امن کے دشمنوں کو پاکستان میں کہیں بھی جگہ نہیں ملے گی ؛ وزیر اعظم
اشاعت کی تاریخ: 1st, June 2025 GMT
سٹی 42: وزیراعظم محمد شہباز شریف اور چیف آف آرمی اسٹاف، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے کوئٹہ میں ذہری آڈیٹوریم میں قبائلی عمائدین کے ایک عظیم الشان جرگے سے مشترکہ خطاب کیا۔ وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا امن کے دشمنوں کو پاکستان میں کہیں بھی جگہ نہیں ملے گی ۔ چیف آٖف آرمی سٹاف فیلڈ مارشل عاصم منیر نے کہا پاکستان آرمی مکمل طور پر چوکس ہے اور کسی بھی خطرے کا فیصلہ کن جواب دینے کے لیے تیار ہے۔
خوفناک زلزلہ نے عمارتیں ہلا کر رکھ دیں
یہ جرگہ قبائلی قیادت سے رابطے اور بلوچستان کی بدلتی ہوئی سیکیورٹی صورتحال بالخصوص بھارت کی جانب سے جاری پراکسی جنگ پر تبادلہ خیال کے لیے منعقد کیا گیا تھا۔
وزیر اعظم کا خطاب
وزیراعظم نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ بھارت کی سرپرستی میں کام کرنے والی پراکسیز نے بلوچستان میں قیام امن، ترقیاتی اقدامات، اور استحکام کو نقصان پہنچانے کی کوششیں تیز کر دی ہیں۔نہوں نے کہا کہ دہشت گرد گروہ جیسے کہ “فتنہ الہندستان” مقامی آبادی کی حمایت حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، جسے ہر صورت میں روکا جانا چاہیے۔ وزیراعظم نے قبائلی عمائدین کی قیادت اور تعمیری کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ دہشت گردوں کو عوامی سطح پر کسی قسم کی سماجی جگہ نہیں ملنی چاہیے، کیونکہ یہی دہشت گردی کے خاتمے اور دیرپا امن و استحکام کے لیے ضروری ہے۔
فتنہ الہندوستان ؛ پاکستان نے بلوچستان مین انڈین کتھ پتلیوں کی تمام نقابیں نوچ کر سیدھا نام رکھ دیا
وزیراعظم نے کہا کہ امن کے دشمنوں کو پاکستان میں کہیں بھی جگہ نہیں ملے گی۔ ہمارا پیغام واضح ہے: حکومت، مسلح افواج، قانون نافذ کرنے والے ادارے اور انتظامی نظام، عوام کی مکمل حمایت کے ساتھ، اس جنگ کو منطقی انجام تک پہنچائیں گے اور دہشت گردی کو فیصلہ کن انداز میں شکست دیں گے۔
وزیراعظم نے بلوچستان میں خوشحالی کے لیے شروع کیے گئے ترقیاتی منصوبوں پر روشنی ڈالتے ہوئے زور دیا کہ ان اقدامات کے ثمرات نچلی سطح تک عوام تک پہنچنے چاہئیں۔ انہوں نے بلوچستان کے عوام کو قومی یکجہتی کے لیے ان کے تاریخی کردار پر خراج تحسین پیش کیا اور بھارت کی سرپرستی میں کی جانے والی تخریبی کارروائیوں کے خلاف ہوشیار رہنے پر زور دیا۔
پٹرول کی قیمت بڑھا دی گئی
فیلڈ مارشل عاصم منیر کا خطاب
