سمبڑیال میں مینڈیٹ پر دوبارہ ڈاکہ ڈالنے نہیں دیں گے، شیخ وقاص اکرم
اشاعت کی تاریخ: 1st, June 2025 GMT
اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ترجمان تحریک انصاف کا کہنا تھا کہ نون لیگ والوں نے ہر پولنگ سٹیشن سے ہمارے لوگوں کو باہر نکالا، ہمارے لوگوں پر تشدد کیا گیا، پولنگ سٹیشن 37 سے پی ٹی آئی کے لوگوں اور ایجنٹس کو بھی باہر نکال دیا گیا، یہ سب وہاں پولیس کی سرپرستی میں ہوتا رہا، ہر پولنگ سٹیشن میں زبردستی گھس کر خود ٹھپے لگا کر ووٹ کاسٹ کیے گئے۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات شیخ وقاص اکرم نے کہا ہے کہ سمبڑیال میں مینڈیٹ پر دوبارہ ڈاکہ ڈالنے نہیں دیں گے۔ وفاقی دارالحکومت میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے شیخ وقاص اکرم کا کہنا تھا کہ سیالکوٹ میں آج ضمنی انتخابات ہو رہے ہیں، جلسے میں لوگوں نے جس تعداد میں شرکت کی وہ ناقابل بیان ہے، 8 فروری کو کچھ ہوا تھا سیالکوٹ کے اس حلقے کا ووٹ بھی دھاندلی کی نذر ہوا تھا۔ انہوں نے کہا کہ یہ سیٹ 8 فروری کو بھی پی ٹی آئی کی جیت ہوئی تھی اور آج بھی برتری پی ٹی آئی کی ہے، مینڈیٹ پر دوبارہ ڈاکہ نہیں ڈالنے دیں گے، اس وجہ سے صبح سے لوگ باہر نکلے، لیکن مسلم لیگ نون کے غنڈوں نے وہاں غنڈا گردی کی اور غلام ہونے کا ثبوت دیا۔
ترجمان تحریک انصاف نے کہا کہ نون لیگ والوں نے ہر پولنگ سٹیشن سے ہمارے لوگوں کو باہر نکالا، ہمارے لوگوں پر تشدد کیا گیا، پولنگ سٹیشن 37 سے پی ٹی آئی کے لوگوں اور ایجنٹس کو بھی باہر نکال دیا گیا، یہ سب وہاں پولیس کی سرپرستی میں ہوتا رہا، ہر پولنگ سٹیشن میں زبردستی گھس کر خود ٹھپے لگا کر ووٹ کاسٹ کیے گئے۔ شیخ وقاص اکرم کا مزید کہنا تھا کہ پولنگ سٹیشن نمبر 10 پر پرائزئیڈنگ افسر نے پولنگ روکنے کا اعتراف کیا، کل رات سے آر او آفس کے باہر کینٹینر لگا دیئے تھے، جعلی حکمران تو قبولیت کے بڑے دعوے کر رہے تھے، سمبڑیال والوں نے ان کی اصل اوقات دکھا دی، میرا سوال ہے کہ چیف الیکشن کمشنر نے دھاندلی پر کیا ایکشن لیا۔؟
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: ہر پولنگ سٹیشن شیخ وقاص اکرم ہمارے لوگوں
پڑھیں:
باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا ہے کہ مالی مشکلات یا کسی نجی معاہدے کی بنیاد پر باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا اور یہ ذمہ داری اسلامی تعلیمات کے مطابق مستقل اور قابل نفاذ فریضہ ہے۔جسٹس محسن اختر کیانی نے 15 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کرتے ہوئے باپ اختر حسین اعوان کی درخواست خارج کر دی اور فیملی کورٹ و اپیلٹ کورٹ کے فیصلے برقرار رکھے۔عدالت نے قرار دیا کہ نابالغ بچے کا نان و نفقہ صرف قانونی نہیں بلکہ اخلاقی اور مذہبی ذمہ داری بھی ہے۔ غیر ادا شدہ نان و نفقہ باپ پر قرض تصور ہوگا جو وقت گزرنے سے ختم نہیں ہو سکتا۔فیصلے میں سور البقرہ، سور الطلاق اور متعدد احادیث نبوی کے حوالے دیتے ہوئے کہا گیا کہ معاہدے یا رضامندی کے ذریعے نابالغ بچے کے حقوق ختم نہیں کیے جا سکتے، خصوصا جب بچہ معذوری کی حالت میں ہو۔(جاری ہے)
درخواست گزار کا موقف تھا کہ 2005 میں فریقین کے درمیان ہونے والے رضامندی نامے کے تحت تاحیات خرچہ طے ہو چکا تھا اور ماضی کے نان و نفقہ کی وصولی قانونا چھ سال سے زائد مدت کے لیے نہیں کی جا سکتی۔عدالت نے ماضی کے نان و نفقہ سے متعلق اسلامی اصولوں کی روشنی میں نئی قانون سازی کی سفارش کرتے ہوئے فیصلے کی نقل لا اینڈ جسٹس کمیشن اور وزارت قانون و انصاف کو ارسال کرنے کا حکم بھی دیا۔