وفاقی حکومت کا گاڑیوں اور موٹر سائیکلز کی رجسٹریشن فیس بڑھانے کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 31st, May 2025 GMT
لاہور(اوصاف نیوز)نئے مالی سال میں گاڑیوں اور موٹر سائیکلز کی رجسٹریشن فیس بھی بڑھانے کا فیصلہ کر لیا گیا ہے۔ایکسائز، ٹیکسیشن اینڈ نارکوٹکس کنٹرول ڈیپارٹمنٹ نے رجسٹریشن فیس میں اضافے کی تجاویز مرتب کر لیں
ایک ہزار سی سی تک کار کی رجسٹریشن کی فیس 1200 سے بڑھا کر 5000 کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ایک ہزار سی سی سے 1800 سی سی تک گاڑیوں کی رجسٹریشن فیس 2000 سے 11000، 1800 سی سی سے زائد کی گاڑیوں کی رجسٹریشن فیس 3000 سے بڑھا کر 22000 کرنے کی تجویز ہے۔ایچ ٹی وی کی رجسٹریشن فیس بھی 4000 روپے سے بڑھا کر 11000 کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
پاکستان میں 4,432 ملی میٹرلمبی، 1,836 ملی میٹر چوڑی ، 5نشستوں والی جدیدترین گاڑی لانچ کرنے کی تیاریاں
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
کلیدی لفظ: کی رجسٹریشن فیس کرنے کی
پڑھیں:
مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے بڑھتے ہوئے واقعات کے خلاف سخت اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے جرائم میں ملوث افراد کو جلد انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیےفاسٹ ٹریک عدالتیںقائم کی جائیں گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ طلبہ کے مستقبل سے کھیلنے والوں کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر جاری اپنے بیان میں وزیراعظم مودی نے کہا کہ نوجوانوں کا مستقبل حکومت کی اولین ترجیح ہے اور امتحانی نظام میں بدعنوانی یا پرچے لیک کرنے جیسے جرائم میں ملوث عناصر کو سخت اور فوری سزا دی جائے گی۔
یہ امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے معاملے پر وزیراعظم مودی کا پہلا عوامی بیان ہے۔ تاہم ان کے ردعمل کے بعد بھی ملک بھر میں جاری طلبہ احتجاج میں کمی نہیں آئی۔ متعدد طلبہ اور سماجی حلقوں نے سوال اٹھایا کہ حکومت نے اس حساس معاملے پر ردعمل دینے میں اتنی تاخیر کیوں کی۔
دوسری جانب لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے وزیراعظم کے بیان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے حکومت پر تعلیمی نظام کو کمزور کرنے کا الزام عائد کیا۔
راہل گاندھی نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں لکھا کہ نوجوانوں کے مستقبل کو سب سے زیادہ نقصان موجودہ حکومت نے پہنچایا ہے۔ ان کے مطابق حکومت نے نہ صرف تعلیمی نظام کو تباہ ہونے دیا بلکہ ذمہ دار افراد کو بھی تحفظ فراہم کیا۔
انہوں نے کہا کہ احتجاج کرنے والے طلبہ کے تین بنیادی مطالبات ہیں، جن میں وزیر تعلیم دھرمندر پردھان کو عہدے سے ہٹانا، طلبہ سے باضابطہ معافی مانگنا اور احتجاج کے دوران طلبہ پر مبینہ تشدد میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی شامل ہے۔
واضح رہے کہ ملک میں تعلیمی اصلاحات اور امتحانی نظام میں شفافیت کے مطالبات کے حوالے سے احتجاجی تحریک جاری ہے۔ حالیہ دنوں میں طلبہ اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کے بعد یہ معاملہ مزید شدت اختیار کر گیا ہے، جبکہ امتحانی پرچے لیک ہونے کے واقعات نے بھارت کے تعلیمی نظام پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