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے قبائلی عمائدین سے بات کرتے ہوئے کہایہ بھارتی سرپرستی میں جاری پراکسی جنگ اب کوئی چھپی ہوئی بات نہیں رہی، بلکہ یہ ہمارے عوام، ترقی، اور امن کے خلاف کھلی دہشت گردی ہے۔ ہمارے پاس بھارتی ہاتھ کے واضح شواہد موجود ہیں جو بلوچستان میں کام کرنے والے دہشت گرد نیٹ ورکس کی پشت پناہی کر رہا ہے۔ دشمن کی یہ مذموم کوششیں ناکام ہوں گی۔ پاکستان آرمی، قوم اور بہادر بلوچ عوام کی غیر متزلزل حمایت کے ساتھ، ہر اس دشمن کا مقابلہ کرے گی جو ہماری خودمختاری کو چیلنج کرنے کی جسارت کرے گا، چاہے وہ اندرونی ہو یا بیرونی۔فیلڈ مارشل نے مزید کہا کہ پاکستان آرمی مکمل طور پر چوکس ہے اور کسی بھی خطرے کا فیصلہ کن جواب دینے کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے دوٹوک انداز میں کہا کہ بلوچستان میں امن غیر مشروط ہے، اور پاکستان کا مستقبل ایک مستحکم، خوشحال بلوچستان سے جڑا ہوا ہے۔
کراچی میں سڑک پر ایک اور الم ناک حادثہ، پروفیسر جاں بحق
وزیراعظم اور فیلڈ مارشل نے بلوچستان میں خدمات انجام دینے والے سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جرات اور قربانیوں کو سراہا۔ وزیراعظم نے شہداء کے اہلِ خانہ سے مکمل تعاون اور حمایت کی یقین دہانی کرواتے ہوئے کہا کہ دہشت گرد، ان کے سہولت کار اور معاونین کسی صورت نہیں بچیں گے۔
جرگہ قبائلی عمائدین کے اس متفقہ عزم کے ساتھ اختتام پذیر ہوا کہ وہ حکومتِ پاکستان اور مسلح افواج کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں اور بلوچستان کے امن، استحکام اور ترقی کے لیے پرعزم رہیں گے۔
ایلون مسلک کی آنکھ پر مکا کس نے مارا
قبل ازیں، وزیراعظم پاکستان نے کوئٹہ میں کمانڈ اینڈ اسٹاف کالج کا بھی دورہ کیا اور اسٹوڈنٹ آفیسرز اور فیکلٹی سے خطاب کیا۔ ان کا خطاب ملک کے دفاعی اداروں کو مضبوط بنانے کے حکومتی عزم کا عکاس تھا، خاص طور پر ان علاقائی اور داخلی سیکیورٹی چیلنجز کے تناظر میں جو تیزی سے بدل رہے ہیں۔اپنے خطاب میں وزیراعظم نے پیشہ ورانہ مہارت، آپریشنل تیاری، اور تزویراتی بصیرت کی اہمیت پر زور دیا، خاص طور پر ایسے حساس علاقوں میں جیسے کہ بلوچستان، جہاں بھارتی سرپرستی میں کام کرنے والے دہشت گرد گروہ ہماری قوم کو نشانہ بنانے اور ترقی کو روکنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: قبائلی عمائدین بلوچستان میں سرپرستی میں نے بلوچستان فیلڈ مارشل کرنے والے جگہ نہیں نے کہا امن کے کے لیے کہا کہ
پڑھیں:
تحریک انصاف5 اگست کو کیا کرنے جا رہی ہے؟
پاکستان تحریک انصاف (PTI) کے بانی اور سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں قید کے 3 سال مکمل ہونے پر پارٹی 5 اگست کو احتجاجی پروگرام پر غور کر رہی ہے تاہم پارٹی ذرائع کے مطابق اس حوالے سے مرکزی قیادت کے اندر ابھی تک مکمل اتفاق رائے نہیں ہو سکا جس کے باعث حتمی احتجاجی کال جاری نہیں کی گئی۔
پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان اڈیالہ جیل کے باہر بھرپور احتجاج کی حامی ہیں۔ ان کے مؤقف کے مطابق پارٹی کے ارکان قومی و صوبائی اسمبلی، سینیٹرز اور کارکنوں کو جیل کے باہر جمع ہونا چاہیے تاکہ عمران خان کی قید کے خلاف مؤثر پیغام دیا جا سکے۔
