اولمپیئن ارشد ندیم نے ایشین ایتھلیٹکس چیمپیئن شپ کا ٹائٹل اپنے نام کر لیا
اشاعت کی تاریخ: 31st, May 2025 GMT
ایشین اتھلیٹکس چیمپیئن شب کے فائنل میچ کا انعقاد جاپان میں ہوا جس میں جیولین تھرو میں پاکستان کی طرف سے ارشد ندیم اور یاسر سلطان نے حصہ لیا۔
پہلا راؤنڈپہلا راؤنڈ مکمل ہونے تک ارشد ندیم کا 12 کھلاڑیوں میں چھٹا جبکہ یاسر سلطان کا نواں نمبر تھا۔ اس راؤنڈ میں ارشد ندیم ندیم نے 75.39 جبکہ
یاسر سلطان نے 70.
دوسرے راؤنڈ کے آغاز میں یاسر سلطان نے کارکردگی مین بہتری لاتے ہوئے 75.39 میٹر جبکہ ارشد ندیم نے 76.80 میٹر کی تھرو کی۔ ایران کے علی فتح کے ساتھ ساتھ انڈیا کے یش ویر سنگھ کی تھرو اس راؤنڈ میں بھی ضائع ہوگئی۔
تیسرا راؤنڈارشد ندیم نے تیسرے راؤنڈ میں 85.57 میٹرز کی تھرو کرکے تینوں راؤنڈز میں پہلے نمبر پر آگئے۔
چوتھا راؤنڈچوتھے راؤنڈ میں 83.99 میٹرز کی تھرو پھینکی۔
واضح رہے کہ اس سے قبل کوالیفائنگ راؤنڈ میں ارشد ندیم نے 86.34 نے جبکہ یاسر سلطان نے 76.07 میٹرز کی تھرو کرکے فائنل راؤنڈ کے لیے کوالیفائی کیا تھا۔
اس ایونٹ کے موقع پر میاں چنوں میں اہل علاقہ بڑی تعداد میں ارشد ندیم کے گھر جمع ہوئے اور دعاؤں کے ساتھ ٹی وی پر براہ راست ارشد ندیم کی طرف سے بہترین کارکردگی کا مظاہرہ دیکھا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
ارشد ندیم اولمپیئن ارشد ندیم ایشیئن چیمپیئن شپ ایشین ایتھلیٹکس چیمپیئن شپ کوریا
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اولمپیئن ارشد ندیم ایشیئن چیمپیئن شپ کوریا یاسر سلطان نے چیمپیئن شپ کی تھرو
پڑھیں:
لاہور میں گینگ ریپ کی شکار 18 سالہ گھریلو ملازمہ اسقاطِ حمل کے دوران جاں بحق
لاہور ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) لاہور کے علاقے ماڈل ٹاؤن میں مبینہ زیادتی کا شکار ہونے والی 18 سالہ گھریلو ملازمہ اسقاطِ حمل کے دوران جان کی بازی ہار گئی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق لاہور کے علاقہ ماڈل ٹاؤن کے ایک گھر میں ملازمہ کے طور پر کام کرنے والی 18 سالہ لڑکی مبینہ طور پر گینگ ریپ اور بعد ازاں غیر قانونی طبی طریقہ کار کے باعث زندگی کی بازی ہار گئی ہے، متوفیہ نے ہسپتال میں دم توڑنے سے قبل اپنے بیانات ریکارڈ کرادیئے۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ لڑکی کا حمل ضائع کرنے کے لیے اسے پہلے رائے ونڈ کے ایک نجی کلینک لے جایا گیا، جہاں حالت بگڑنے پر اسے سروسز ہسپتال منتقل کیا گیا، وہ دو روز تک سروسز ہسپتال میں زیرِ علاج رہنے کے بعد دم توڑ گئی، متاثرہ لڑکی نے اپنے تحریری اور ویڈیو بیانات میں مکان مالک کے بیٹے اور ڈرائیور پر اجتماعی زیادتی کا سنگین الزام عائد کیا تھا، بعد میں مبینہ دباؤ کے تحت لڑکی نے اپنے بیان میں تبدیلی کی اور اپنے آخری بیان میں صرف ڈرائیور کو ہی نامزد کیا۔(جاری ہے)
پولیس نے بتایا کہ لڑکی کے ابتدائی بیانات کی روشنی میں گینگ ریپ کا مقدمہ درج کیا گیا تھا، تاہم اس کی موت کے بعد مقدمے میں باقاعدہ طور پر قتل کی دفعات بھی شامل کر دی گئی ہیں، ایک نامزد ملزم ڈرائیور کو گرفتار کرکے جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا گیا ہے، قتل کی دفعات شامل ہونے کے بعد کیس کی تفتیش جینڈر سیل سے تبدیل کرکے انویسٹی گیشن ونگ کے سپرد کر دی گئی ہے، پولیس نے گھر کے مالکان سمیت ان تمام افراد کو دوبارہ شاملِ تفتیش کرنے کے لیے نوٹسز جاری کر دیئے ہیں جنہیں پہلے کلیئر کر دیا گیا تھا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ضابطہ فوجداری کی دفعہ 164 کے تحت ریکارڈ کیے گئے بیانات کا دوبارہ باریک بینی سے جائزہ لیا جائے گا، متوفیہ کا پوسٹ مارٹم مکمل کر لیا گیا ہے اور موت کی اصل وجہ رپورٹ آنے کے بعد واضح ہوگی، اگر رائے ونڈ کے نجی کلینک کی جانب سے غفلت یا غیر قانونی طریقہ کار کے شواہد ملے تو اس کے خلاف بھی سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