پاک بحریہ کا بندرگاہوں پر خطرات سے نمٹنے کے لیے 2 روزہ مشقوں کا انعقاد
اشاعت کی تاریخ: 1st, June 2025 GMT
پاک بحریہ نے پاکستان کی تمام بڑی بندرگاہوں پر غیر روایتی خطرات سے نمٹنے پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے 2 روزہ مشقوں کا کامیابی سے انعقاد کیا۔
یہ بھی پڑھیں پاک بحریہ نے بھارتی طیارے کا سراغ لگا کر مکمل نگرانی میں رکھا
ان مشقوں کا بنیادی مقصد اہم بحرى تنصيات کے تحفظ کے لیے طریقہ کار، حربی حکمت عملی کو جانچنا اور مؤثر بنانا تھا۔ ان مشقوں میں پاک بحریہ کی مختلف یونٹس بشمول پاک میرینز، ایس ایس جی (این)، بحری اور فضائی اثاثہ جات نے مربوط كاروائیوں میں حصہ لیا۔
مشق میں مختلف غیر روایتی خطرات اور حملوں کی صورت میں شرکت کرنے والی فورسز کے درمیان باہمی رابطے اور فوری ردعمل کی صلاحیتوں کو مزید بہتر بنانے پر توجہ دی گئی۔
مشقوں کے دوران کمانڈر کوسٹ رئیر ایڈمرل فیصل امین نے مختلف بندر گاہوں کا دورہ کیا اور مشق کے مختلف مراحل کا مشاہدہ کیا۔ انہوں نے حصہ لینے والی یونٹس کی پیشہ ورانہ مہارت اور باہمی ہم آہنگی کو سراہا۔
انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ ملکی بندر گاہوں اور بحری تنصیبات کا تحفظ نہ صرف قومی سلامتی بلکہ اقتصادی ترقی کے لیے بھی بے حد ضروری ہے۔
یہ بھی پڑھیں چین میں پاک بحریہ کی دوسری ہنگور کلاس آبدوز لانچنگ تقریب کا انعقاد
یہ مشقیں اس امر کی عکاس ہیں کہ پاک بحریہ ہر قسم کے خطرات سے نمٹنے کے لیے ہمہ وقت تیار ہے اور ملکی سمندری سرحدوں کے دفاع کے لیے اپنی صلاحیتوں میں بتدریج جدت لا رہی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews پاک بحریہ خطرات مشقوں کا انعقاد وی نیوز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پاک بحریہ خطرات مشقوں کا انعقاد وی نیوز پاک بحریہ مشقوں کا کے لیے
پڑھیں:
کراچی میں 2 سال قبل شروع ہونیوالی مفت شٹل سروس کمرشل بنیاد پر چلائی جارہی ہے
کراچی سے دوسرے شہروں میں جانے کے لیے شہر میں جگہ جگہ قائم بس اڈے دو سال پہلے ختم کرکے شہر سے باہر منتقل کر دیے گئے تھے، شٹل سروس کیلئے مخصوص گاڑیاں اپنے اصل کام کے بجائے کمرشل بنیادوں پر مسافروں کو براہ راست کراچی سے حیدرآباد لے جارہی ہیں۔
حکومت نے مسافروں کی سہولت کے لیے مفت شٹل سروس شروع کی تھی تاکہ مختلف مقامات سے مسافروں کو کراچی بس ٹرمینل پہنچایا جا سکے، مگر یہ شٹل سروس اب ٹرمینل تک محدود نہیں رہی بلکہ روٹ پرمٹ کے بغیر کمرشل بنیادوں پر کراچی سے حیدرآباد تک بھی چلائی جا رہی ہے۔
محکمہ ٹرانسپورٹ سندھ نے اگست 2024 میں آپریشن کرتے ہوئے شہر کے مختلف انٹر سٹی بس اڈے ختم کیے اور بڑی کوچز کے شہر میں داخلے پر پابندی عائد کی تھی۔
مسافروں کی سہولت کے لیے وزیر ٹرانسپورٹ شرجیل انعام میمن نے مفت شٹل سروس شروع کرنے کا اعلان کیا تھا۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا تھا کہ تقریباً 50 شٹل گاڑیاں چلائی جا رہی ہیں تاکہ مسافروں کو مختلف مقامات سے کراچی بس ٹرمینل پہنچایا جا سکے۔ لیکن شٹل سروس کیلئے مخصوص گاڑیاں اپنے اصل کام کے بجائے کمرشل بنیادوں پر مسافروں کو براہ راست کراچی سے حیدرآباد لے جارہی ہیں۔
ادھر ٹرانسپورٹرز اپنی سواریاں مختلف ذرائع سے کراچی بس ٹرمینل تک پہنچا رہے ہیں، جس کے اضافی اخراجات بھی انہیں خود برداشت کرنا پڑ رہے ہیں۔
محکمہ ٹرانسپورٹ کا بتانا ہے کہ اس روٹ کے لیے شٹل سروس کے پاس کوئی روٹ پرمٹ موجود نہیں۔
جیو نیوز نے اس حوالے سے کراچی بس ٹرمینل انتظامیہ سے مؤقف لینے کی کوشش کی، مگر ان کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا۔