فرانسیسی صدر ایمانوئل ماکروں نے مسئلہ فلسطین کے 2 ریاستی حل پر زور دیتے ہوئے اسرائیل سےغزہ کی ناکہ بندی فوری ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ فرانس اسرائیل پر مسلسل دباؤ بڑھارہا ہے کہ وہ غزہ میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں بند کرے۔

یہ بھی پڑھیں: اسرائیل کا غزہ کے 77 فیصد علاقے پر قبضہ، مزید 23 فلسطینی شہید

صدر ماکروں نے کہا ہے کہ اگر اسرائیل نے غزہ میں انسانی ہمدردی کی بنیادوں پر امداد کی ترسیل میں رکاوٹ ڈالنے کا سلسلہ جاری رکھا تو فرانس اپنی پالیسی سخت کر سکتا ہے جس میں ممکنہ طور پر اسرائیلی آبادکاروں پر لگائی جانے والی پابندیاں بھی شامل ہو سکتی ہیں۔

سنگاپور کے دورے کے موقعے پر جمعہ 30 مئی کو وزیر اعظم لارنس وونگ کے ہمراہ ایک مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ماکروں نے کہا کہ انسانی ہمدردی کے تحت مہیا کی جانے والی امداد کی ناکہ بندی نے زمینی حالات کو ناقابل برداشت بنا دیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر آئندہ چند گھنٹوں یا دنوں میں انسانی ہمدردی کی بنیادوں پر کوئی مثبت ردعمل نہ آیا، تو ہمیں اجتماعی طور پر اپنی پالیسی سخت کرنی پڑے گی۔

مزید پڑھیے: غزہ: بچوں کی ڈاکٹر نے 9 بچے کھو دیے، شوہر و آخری بچہ موت کی دہلیز پر

انہوں نے مزید کہا کہ وہ اب بھی امید رکھتے ہیں کہ اسرائیلی حکومت اپنے رویے میں تبدیلی لائے گی اور انسانی ہمدردی کی بنیادوں پر امداد کی فراہمی ممکن بنائی جائے گی۔

اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو کی حکومت پر عالمی دباؤ میں اضافہ ہو رہا ہے جسے غزہ میں جاری صورتحال کی وجہ سے شدید تنقید کا سامنا ہے۔

ماکروں اس وقت سرکاری دورے پر سنگاپور میں موجود ہیں جہاں وہ 30 مئی سے یکم جون تک جاری رہنے والے ایشیا کے اہم ترین سیکیورٹی فورم ’شنگریلا ڈائیلاگ‘ میں کلیدی خطاب بھی کریں گے۔

جنگ بندی کی کوششیں ہنوز ناکام

واضح رہے کہ غزہ میں جنگ بندی کی کوششیں حماس اور اسرائیل کے درمیان گہرے اختلافات کے باعث اب تک ناکام ہیں۔

اسرائیل نے بڑھتے ہوئے عالمی دباؤ کے تحت 11 ہفتے طویل امدادی ناکہ بندی جزوی طور پر ختم کی ہ  اور اقوام متحدہ یا امریکا کے تعاون سے قائم ‘غزہ ہیومینیٹیرین فاؤنڈیشن کے ذریعے وہاں صرف محدود امداد پہنچانے ہی کی اجازت دی ہے۔

فرانسیسی صدر نے ایک بار پھر اس تنازعے کے سیاسی اور 2 ریاستی حل کی حمایت کا اعادہ کیا۔

ماکروں فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کے بارے میں سنجیدگی سے غور کر رہے ہیں جو نہ صرف اسرائیل کو ناراض کر سکتا ہے بلکہ مغربی دنیا میں پالیسی کی تقسیم کو مزید گہرا بھی کر سکتا ہے۔

مزید پڑھیں: ہم غزہ کی تمام تر صورت حال سے نمٹ رہے ہیں، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ

فرانس اور سعودی عرب رواں سال 17 سے 20 جون تک اقوام متحدہ کے اشتراک سے ایک بین الاقوامی کانفرنس کی میزبانی کر رہے ہیں جس کا مقصد فلسطینی ریاست کے لیے روڈ میپ طے کرنا اور اسرائیل کی سلامتی کو یقینی بنانا ہے۔

واضح رہے کہ اکتوبر 2023 سے اسرائیل نے غزہ میں بھرپور فوجی کارروائی  کا آغاز کیا تھا جس کے باعث حماس کے زیر انتظام غزہ کی وزارت صحت کے مطابق اب تک 54 ہزار سے زیادہ فلسطینی شہید ہوچکے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اسرائیل غزہ فرانس فرانس کی اسرائیل کو دھکمی فلسطین.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: اسرائیل فرانس کی اسرائیل کو دھکمی فلسطین

پڑھیں:

بحرین میں ہَیْہَاتَ مِنَّا الذِّلَّة کا نعرہ لگانے پر پابندی عائد

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ محرم کے آغاز سے قبل سکیورٹی اقدامات میں اضافہ اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ بحرینی حکام عاشورا کے پیغام اور عزاداری کی مجالس کے سماجی اور ثقافتی اثرات کے حوالے سے تشویش رکھتے ہیں۔ ہیئت امورِ قیدیانِ بحرین نے زور دے کر کہا کہ یہ پابندیاں ان متعدد اقدامات کا تسلسل ہیں جو گزشتہ برسوں کے دوران مختلف علماء، خطباء اور مذہبی شخصیات کے خلاف گرفتاریوں، طلبیوں اور دباؤ کی صورت میں سامنے آتے رہے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ شیعہ نشین عرب ملک بحرین میں قیدیوں کے لیے کام کرنیوالی تنظیم نے میڈیا کو بتایا ہے کہ ملک کے سکیورٹی اداروں نے ماہِ محرم کی آمد کے موقع پر مجالس عزا پڑھنے والے خطباء اور مقررین کو وسیع پیمانے پر طلب کر کے نئی پابندیاں عائد کرتے ہوئے شیعہ مذہبی مراسم پر دباؤ میں اضافہ کر دیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق بحرینی سکیورٹی اداروں نے محرم الحرام سے قبل متعدد خطباء اور ذاکرین کو طلب کیا ہے اور عزاداری کی مجالس اور مذہبی شعائر کے انعقاد کے لیے کئی نئی پابندیاں نافذ کی ہیں۔ ان پابندیوں میں مجالسِ عزاء کے لیے چالیس منٹ کی وقت کی حد مقرر کرنا، بعض حسینی نعروں خصوصاً ہَیْہَاتَ مِنَّا الذِّلَّة کے بلند کرنے یا دہرانے پر پابندی لگانا، نیز خطباء کو ظلم و استبداد کے خلاف جدوجہد سے وابستہ تاریخی اور سیاسی شخصیات کا تذکرہ کرنے سے روکنا شامل ہے۔

ہیئت امورِ قیدیانِ بحرین نے ان فیصلوں پر تنقید کرتے ہوئے انہیں بحرین کی شیعہ اکثریتی آبادی کے خلاف اختیار کی جانے والی محدودیت پسند پالیسیوں کا حصہ قرار دیا اور کہا کہ یہ اقدامات مذہبی مناسبتوں پر نگرانی اور کنٹرول بڑھانے کے مقصد سے کیے جا رہے ہیں۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ محرم کے آغاز سے قبل سکیورٹی اقدامات میں اضافہ اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ بحرینی حکام عاشورا کے پیغام اور عزاداری کی مجالس کے سماجی اور ثقافتی اثرات کے حوالے سے تشویش رکھتے ہیں۔ ہیئت امورِ قیدیانِ بحرین نے زور دے کر کہا کہ یہ پابندیاں ان متعدد اقدامات کا تسلسل ہیں جو گزشتہ برسوں کے دوران مختلف علماء، خطباء اور مذہبی شخصیات کے خلاف گرفتاریوں، طلبیوں اور دباؤ کی صورت میں سامنے آتے رہے ہیں۔ بیان کے مطابق ایسی پالیسیوں کا تسلسل مذہبی شعائر کی آزادانہ ادائیگی اور بحرینی معاشرے کی دینی و ثقافتی شناخت کے تحفظ پر منفی اثرات مرتب کر سکتا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • انسانی اسمگلنگ اور منی لانڈرنگ کے خلاف ٹرمپ کا نیا ایگزیکٹو آرڈر
  • امریکی محکمہ خزانہ نے ایران پر نئی پابندیاں عائد کر دیں
  • جسٹس ریٹائرڈ مقبول باقر سندھ انسانی حقوق کمیشن کے چیئرپرسن مقرر
  • آبنائے ہرمز بحالی پر بھی ایران سے پابندیاں نہیں ہٹائینگے: مارکوروبیو
  • فرانس: نفسیاتی مریضوں کے علاج کی ذمہ داری گدھوں کے سپرد
  • بحرین میں ہَیْہَاتَ مِنَّا الذِّلَّة کا نعرہ لگانے پر پابندی عائد
  • اتحاد مذاہب کیلئے سعودی فتویٰ، مولانا زاہدالراشدی اور مولانا فضل الرحمان خلیل کی تائید
  • سیکیورٹی خدشات: ڈرون اڑانے پر پابندی میںمزید 30 دن کی توسیع
  • بجٹ میں کرپٹو کرنسی کے لین دین پر ٹیکس عائد کیے جانے کا امکان
  • نیتن یاہو کا لبنان میں فوجی کارروائیاں مزید تیز کرنے کا اعلان