دوسری جانب ذرائع کے مطابق پارٹی کے بعض سینیئر رہنما، جن میں چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان بھی شامل ہیں، لاہور میں احتجاج یا کسی متبادل پروگرام کے حق میں دکھائی دیتے ہیں۔
بڑی احتجاجی کال پر تحفظات
پارٹی ذرائع کے مطابق متعدد ارکان قومی و صوبائی اسمبلی نے قیادت کو آگاہ کیا ہے کہ مہنگائی، مقدمات کے خدشات اور مسلسل احتجاجی سرگرمیوں کے باعث عوام پہلے جیسی تعداد میں سڑکوں پر آنے کے لیے تیار نہیں۔
ذرائع کے مطابق بعض رہنماؤں کی رائے ہے کہ ہر رکن اپنے اپنے حلقے میں علامتی یا ٹوکن احتجاج کرے اور عوام کو یہ پیغام دے کہ عمران خان کی قید کو 3 سال مکمل ہو گئے ہیں۔
پارٹی کے ایک حلقے کی جانب سے یہ تجویز بھی سامنے آئی ہے کہ 5 اگست کو کسی بڑے احتجاجی پروگرام سے گریز کیا جائے تاکہ کارکنوں اور رہنماؤں کو مزید گرفتاریوں اور مقدمات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
ذرائع کے مطابق ابھی تک یہ طے نہیں ہو سکا کہ احتجاج، ریلی، جلسہ یا کسی اور شکل میں ہوگا۔ علیمہ خان کی اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج کی تجویز پر بھی پارٹی کے بیشتر رہنما متفق نہیں جبکہ متعدد رہنما محدود یا علامتی احتجاج کے حق میں ہیں۔
9 مئی کے بعد بڑا احتجاج منظم نہ ہو سکا
پارٹی ذرائع کے مطابق 9 مئی 2023 کے واقعات کے بعد پی ٹی آئی بڑے پیمانے پر کوئی کامیاب احتجاجی تحریک منظم نہیں کر سکی۔
26 نومبر کو خیبر پختونخوا کے سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور اور بشریٰ بی بی کی قیادت میں عمران خان کی رہائی کے لیے اسلام آباد کی جانب مارچ کیا گیا تاہم یہ احتجاج کسی واضح نتیجے کے بغیر ختم ہو گیا۔
مزیدپڑھیں:بیوٹی انفلوئنسر کاسمیٹک سرجری کے دوران چل بسی
اس احتجاج کے بعد پارٹی کے متعدد کارکنوں اور رہنماؤں کی گرفتاریاں ہوئیں جس کے بعد پارٹی کسی بڑے احتجاجی منصوبے کا اعلان نہیں کر سکی۔ اس دوران مختلف مواقع پر ریلیاں اور مظاہرے بھی کیے گئے تاہم حکومتی اقدامات اور دیگر عوامل کے باعث وہ مطلوبہ نتائج حاصل نہ کر سکے۔
عمران خان کی قید کو 3 سال مکمل
عمران خان 5 اگست 2023 سے اڈیالہ جیل میں قید ہیں۔ اس عرصے کے دوران ان کے خلاف متعدد مقدمات درج کیے گئے جنہیں پاکستان تحریک انصاف سیاسی انتقام قرار دیتی ہے۔
پارٹی کی جانب سے مختلف مواقع پر عمران خان کی صحت، خصوصاً آنکھوں کے مسائل، اہلخانہ اور وکلا سے ملاقاتوں میں مبینہ رکاوٹوں اور عدالتی احکامات پر عمل درآمد سے متعلق تحفظات کا اظہار بھی کیا جاتا رہا ہے۔
5 اگست کی روایت برقرار رہے گی؟
گزشتہ برسوں میں پاکستان تحریک انصاف 5 اگست کو مختلف شہروں میں احتجاج، ریلیوں اور پرامن مظاہروں کے ذریعے عمران خان کی رہائی کے مطالبات اٹھاتی رہی ہے۔
ذرائع کے مطابق اس سال بھی ضلعی سطح پر مشاورت اور تیاریاں جاری ہیں تاہم مرکزی قیادت کی جانب سے ملک گیر احتجاج یا کسی بڑے پروگرام کے بارے میں حتمی فیصلہ ابھی سامنے نہیں آیا۔