UrduPoint:
2026-07-24@07:58:34 GMT

بلوچستان کی اخباری صنعت تباہی کے دہانے پر، ذمہ دار کون؟

اشاعت کی تاریخ: 30th, May 2025 GMT

بلوچستان کی اخباری صنعت تباہی کے دہانے پر، ذمہ دار کون؟

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 30 مئی 2025ء) لوچستان سے روزانہ شائع ہونے والے کل 122 اخبار حکومتی میڈیا لسٹ پر ہیں۔ صوبے سے 232 دیگر مقامی اخبارات جن میں ہفت روزہ اور ماہانہ میگزین بھی شامل ہیں، شائع ہوتے ہیں۔ ان مقامی اخبارات میں ایسے متعدد اخبارات بھی شامل ہیں جو پشتو، بلوچی، براہوی اور دیگر زبانوں میں شائع کیے جاتے ہیں۔

اخبارات کے حوالے سے حکومتی پالیسی بلوچستان میں عرصہ دراز سے تضادات کا شکار رہی ہے۔ صوبے میں معاشی عدم استحکام اور انڈسٹریز کی کمی کے باعث اخباری صنعت کی معیشت کا سب سے زیادہ انحصار سرکاری اشتہارات پر ہے۔

بلوچستان کے مقامی اخبارات حکومت سے ناراض کیوں ہیں؟

بلوچستان کے مقامی اخبارات کی نمائندہ تنظیم کے جنرل سیکرٹری مرتضیٰ ترین کہتے ہیں حکومتی بے حسی کی وجہ سے صوبے میں اخباری صنعت دن بدن تباہی کے دہانے پر پہنچ رہی ہے۔

(جاری ہے)

ڈویچے ویلے سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا، ''صوبے میں حکومتی اشتہارات کی تقسیم کی پالیسی اس قدر تنازعات کا شکار ہے کہ متعلقہ محکموں میں کوئی سینئر عہدیدار اس معاملے میں خود کو جواب دہ نہیں سمجھتا۔ اخبارات کے لیے جو سالانہ بجٹ مختص کیا گیا ہے وہ صرف من پسند اخبارات کو ہی جاری کیا جاتا ہے۔‘‘

مرتضٰی ترین کے مطابق مقامی اخبارات کو معاشی طور پر غیر مستحکم کر کے قومی سطح پر بلوچستان کی آواز دبانے کی کوشش کی جارہی ہے۔

انہوں نے مزید کہا، ''بلوچستان سے شائع ہونے والے اخبارات کو دانستہ طور پر نظرانداز کیا جارہا ہے۔ صرف دیگر صوبوں سے شائع ہونے والے غیر مقامی اخبارات کو اشتہارات، مالی معاونت اور ادارہ جاتی سرپرستی باقاعدگی سے فراہم کی جاتی ہے۔ بلوچستان میں چونکہ اخباری صنعت کا سب سے زیادہ انحصار حکومتی اشتہارات پر ہے اسی لیے اس ضمن میں ادائیگیوں میں بھی ہمیشہ تاخیر کی جاتی ہے اور سرکاری ادارے واضح جانبداری دکھا رہے ہیں۔

ہمیں اس حد تک مجبور کیا گیا ہے کہ اگر یہ حالات بہتر نہیں بنائے گئے تو ہمارے پانچ ہزار سے زائد ورکرز بے روزگار ہوجائیں گے۔‘‘

مرتضیٰ کا کہنا تھا کہ آزادی صحافت کے دعویدار موجودہ حکومت نے حسب ضابطہ اخبارات سے متعلق اپنی پالیسی میں ہمیں تاحال کوئی نمائندگی بھی نہیں دی ہے اس لیے من پسند زاویوں سے اقدامات کیے جاتے ہیں۔

اے پی این ایس اخباری صنعت کی تباہی کی ذمہ دار کس کو سمجھتی ہے؟

پاکستان میں اخبارات کی سب سے بڑی تنظیم، آل پاکستان نیوز پیپرز سوسائٹی بلوچستان کمیٹی کے چیئرمین، وسیم احمد کہتے ہیں کہ بلوچستان میں اخباری صنعت کو تباہی سے بچانے کے لیے حکومتی سطح پر غیر سنجیدگی کا مظاہرہ کیا جا رہا ہے۔

