اجلاس میں گفتگو کرتے ہوئے وزیر داخلہ محسن نقوی کا کہنا تھاکہ نادرا ایگزٹ پوائنٹس پر لائیو ڈیٹا ویری فکیشن کی سہولت فراہم کرے گا اور تمام اداروں کو مل کر ون ڈاکیومنٹ سسٹم کو مکمل نافذ کرنا ہوگا۔ اسلام ٹائمز۔ ملک میں غیر قانونی طور پر مقیم غیر ملکیوں کے خلاف آپریشن تیز کرنے کا فیصلہ کر لیا گیا۔ وزیر داخلہ محسن نقوی کی زیرصدارت کاؤنٹر ٹیرر ازم کمیٹی اور ہارڈن دی اسٹیٹ کمیٹی کا تیسرا اجلاس ہوا۔ اجلاس میں غیر قانونی طور پر مقیم غیر ملکیوں کے خلاف آپریشن تیز کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ اجلاس میں گفتگو کرتے ہوئے وزیر داخلہ محسن نقوی کا کہنا تھا کہ نادرا ایگزٹ پوائنٹس پر لائیو ڈیٹا ویری فکیشن کی سہولت فراہم کرے گا اور تمام اداروں کو مل کر ون ڈاکیومنٹ سسٹم کو مکمل نافذ کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ملک سے غیر قانونی اسپیکٹرم کے خاتمے کیلئے وفاقی و صوبائی اداروں کو مل کر کام کرنا ہوگا۔ محسن نقوی نے ہدایت کی کہ بھکاری مافیا ملک کی بدنامی کا باعث بن رہا ہے، ان سے سختی سے نمٹا جائے، گداگری کو ناقابل ضمانت جرم قرار دینا ضروری ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ بجلی چوری کی روک تھام کیلئے وزارت توانائی اور صوبائی حکومتوں کو تعاون فراہم کر رہے ہیں۔ اجلاس کو بریفنگ دی گئی کہ روزانہ کی بنیاد پر 250 سے زائد انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز ہو رہے ہیں، وزارت داخلہ اور صوبائی حکومتوں کے تعاون سے 142 ارب روپے کی ریکوری ممکن ہوئی۔ اعلامیے کے مطابق اجلاس میں تجاوزات کے خلاف آپریشنز اور پورٹ اتھارٹی کے قیام پر پیش رفت کا جائزہ لیا گیا، اجلاس میں گوادر سیف سٹی منصوبے اور پروٹیکشن وال پر پیشرفت پر بھی غور کیا گیا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: اجلاس میں محسن نقوی

پڑھیں:

گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست

فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔

انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔

گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔

متعلقہ مضامین

  • فیفا ورلڈکپ: ٹرمپ کی مداخلت پر فیصلہ تبدیل، ناروے کا فیفا کیخلاف بڑا اقدام اٹھانے کا فیصلہ
  • وزیر داخلہ محسن نقوی کا مستونگ میں کامیاب آپریشن پر سکیورٹی فورسز کو خراج تحسین
  •  صدر آصف علی زرداری سے بلوچستان کے صوبائی وزراء کی ملاقات
  • صدر مملکت سے بلوچستان کے صوبائی وزراء کی ملاقات، مجموعی صورتحال پر تبادلہ خیال
  • حکومت کا بڑا ریلیف، الیکٹرک بائیکس پر سبسڈی اور بلاسود قرض کا اعلان
  • جرمنی کا بڑا فیصلہ، یکم اگست سے توسیع شدہ افغان پاسپورٹ تسلیم نہیں کیے جائیں گے
  • کوئٹہ، سرکاری دفاتر میں ایجنٹس کیخلاف ایف آئی اے کی کارروائی، 14 افراد گرفتار
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • محسن نقوی کی مستونگ کے قریب  سیشن جج اور جوڈیشل مجسٹریٹ پر فائرنگ کی پرزور مذمت
  • ایرانی وزیر داخلہ سکندر مومنی کی لاہور آمد: وفاقی وزیر داخلہ اور گورنرپنجاب کے ہمراہ مزار اقبال اور دربار بی بی پاکدامن حاضری