز کی قیمت میں آٹھ فی صد تک کمی ریکارڈ کی گئی، جسے سرمایہ کاروں کی مایوسی اور مارکیٹ کے منفی ردِعمل کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔

دوسری جانب ناقدین، سرمایہ کاروں اور بعض سیاسی شخصیات نے بھی گاڑی کے ڈیزائن اور تصور پر سوالات اٹھائے ہیں، جبکہ سوشل میڈیا پر اس کے منفرد انداز کو لے کر ملا جلا ردِعمل سامنے آ رہا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ الیکٹرک گاڑیوں کی بڑھتی ہوئی عالمی مارکیٹ میں فراری کا یہ قدم تاریخی ضرور ہے، مگر کمپنی کو روایتی اسپورٹس کار کے شوقین صارفین کو قائل کرنے کے لیے مزید محنت کرنا پڑ سکتی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • فراری کی پہلی الیکٹرک کار متعارف، رونمائی کے فوراً بعد تنقید کا طوفان
  • وسائل پر قبضے کی جنگ: افغان طالبان میں اختلافات کھل کر سامنے آگئے
  • امریکا ایران جنگ سے معاشی بحران پیدا ہوا ہے اور مہنگائی بھی بےتحاشہ بڑھ گئی ہے
  • کسی کی برائی کرکے نہیں کارکردگی پر ووٹ مانگتے ہیں، نوازشریف
  • تحریک انصاف میں اختلافات شدید، دو گروپ آمنے سامنے آگئے
  • وزیر ریلوے کی اطالوی قومی دن کے موقع پر اٹلی کی حکومت اور عوام کو مبارکباد
  • گوگل کی مالک کمپنی الفابیٹ کا اے آئی پر 80 ارب ڈالر خرچ کرنے کا بڑا فیصلہ
  • بھارت: میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ حفاظتی خدشات کے باعث ہٹا دیا گیا
  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی
  • امریکی کانگریس میں اہم بل، اسرائیل کو امریکی دفاعی ٹیکنالوجی تک غیرمعمولی رسائی ملنے کا امکان