ڈی ڈبلیو سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا، ''بلوچستان کے اخبارات مالی دباؤ کے باعث اپنی اشاعت بند کرنے اور عملے میں کمی پر مجبور ہوتے جا رہے ہیں۔ اس بحران سے صحافیوں سمیت، پرنٹنگ پریس ورکرز اور دیگر معاون عملے کے ہزاروں ورکرز کے بے روزگار ہونے کا بھی خدشہ پیدا ہوا ہے۔ یہ مسئلہ صرف معاشی نہیں بلکہ ایک سوچی سمجھی حکمت عملی کا حصہ معلوم ہوتا ہے۔

اخبارات کو دباؤ میں لا کر آزادی صحافت کا گلا گھونٹا جا رہا ہے۔‘‘

وسیم احمد کا کہنا تھا کہ مقامی اخبارات کا استحصال عوام کی معلومات تک رسائی کے قانون کی بھی سنگین خلاف ورزی ہے: ''بلوچستان پہلے ہی غیر یقینی صورتحال کا شکار ہے۔ مقامی اخبارات کے ساتھ امتیازی سلوک بند ہونا چاہیے۔ اگر اس صنعت کو مصنوعی معاشی بحران سے نہیں نکالا گیا تو صنعت تباہ اور ہزاروں افراد روزگار سے محروم ہوجائیں گے۔

‘‘

وسیم احمد کا کہنا تھا کہ بلوچستان میں مقامی اخبارات کے لیے مختص بجٹ میں اضافے کی تجویز دی گئی ہے اور صوبائی ایس ایس پبلسٹی کا بجٹ بھی سالانہ صرف آٹھ کروڑ روپے ہے جبکہ سندھ اور پنجاب میں اس ضمن میں سالانہ 10 ارب روپے سے زائد رقم خرچ کی جاتی ہے۔

بلوچستان میں مقامی اخباری صنعت کے بحرانوں پر حکومتی موقف کیا ہے؟

دوسری جانب، بلوچستان حکومت کے ترجمان شاہد رند کہتے ہیں کہ اخباری صنعت سے متعلق معاملات کا حکومت جائزہ لے رہی ہے اور سرکاری اشتہارات کی پالیسی کسی ابہام کا شکار نہیں ہے۔

ڈویچے ویلے سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا، ''بلوچستان میں اشتہارات کے حوالے سے حکومتی پالیسی میں اب تک کوئی تبدیلی نہیں کی گئی ہے۔ مختلف پروپوزلز پیش کیے گئے ہیں جن میں پی پیپرا رولز کی تجویز بھی شامل ہے لیکن اس پر عمل درآمد اب تک نہیں کیا گیا ہے۔ حکومت کے لیے چھوٹے اور بڑے اخبارات کی کوئی تفریق نہیں۔ صوبائی حکومت نے آزادی صحافت کے فروغ کے لیے ہمیشہ کردار ادا کیا ہے۔

‘‘

شاہد رند کا کہنا تھا کہ بلوچستان کے مقامی اخبارات کے دیرینہ مسائل کے حل کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں اور صورتحال کی بہتری پر ہر ممکن توجہ دی جائے گی۔

کوئٹہ میں مقیم سینئر صحافی سید گلزار شاہ کہتے ہیں کہ بلوچستان کے مقامی اخبارات صرف مالی بحرانوں تک محدود نہیں بلکہ اس کے پیچھے ایک منظم حکومتی پالیسی بھی عمل پیرا دکھائی دیتی ہے: ''بلوچستان کی مقامی صحافت اس پسماندہ خطے کی سب سے اہم آواز ہے۔

اس آواز کو دبانا دراصل صوبے کے عوام کو قومی مکالمے سے باہر رکھنے کے مترادف ہے۔ جب مقامی مسائل انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں، بدعنوانی اور ترقیاتی ناکامیاں رپورٹ نہیں کی جائیں گی تو فائدہ صرف ایسے عناصر کو پہنچے گا جو ہمیشہ اخبارات کو سیلف سنسرشپ پر مجبور کرتے رہے ہیں۔ غیر اعلانیہ سنسرشپ صوبے میں ادارتی خودمختاری پر بھی ایک حملہ ہے۔‘‘

گلزار شاہ کے مطابق صوبائی حکومت کو بلوچستان میں اخباری صنعت کو تباہی سے بچانے کے لیے ترجیحی بنیادوں پر اقدامات کرنا ہوں گے تاکہ مقامی لوگوں کی معلومات تک رسائی کا یہ حق متاثر نہ ہو۔

.

