بی آئی ایس پی کے مطابق ایسے تمام مستحقین جو عرصہ 3 سال سے زائد پروگرام سے مستفید ہو رہے ہیں، وہ اپنا قومی شناختی کارڈ اور بچوں کا ب فارم ہمراہ رکھ کر قریبی بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے دفتر جاکر ازسرنو اپنا سروے کروائیں۔ جو مستحقین اپنا سروے نہیں کرائیں گے ان کی مالی امداد روک دی جائے گی۔ اسلام ٹائمز۔ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) نے اپنے پروگرام سے مستفید ہونے والے تمام مستحقین سے کہا ہے کہ وہ 30 جون 2025ء تک اپنا سروے دوبارہ کروا لیں بصورت دیگر ان کی مالی امداد روک دی جائے گی۔بی آئی ایس پی کے مطابق ایسے تمام مستحقین جو عرصہ 3 سال سے زائد پروگرام سے مستفید ہو رہے ہیں، وہ اپنا قومی شناختی کارڈ اور بچوں کا ب فارم ہمراہ رکھ کر قریبی بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے دفتر جاکر ازسرنو اپنا سروے کروائیں۔ جو مستحقین اپنا سروے نہیں کرائیں گے ان کی مالی امداد روک دی جائے گی، دوسری جانب چیئرپرسن بینظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) سینیٹر روبینہ خالد نے خوشاب کے علاقے جوہرآباد میں بی آئی ایس پی ادائیگی مرکز کا دورہ کیا۔ اس موقع پر انہوں نے بینظیر کفالت پروگرام سے استفادہ کرنے والی خواتین سے ملاقات کی، ان کے مسائل سنے اور عملے کو مسائل کے فوری حل کی ہدایات دیں۔

کیمپ سائٹ پر موجود خواتین کو سہ ماہی اقساط کی ادائیگی کے عمل میں خود شریک ہوتے ہوئے سینیٹر روبینہ خالد نے کہا کہ جب تک 8171 سے ادائیگی کا تصدیقی پیغام موصول نہ ہو، کیمپ سائٹ پر نہ آئیں تاکہ غیر ضروری ہجوم سے بچا جا سکے۔ انہوں نے واضح کیا کہ بی آئی ایس پی کی کسی بھی سکیم کے لئے کوئی فیس نہیں لی جاتی، اگر کوئی فیس طلب کرے تو فوراً بی آئی ایس پی ہیلپ لائن پر شکایت درج کرائیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: انکم سپورٹ پروگرام بی آئی ایس پی پروگرام سے اپنا سروے

پڑھیں:

حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء) حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا، ایف بی آر نے پہلے 11 ماہ میں 11 ہزار 257 ارب روپے ٹیکس اکٹھا کیا ، مئی میں 994 ارب روپے وصول کیے ۔ تازہ ترین حکومتی اعداد و شمار کے مطابق ایف بی آر کی ٹیکس وصولیاں نظرثانی شدہ اہداف کے مطابق جاری ہیں۔

مشیر وزیر خزانہ خرم شہزاد کے مطابق 864 ارب روپے کے ٹیکس شارٹ فال کا تاثر ابتدائی 14 ہزار 130 ارب روپے کے ہدف کی بنیاد پر دیا جا رہا ہے جو گمراہ کن ہے۔معاشی حالات میں تبدیلی کے بعد آئی ایم ایف کی مشاورت سے ریونیو ہدف تقریباً 13 ہزار ارب روپے تک ایڈجسٹ کیا گیا۔ مشیر وزیر خزانہ نے کہا کہ مہنگائی،درآمدات اور عالمی صورتحال میں تبدیلی کے باعث اہداف پر نظرثانی معمول کا مالی عمل ہے، نظرثانی شدہ مالی فریم ورک کیتحت ایف بی آر کی کارکردگی مضبوط،11 ماہ کا تقریباً مکمل ہدف حاصل کیا گیا، ایف بی آر نے پہلے 11 ماہ میں 11 ہزار 257 ارب روپے ٹیکس اکٹھا کیا جبکہ مئی میں 994 ارب روپے وصول کیے۔

(جاری ہے)

مشیر وزیر خزانہ نے کہا کہ مئی میں ایف بی آر نے ماہانہ ہدف کا 97 فیصد جبکہ 11 ماہ کے ہدفکا 99.8 فیصد حاصل کیا، موجودہ کارکردگی ریونیو بحران یا بڑے ٹیکس شارٹ فال کے دعوؤں کی نفی کرتی ہے، جون 2026 کا 1 ہزار 727 ارب ریونیو ہدف 15 فیصد اضافے کے ساتھ نظرثانی شدہ مالی فریم ورک کے مطابق قابل حصول ہے، کاروباری طبقے اور سرمایہ کار غیر معمولی ٹیکس اقدامات سے متعلق قیاس آرائیوں پر توجہ نہ دیں، مالی معاملات پر تبصرہ پرانے اہداف کے بجائے موجودہ معاشی حقائق اور درست اعداد و شمار پر ہونا چاہیے۔                                                                           

متعلقہ مضامین

  • ٹرمپ پر قاتلانہ حملے کے بعد منسوخ ہونے والے وائٹ ہاؤس پریس ڈنر کے دوبارہ انعقاد کا فیصلہ
  • ایران کے جوہری پروگرام پر انتہائی ٹیکنیکل مذاکرات میں مہینے لگ سکتے ہیں، امریکی وزیرخارجہ
  • اے جی پی آر کا کلیمز جمع کرانے کی آخری تاریخ کا اعلان
  • پاکستان میں کاروباری اعتماد کمزور، 80 فیصد اداروں نے سرمایہ کاری فیصلے مؤخر کر دیئے
  • حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا
  • بعض حکمران عناصر بینظر انکم سپورٹ پروگرام کو ختم کرنا چاہتے ہیں، تاہم پیپلز پارٹی ایسا نہیں ہونے دے دی، بلاول بھٹو
  • علامہ ساجد علی نقوی سے علامہ جواد نقوی کی ملاقات، شہید امت کانفرنس میں شرکت کی دعوت دی
  •  کاروباری عدم اعتماد، 80 فیصد اداروں کے سرمایہ کاری فیصلے موخر، اوورسیز چیمبر
  • پنجاب میں انسداد ڈینگی کارروائیوں کیلئے افسران کو فوری متحرک ہونے کی ہدایت
  • میاں بیوی کو تین سالہ بچی سمیت اٹھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست ، لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت