آئی پیڈ صارفین ہوجائیں تیار! واٹس ایپ کا بڑا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 30th, May 2025 GMT
انسنٹنٹ میسجنگ ایپلی کیشن واٹس ایپ نے بالآخر آئی پیڈ کے لیے پلیٹ فارم کا ورژن جاری کر دی۔ جس کے بعد ٹیبلیٹ پر فون کی طرح میسج آ سکیں گے اور ڈیوائس سے بھیجے جا سکیں گے اور گروپ کال کی جا سکے گی۔
میٹا نے اس بات کا اعتراف کیا کہ یہ ایپ آئی پیڈ صارفین کی جانب سے کمپنی سے کیے جانے والے بڑے مطالبوں میں سے ایک تھی۔ واٹس ایپ اب جدید آئی پیڈس کے لیے ایپ اسٹور پر دستیاب ہے۔
اس سے قبل واٹس ایپ صرف ایک ڈیوائس پر استعمال کی جاسکتی تھی یہاں تک کہ ایپ کا ویب ورژن فون پر موجود ایپ کا ایک ایکسٹینشن تھا، جس کے لیے فون کا آن رہنا اور کنیکٹ رہنا لازمی تھا۔
میٹا کی جانب سے ایپ کے آئی پیڈ پر متعارف کرائے جانے حوالے سے بتایا گیا ہے لیکن اس میں کون کونسے فیچر ہوں گے اس متعلق کوئی اشارہ نہیں دیا گیا۔
جبکہ واٹس ایپ کے مطابق آئی پیڈ ورژن میں چیٹ لاک فیچر ہوگا جس کو استعمال کرتے ہوئے پاسورڈ یا فنگر پرنٹ کے ذریعے گفتگو کو چھپایا جا سکے گا۔ جس کا مطلب ہے کہ مشترکہ ڈیوائسز پر واٹس ایپ چیٹس کو پرائیوٹ رکھا جا سکے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
پڑھیں:
گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتے ہی بجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان
لاہور ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتے ہی بجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان۔ تفصیلات کے مطابق بجلی صارفین کے لیے ایک بار پھر قیمتوں میں اضافے کا امکان پیدا ہوگیا ہے، کیونکہ نیپرا میں اپریل کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی درخواست پر سماعت کے دوران بجلی ایک روپے 73 پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔ سماعت کے دوران سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) کے حکام نے بتایا کہ اپریل کے مہینے میں خطے میں جاری جنگ کے اثرات بھی سامنے آئے تھے، جس کے باعث توانائی کے شعبے کو مختلف چیلنجز کا سامنا رہا۔ سی پی پی اے کے مطابق اس عرصے کے دوران درآمدی ایل این جی بالکل دستیاب نہیں تھی، تاہم مئی میں ایل این جی کے کنٹریکٹ اور سپاٹ کارگوز موصول ہوئے، جس کے بعد ایل این جی پر چلنے والے پاور پلانٹس کو فعال کیا گیا۔(جاری ہے)
حکام نے نیپرا کو بتایا کہ صنعتی شعبے کے علاوہ تمام صارفین کی کیٹیگریز میں بجلی کی کھپت میں کمی ریکارڈ کی گئی۔ اس کے ساتھ ساتھ آئندہ 2 ماہ کے لیے ایل این جی کی یومیہ بنیادوں پر پلاننگ مکمل کر لی گئی ہے تاکہ بجلی کی پیداوار اور ایندھن کی دستیابی کو مؤثر انداز میں برقرار رکھا جا سکے۔ سی پی پی اے حکام کا کہنا تھا کہ مئی، جون اور جولائی کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ میں صارفین کو زیادہ بڑے جھٹکوں کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا کیونکہ ایندھن کی فراہمی اور بجلی کی پیداوار کے حوالے سے ضروری منصوبہ بندی کر لی گئی ہے۔