ذریعہ

ذریعہ: UrduPoint

کلیدی لفظ: تلاش کیجئے بلوچستان کے مقامی اخبارات کا کہنا تھا کہ بلوچستان میں کہ بلوچستان اخبارات کے اخبارات کو کہتے ہیں انہوں نے کا شکار رہے ہیں کے لیے

پڑھیں:

بلوچستان، جج کے قتل کے بعد کالعدم بی ایل اے اور داعش کا گٹھ جوڑ سامنے آگیا، اقوام متحدہ سے کارروائی کا مطالبہ

بلوچستان میں حالیہ دہشتگرد حملوں اور ایک جج کے قتل کے تناظر میں کالعدم بی ایل اے اور داعش کے پی کے درمیان مبینہ روابط کے حوالے سے نئے دعوے سامنے آئے ہیں۔

عوام کی جانب سے بی ایل اے کو اقوامِ متحدہ کی دہشتگرد تنظیموں کی فہرست میں شامل کرتے ہوئے کارروائی کا مطالبہ بھی کیا گیا ہے۔

عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ بلوچستان میں شہریوں اور عوامی انفراسٹرکچر کو نشانہ بنانے والے حملوں میں بی ایل اے ملوث رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:افغانستان میں دہشتگردوں کے خلاف پاکستان کی کامیاب کارروائیاں، ٹی ٹی پی اور بی ایل اے مشترکہ پناہ گاہ ڈھونڈنے پر مجبور

اس کے نتیجے میں بے گناہ شہری اپنی جانوں سے ہاتھ دھو رہے ہیں اور صوبے میں امن و امان کی صورتحال متاثر ہو رہی ہے۔

عوامی انفراسٹرکچر پر حملوں سے شہری متاثر

واضح رہے کہ عوامی انفراسٹرکچر، خصوصاً پلوں اور سڑکوں کو نشانہ بنانے سے آمدورفت، کاروباری سرگرمیوں، ہنگامی امدادی خدمات اور روزمرہ زندگی بری طرح متاثر ہوتی ہے۔

اس کا سب سے زیادہ نقصان بلوچستان کے عام شہریوں کو برداشت کرنا پڑتا ہے، جنہیں بنیادی سہولیات تک رسائی میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

جج کے قتل کو عدلیہ پر حملہ قرار دیا گیا

عوامی حلقوں میں بلوچستان میں مستونگ کے علاقے میں جج کے قتل کو عدلیہ اور نظامِ انصاف پر براہِ راست حملہ قرار دیا جا رہا ہے جو کہ کالعدم بی ایل اے نے کیا جبکہ اس کی ذمہ داری داعش کے پی نے قبول کی ہے۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر سینیئر صحافی اس صورتحال کو دونوں تنظیموں کے درمیان مبینہ گٹھ جوڑ کے طور پر پیش کر رہے ہیں۔

اقوامِ متحدہ سے کارروائی کا مطالبہ

واضح رہے کہ کالعدم داعش کے پی پہلے ہی اقوامِ متحدہ کی جانب سے دہشت گرد تنظیم قرار دی جا چکی ہے، جبکہ کالعدم بی ایل اے اب تک اقوامِ متحدہ کی دہشتگرد تنظیموں کی فہرست میں شامل نہیں ہے۔

مزید پڑھیں:ماہرنگ لانگو کے والد کی قبر پر کالعدم بی ایل اے کا پرچم لہرانے کی ویڈیو وائرل، اصل چہرہ بے نقاب

اسی بنیاد پر مطالبہ کیا گیا ہے کہ اقوامِ متحدہ کالعدم بی ایل اے کی سرگرمیوں کا جائزہ لے کر اسے فوری دہشتگرد تنظیموں کی فہرست میں شامل کیا جائے۔

ادھر خیبر پختونخوا سے سینیئر صحافی حسن خان نے ایکس پر لکھا ہے کہ ’بلوچستان کے ضلع مستونگ کے قریب سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین کے قتل کی ذمہ داری شدت پسند تنظیم آئی ایس کے پی (داعش خراسان) نے قبول کر لی ہے۔

ISKP has claimed responsibility for the targeted killing of Sessions Judge Abdul Hakeem Kakar and his gunman while they were on their way to Mastung early on Thursday. Another judge was injured in the attack, according to officials.
This ISKP claim raises questions about a…

— Hassan khan (@hasankhyber) July 23, 2026

حملے میں ایک اور جج بھی زخمی ہوئے، جبکہ واقعے کے بعد سیکیورٹی اور تحقیقاتی اداروں نے تحقیقات کا دائرہ وسیع کر دیا ہے۔

