پاکستان کے سابق فاسٹ بولر شعیب اختر اور سینیئر اسپورٹس صحافی ڈاکٹر نعمان نیاز کے درمیان پرانی کشیدگی ایک بار پھر شدت اختیار کر گئی۔

یہ بھی پڑھیں: ’پنگا نہیں لینے کا اپن سے‘، راشد لطیف نے یہ دھمکی کس کو دی؟

ڈاکٹر نعمان نیاز نے 25 مئی 2025 کو تماشا پر چلنے والے کرکٹ شو دی ڈگ آؤٹ کی قسط 31 کے دوران شعیب اختر کی جانب سے دیے گئے ایک متنازع ریمارکس کے بعد انہیں قانونی نوٹس بھجوادیا۔

شو میں بات کرتے ہوئے شعیب اختر نے کہا تھا کہ ڈاکٹر نعمان نیاز ہمارے بیگ اٹھاتا تھا، ہم نے اس کو بیگ اٹھانے کے لیے رکھا ہوا تھا۔ ان کی اس بات سے یہ ظاہر ہوتا تھا کہ ڈاکٹر نعمان نیاز کرکٹ ٹیم کے لیے بیگ اٹھانے والے کے طور پر کام کیا کرتے تھے۔

ڈاکٹر نعمان نیاز کی قانونی ٹیم نے اس تبصرے کو غلط، توہین آمیز اور ان کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کا حامل قرار دیا ہے۔

مزید پڑھیے: بابراعظم کراچی کنگز سے علیحدہ کیوں ہوئے؟ ڈاکٹر نعمان نیاز نے وجہ بتادی

وکیل قاضی عمیر علی کی جانب سے 29 مئی کو بھیجے گئے قانونی نوٹس میں کہا گیا ہے کہ شعیب اختر کے بیانات سے ڈاکٹر نیاز کی امیج کو بار بار ٹھیس پہنچی اور جذباتی اور پیشہ ورانہ نقصان بھی پہنچا۔

نوٹس میں اسپورٹس جرنلزم میں ڈاکٹر نیاز کی طویل خدمات، پاکستان کرکٹ بورڈ میں ان کے اعلیٰ سطحی کردار اور ان کے تمغہ امتیاز ایوارڈ کی بھی نشاندہی کی گئی ہے۔

نوٹس میں خبردار کیا گیا کہ اگر شعیب نے عوامی معافی نہیں مانگی یا اپنا بیان واپس نہیں لیا تو پاکستان کے ہتک عزت آرڈیننس 2002 کے تحت مزید قانونی کارروائی کی جا سکتی ہے۔

مزید پڑھیں: سابق کرکٹرز پر تنقید: شعیب اختر نے محمد حفیظ کو ایک بار پھر آڑے ہاتھوں لے لیا

یہ پہلی بار نہیں ہے کہ دونوں میں جھگڑا ہوا ہو۔ سنہ 2021 میں دونوں کی آن ائیر بحث اس وقت سرخیوں میں آگئی جب شعیب اختر پی ٹی وی اسپورٹس کے ایک لائیو شو سے باہر چلے گئے۔ اگرچہ بعد میں معاملہ حل ہو گیا تھا لیکن دونوں میں کشیدگی اب بھی برقرار ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اسپورٹس جرنلسٹ نعمان نیاز ڈاکٹر نعمان نیاز شعیب اختر شعیب نعمان جھگڑا.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: اسپورٹس جرنلسٹ نعمان نیاز ڈاکٹر نعمان نیاز شعیب نعمان جھگڑا ڈاکٹر نعمان نیاز

پڑھیں:

سٹی کورٹ: ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں تفتیش مکمل کر کے رپورٹ پیش کرنے کا حکم

کراچی کی سٹی کورٹ میں ڈاکٹر آکاش قتل کیس کی سماعت کے دوران عدالت نے پولیس کو مقدمے کی تفتیش مکمل کر کے رپورٹ پیش کرنے کا حکم جاری کر دیا۔

پولیس کے مطابق ایس آئی یو ویسٹ نے ڈاکٹر آکاش کے قتل میں ملوث ملزمان کے خلاف مزید کارروائی کرتے ہوئے تین افراد، سریش عرف ساگر، انیل اور رام چند کے قتل کا مقدمہ اسلم پہنور اور اس کے ساتھیوں کے خلاف درج کر لیا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ اسلم پہنور ایک ڈکیت گروہ کا سرغنہ ہے۔

پولیس کے مطابق ملزمان نے پولیس پارٹی پر فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں زیر حراست تین ملزمان اور ایک ہیڈ کانسٹیبل زخمی ہو گئے۔ بعد ازاں زیر حراست تینوں ملزمان اپنے ہی ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک ہو گئے، جبکہ زخمی ہیڈ کانسٹیبل کو اسپتال منتقل کر دیا گیا جہاں اس کا علاج جاری ہے۔

واضح رہے کہ ڈاکٹر آکاش کو بینک سے رقم لے کر جاتے ہوئے قتل کیا گیا تھا۔ پولیس نے اس کیس میں تین ملزمان کو گرفتار کیا تھا، جو دوران حراست ہلاک ہو گئے۔

متعلقہ مضامین

  • فیفا ورلڈکپ: ٹرمپ کی مداخلت پر فیصلہ تبدیل، ناروے کا فیفا کیخلاف بڑا اقدام اٹھانے کا فیصلہ
  • سٹی کورٹ: ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں تفتیش مکمل کر کے رپورٹ پیش کرنے کا حکم
  • ورلڈ کپ فاتح ہسپانوی فٹبالرز کو وزن کے برابر ٹماٹر انعام میں مل گئے
  • اقوام متحدہ میں پاکستان کا امن اور مذاکرات پر زور، بھارت پر عالمی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام
  • کراچی: ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار 3 ڈاکو ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک 
  • کوئٹہ، سرکاری دفاتر میں ایجنٹس کیخلاف ایف آئی اے کی کارروائی، 14 افراد گرفتار
  • نیشنل اسپیشل گیمز: کراچی میں  فٹبال ٹورنامنٹ کے بعد اختتامی تقریب کا انعقاد
  • یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام
  • اہم ٹیلیفونک رابطہ، پاکستان سعودی عرب کے ساتھ کھڑا، سہیل آفریدی پر الزام، مریم نواز اور بلاول کے ایک دوسرے پر تابڑ توڑ حملے
  • کوئٹہ: سرکاری دستاویزات میں شہریوں کو غیرقانونی سہولت دینے والے 14 ایجنٹ گرفتار