بلوچستان کے ضلع سوراب میں فتنہ الہندوستان کا حملہ: ایڈیشنل ڈی سی لڑتے شہید: کئی سرکاری گھر، تھانہ نذر آتش، بنک لوٹ لیا
اشاعت کی تاریخ: 31st, May 2025 GMT
کوئٹہ‘ اسلام آباد (خبر نگار خصوصی+ نوائے وقت رپورٹ) بلوچستان کے ضلع سوراب میں فتنہ الہندوستان کے دہشت گردوں کے افسروں کی رہائش گاہوں پر حملے میں ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ہدایت بلیدی شہید ہوگئے۔ دہشت گردوں نے افسروں کی رہائش گاہیں نذر آتش کردیں اور بنک لوٹ لیا۔ ترجمان حکومت بلوچستان شاہد رند کے مطابق فتنہ الہندوستان کے دہشت گردوں نے ضلع سوراب میں سرکاری افسروں کی رہائش گاہوں پر حملہ کرکے انہیں نذر آتش کردیا۔ ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ریونیو سوراب ہدایت اﷲ بلیدی کے گھر کو بھی نذر آتش کر دیا گیا۔ ان کے گھر میں خواتین اور بچے موجود تھے۔ اے ڈی سی ہدایت بلیدی دہشت گردوں سے لڑتے اور دفاع کرتے ہوئے شہید ہوگئے۔ ایف سی کو دیکھ کر دہشتگرد فرار ہو گئے۔ ترجمان نے کہا کہ بھارتی پراکسیز نے انڈیا کے ایما پر کارروائی کی اور سوراب میں ریاستی رٹ چیلنج کرنے کی مذموم کوشش کی گئی۔ سوراب میں پولیس اور ایف سی اور لیویز پہنچ گئیں اور سرچ اور کلیئرنس آپریشن جاری ہے۔ ریاست دشمن عناصر کی ہر کوشش ناکام بنائیں گے۔ ضلعی انتظامیہ کے مطابق مسلح افراد نے حملہ کر کے پولیس سٹیشن کو آگ لگا دی۔ سوراب میں بنک اور انتظامی آفیسر کی رہائش گاہ پر حملہ ریاستی رٹ چیلنج کرنے کی مذموم کوشش ہے۔ سوراب بازار میں بنک لوٹا گیا‘ سرکاری افسروں کے گھر جلائے گئے۔ حملے میں اے ڈی سی ریونیو ہدایت بلیدی نے لڑتے ہوئے جام شہادت نوش کیا۔ وطن کے سپاہی نے جان کا نذرانہ دے کر بہادری کی نئی مثال قائم کی۔ ذرائع کے مطابق فتنہ الہندوستان نے ایک دفعہ پھر عام بلوچوں پر حملہ کیا ہے۔ فتنہ الہندوستان کے بیس سے تیس دہشت گرد موٹر سائیکلوں پر سوار ہو کر سوراب شہر کے بازار میں داخل ہوئے۔ سافٹ ٹارگٹ جیسا کہ بینک اور مارکیٹوں کو نشانہ بنایا۔ بازار میں عام بلوچ خواتین اور بچوں پر بھی تشدد کیا۔ بلوچ بچوں اور عورتوں کو بچانے کے دوران اپنی جان کی پروا نہ کرتے ہوئے بلیدہ سے تعلق رکھنے والے اور سوراب کے اے ڈی سی آر ہدایت اللہ بلیدی نے جام شہادت نوش کیا۔ فتنہ الہندوستان نے بلوچ علاقوں کو اور بلوچ خواتین و بچوں کو ٹارگٹ کر کے ایک دفعہ پھر ثابت کیا کہ ان انڈین سپانسرڈ دہشت گردوں کا بلوچستان اور بلوچ روایات سے کوئی تعلق نہیں۔ وزیراعظم محمد شہباز شریف نے سوراب، بلوچستان میں دہشتگردی پھیلانے والے عناصر کی جانب سے بنک، معصوم شہریوں اور انتظامیہ کے افسروں پر بزدلانہ حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے اور واقعہ کے ذمہ داروں کی نشاندہی کرکے انہیں قرار واقعی سزا دلوانے کی ہدایت کی ہے۔ جمعہ کو وزیراعظم آفس کے میڈیا ونگ سے جاری بیان کے مطابق وزیرِ اعظم نیدہشت گردوں سے اپنے علاقے کا دفاع کرتے ہوئے جام شہادت نوش کرنے والے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ہدایت اللہ بلیدی کو خراج عقیدت پیش کیا۔ وزیراعظم نے شہید کے اہل خانہ سے اظہار ہمدردی اور صبر کی دعا کی۔ انہوں نے کہا کہ بزدل دہشتگردوں نے معصوم و نہتے شہریوں بشمول بچوں اور خواتین کو نشانہ بنایا۔ شرانگیزی میں ملوث بزدل دہشت گردوں کا معصوم شہریوں اور ان کی املاک پر حملہ ان کی عوام دشمن اور بلوچستان کی ترقی کے خلاف سوچ کی کھلی و واضح عکاسی ہے۔ وزیرِ اعظم نے کہا کہ دہشتگردوں کے ارض وطن سے صفایا تک ان کے خلاف جنگ جاری رکھیں گے۔ شہید ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ہدایت اللہ بلیدی نے دہشتگردوں سے لڑتے ہوئے بہادری کی اعلیٰ مثال قائم کی۔ انہوں نے کہا کہ پوری قوم کی ہمدردیاں ہدایت اللہ بلیدی شہید کے اہل خانہ کے ساتھ ہیں۔ افواج پاکستان بھارتی سرپرستی میں پاکستان میں دہشت گردی پھیلانے والی پراکسیوں کے سد باب کیلئے دن رات مصروف عمل ہیں۔ بھارتی سر پرستی میں ارض پاک میں دہشت گردی پھیلانے والے عناصر کے ملک سے مکمل صفایہ کیلئے پوری قوم افواج پاکستان کے شانہ بشانہ کھڑی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ہدایت اللہ بلیدی فتنہ الہندوستان نے کہا کہ کی رہائش کے مطابق پر حملہ
پڑھیں:
بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
اپنے بیان میں ایم ڈبلیو ایم رہنماء علامہ مقصود ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جسکا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان صوبہ سندھ کے صوبائی صدر علامہ مقصود علی ڈومکی نے ببرلو بائی پاس پر پریا کماری سمیت لاپتا و مغوی بچوں کی بازیابی کے لئے جاری پرامن دھرنے پر پولیس کے کریک ڈاؤن، خواتین پر تشدد، ان کی بے حرمتی، بزرگ رہنماء لیاقت جلبانی، سوہنی پارس، صحافی ساحل جوگی اور متعدد مظاہرین کی گرفتاری کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپنے بچوں کی بازیابی کے لئے سراپا احتجاج مظلوم والدین، خصوصاً ماؤں پر طاقت کا استعمال انتہائی افسوسناک، غیر انسانی اور قابل مذمت ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ احتجاج کرنے والے مظلوم خاندانوں پر تشدد کرنے کے بجائے پریا کماری سمیت تمام مغوی بچوں اور بچیوں کی فوری اور محفوظ بازیابی کو یقینی بنائے، گرفتار افراد کو فوری رہا کرے اور صحافیوں کے آئینی و قانونی حقوق کا احترام کرے۔ انہوں نے کہا کہ پرامن احتجاج ہر شہری کا آئینی حق ہے اور اس حق کو طاقت کے ذریعے سلب نہیں کیا جا سکتا۔
علامہ مقصود ڈومکی نے بلوچستان کے ضلع مستونگ میں دہشت گردی کے افسوسناک واقعے کی بھی شدید مذمت کرتے ہوئے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے پولیس محافظ کی شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا اور زخمی جج طارق علی لاشاری کی جلد و مکمل صحت یابی کے لئے دعا کی۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے بلوچستان میں پیش آنے والے پے درپے دہشت گردی کے واقعات افسوسناک ہیں، اس ہفتے ژوب سے سفر کرنے والے خاندان پر حملہ، کوئٹہ سے کراچی جانے والی مسافر کوچ کا المناک سانحہ اور مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت شامل ہیں، صوبے میں امن و امان کی انتہائی تشویشناک صورتحال کی عکاسی کرتے ہیں۔
علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جس کا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ گزشتہ کئی دہائیوں کے آپریشنز سے نہ امن قائم ہوا، نہ دہشت گردی ختم ہوئی اور نہ ہی مسائل کا مستقل حل نکلا، لہٰذا اب وقت آ گیا ہے کہ حکومت طاقت کی پالیسی ترک کرکے سیاسی مکالمے، مفاہمت اور سنجیدہ مذاکرات کا راستہ اختیار کرے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پاکستان کے عوام کے حقیقی منتخب نمائندوں کو ان کا آئینی و جمہوری حق دیا جائے، عوامی مینڈیٹ کا احترام کیا جائے اور تمام سیاسی و سماجی اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ نتیجہ خیز مذاکرات کئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ انصاف، سیاسی شمولیت اور عوام کے اعتماد کی بحالی ہی بلوچستان میں پائیدار امن کی ضمانت ہے، جبکہ دہشت گردی کے واقعات کی روک تھام کے لئے شہریوں کے جان و مال کا تحفظ ریاست کی اولین ذمہ داری ہے۔