سرکاری حکام کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ جمعرات کی صبح مستونگ جا رہے تھے کہ نامعلوم مسلح افراد نے ان کی گاڑی کو نشانہ بنایا۔ فائرنگ کے نتیجے میں جج اور ان کا گن مین جاں بحق ہو گئے، جبکہ ایک اور جج زخمی ہوئے۔

آئی ایس کے پی کے دعوے کے بعد نئے سوالات

حملے کے چند گھنٹوں بعد آئی ایس کے پی نے اس کارروائی کی ذمہ داری قبول کر لی، جس کے بعد بعض حلقوں کی جانب سے بی ایل اے اور آئی ایس کے پی کے درمیان مبینہ روابط پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:لاپتا افراد کی آڑ میں کئی نوجوان دہشتگردی میں ملوث، بی ایل اے کا مکرو چہرہ بے نقاب

کچھ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ حملے کا طریقۂ کار ماضی میں بلوچستان میں ہونے والے بعض حملوں سے مماثلت رکھتا ہے، تاہم اس مرحلے پر یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ اس حملے میں کسی دوسری تنظیم کا کردار تھا یا دونوں گروہوں کے درمیان عملی تعاون موجود ہے۔

عدلیہ کو نشانہ بنانے کے محرکات کی تحقیقات جاری

بعض مبصرین کے مطابق یہ حملہ عدلیہ کو خوفزدہ کرنے یا دباؤ میں لانے کی کوشش ہو سکتا ہے، خصوصاً ایسے وقت میں جب حالیہ دنوں میں بلوچ یکجہتی کونسل کی مرکزی رکن ماہ رنگ لانگو کے خلاف عدالتی فیصلہ سامنے آیا ہے۔

تحقیقاتی ادارے مختلف پہلوؤں سے واقعے کا جائزہ لے رہے ہیں تاکہ حملہ آوروں کی شناخت اور ممکنہ سہولت کاروں کا تعین کیا جا سکے۔

ایک روز قبل مسافر بس پر حملہ

یہ واقعہ ایسے وقت پیش آیا ہے جب ایک روز قبل بلوچستان میں مسافر بس پر حملے میں 5 افراد جاں بحق ہوئے تھے۔ سرکاری حکام نے اس حملے کا الزام بی ایل اے پر عائد کیا تھا۔

حکام کے مطابق مسلح افراد نے بس کو رکنے کا اشارہ کیا اور ڈرائیور کے گاڑی بھگانے پر اندھا دھند فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں 5 مسافر جان کی بازی ہار گئے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اقوام متحدہ بی ایل اے پابندی خراسان داعش فہرست کالعدم بلوچستان لبریشن آرمی ماہ رنگ لانگو مطالبہ

متعلقہ مضامین

  • وزیر تجارت سے کارپٹ مینوفیکچررز اینڈ ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن کے وفد کی ملاقات، تجارتی رکاوٹوں اور عالمی سپلائی چین میں خلل سے صنعت کو درپیش مشکلات بارے آگاہ کیا
  • راس ایکسپو 2026 کا کامیاب انعقاد، پاکستان روبوٹکس اور مصنوعی ذہانت کے شعبے میں تیزی سے آگے بڑھے گا، شزا فاطمہ
  • مقبوضہ کشمیر میں حالاے نشل کشی کے دہانے پر پہنچ گئے ہیں، رُکن برطانوی پارلیمنٹ
  • نتیجہ خیز آپریشن شعبان!
  • گلگت بلتستان میں موسلادھار بارشوں سے سیلابی تباہی، شاہراہیں اور پل بہہ گئے، ہزاروں افراد محصور : انتباہ جاری
  • پنجاب حکومت کے اقدامات دھرے کے دھرے رہ گئے‘بارشوں نے تباہی مچادی
  • بلوچستان، جج کے قتل کے بعد کالعدم بی ایل اے اور داعش کا گٹھ جوڑ سامنے آگیا، اقوام متحدہ سے کارروائی کا مطالبہ
  • آئی ایم ایف کی شرط پر ایکسپورٹ پروسیسنگ زونز کی مصنوعات مقامی مارکیٹ کو فروخت نہ کرنے کا فیصلہ
  • آئی ٹی برآمدات میں اضافہ حکومتی اقدامات اور پالیسیوں کا ثمر ہے، وزیراعظم شریف
  • شہباز شریف سمیت حکومتی شخصیات کو 21 تحائف ملے، توشہ خانہ کا ریکارڈ جاری