پاکستانی نمائندے آئندہ ہفتے امریکا آرہے ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
اشاعت کی تاریخ: 31st, May 2025 GMT
جوائنٹ بیس اینڈریوز پر میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ وہ بھارت اور پاکستان دونوں کے ساتھ کام کر رہے ہیں۔ امریکا اس وقت بھارت سے ڈیل کرنے کے بہت قریب ہے جبکہ پاکستانی نمائندے آئندہ ہفتے امریکا آرہے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ پاکستانی نمائندے آئندہ ہفتے امریکا آرہے ہیں۔ جنوبی ایشیائی ملک ٹیرف سے متعلق معاہدہ کرنا چاہتے ہیں۔ صدر ٹرمپ نے یہ بات جوائنٹ بیس اینڈریوز پر میڈیا کے نمائندوں سے کہی۔ صدر ٹرمپ نے کہا کہ وہ بھارت اور پاکستان دونوں کے ساتھ کام کر رہے ہیں۔ امریکا اس وقت بھارت سے ڈیل کرنے کے بہت قریب ہے جبکہ پاکستانی نمائندے آئندہ ہفتے امریکا آرہے ہیں۔ خبر ایجنسی کے مطابق پاکستان کو برآمدات پر امریکا کی جانب سے 29 فیصد ٹیرف کا سامنا ہے، کیونکہ پاکستان کا تجارتی سرپلس 3 ارب ڈالر ہے، جبکہ بھارت کو امریکا شپمنٹ پر 26 فیصد ٹیرف کا سامنا ہے۔
اس سے پہلے اوول آفس میں ایلون مسک کی موجودگی میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ ہم نے پاکستان اور بھارت کو جنگ سے روکا، یہ نویں بار تھا کہ صدر ٹرمپ نے کہا کہ بھارت اور پاکستان کے درمیان کشیدگی جوہری تباہی کا باعث بن سکتی تھی۔ صدر ٹرمپ نے کہا کہ جنگ بندی پر وہ پاکستان اور بھارت کے رہنماوں کے شکر گزار ہیں۔ تاہم انہوں نے یہ واضح کیا ہے کہ ان لوگوں کے ساتھ تجارت نہیں کرسکتے، جو ایک دوسرے پر گولیاں برسا رہے ہوں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر بھارت اور پاکستان لڑ رہے ہوں تو انہیں ان دونوں ممالک سے ٹریڈ معاہدہ کرنے میں کوئی دلچسپی نہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: صدر ٹرمپ نے کہا کہ بھارت اور پاکستان
پڑھیں:
پاکستانی پرچم بردار جہازوں کیخلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کا خطرہ تصور کیا جائیگا: دفتر خارجہ
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ حوثیوں کی جانب سے بحری جہازوں پر حملوں کی مذمت کرتے ہیں، پاکستانی پرچم بردار جہازوں پر کارروائی قومی سلامتی کا خطرہ تصور ہوگی، پاکستان اپنے بحری مفادات کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے۔
تفصیلات کے مطابق دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر حسین اندرابی نے ہفتہ وار نیوز بریفنگ میں کہا کہ حوثیوں نے سعودی کمرشل جہازوں کو دھمکیاں دی، حوثیوں کی جانب سے بحری جہازوں پر حملوں کے اطلاعات بھی ہیں، پاکستان حوثیوں کے ان اقدامات کی مذمت کرتا ہے۔سعودی عرب کے ساتھ تجارت کو نشانہ بنانے یا اس کے خلاف دھمکیاں دینا ناقابلِ قبول ہے، سعودی عرب کے ساتھ جائز تجارتی سرگرمیوں میں مصروف بحری جہازوں کو دھمکیاں دینے پر پاکستان کو تشویش ہے۔ پاکستان کو سعودی عرب کے خلاف حوثی ملیشیا کی مسلسل دھمکیوں پر شدید تشویش ہے، بحیرۂ احمر میں تجارتی جہازوں کو نشانہ بنانے کے اعلانات کی شدید مذمت کرتے ہیں، مشرق وسطیٰ کے تنازع میں سعودی عرب کو گھسیٹنے کی کوششوں پر تشویش ہے۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
’’دنیا نیوز ‘‘ کے مطابق دفتر خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ پاکستانی پرچم بردار جہازوں کے خلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کا خطرہ تصور کیا جائے گا، پاکستان کے سمندری مفادات کے خلاف جارحانہ کاروائی کو خودمختار مفادات کے لیے سنگین خطرہ تصور کیا جائے گا۔اقوامِ متحدہ کے قانون کے مطابق پاکستان اپنے سمندری اثاثوں کی دفاع کے لیے طاقت کے استعمال کا حق محفوظ رکھتا ہے، پاکستان اپنے بحری مفادات کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے۔پاکستان نے تمام فریقوں پر ضبط و تحمل کا مظاہرہ کرنے پر زور دیا ہے، پاکستان کو مشرق وسطیٰ میں کشیدگی پر تشویش ہے، پاکستان مذاکرات اور سفارتکاری کی کوشش کی حمایت رکھے گا، ایران، امریکہ مذاکرات کے لیے پرامید ہیں۔
اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم
انہوں نے بتایا کہ ایرانی وزیر داخلہ نے وزیراعظم، نائب وزیراعظم، فیلڈ مارشل سے ملاقاتیں کی ہیں، پاکستان کی سفارتی کوشش جاری ہے، بات چیت ہی کشیدگی کا واحد حل ہے، تجارتی جہازوں کو دھمکیاں علاقائی امن، عالمی تجارت کیلئے سنگین خطرہ ہیں۔ نائب وزیر اعظم نے آسیان ریجنل فورم کے موقع پر مختلف ممالک کے وزرا ئے خارجہ سے اہم ملاقاتیں کی ہیں، ملاقاتوں میں مشرق و سطیٰ میں قیام امن، کشیدگی کے خاتمے کی اہمیت پر زور دیا گیا۔
ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ افغانستان میں دہشت گردوں کے محفوظ ٹھکانے بدستور موجود ہیں، افغان طالبان کی طرف سے دہشتگردوں کی پشت پناہی سے علاقائی امن کو خطرہ لاحق ہے۔ہزاروں پاکستانی دہشت گردی کے واقعا ت میں شہید ہو چکے ہیں، عالمی برادری دہشتگردوں کی پشت پناہی پر افغان طالبان کو جواب دہ ٹھہرائے۔
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کر گئی
یورپی یونین کی رپورٹ پر دفتر خارجہ نے ردعمل دیا کہ پاکستان کے لیے جاری کردہ جی ایس پی رپورٹ فائنل ہے، پاکستان 27 کنونشن پر عمل درآمد کررہا ہے، جی ایس پی پلس درجہ پاکستان کی معیشت کے لیے فائدہ مند رہا ہے، ہم یورپی یونین کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں، پاکستان انٹرنیشنل کنونشن پر عملدرآمد کرتا رہے گا۔