Islam Times:
2026-06-03@07:38:25 GMT

ایرانی عالم کی رہائی

اشاعت کی تاریخ: 2nd, June 2025 GMT

ایرانی عالم کی رہائی

اسلام ٹائمز: اہم نکتہ یہ ہے کہ رہبر معظم انقلاب نے نظام کے اعلیٰ ترین مفادات پر مکمل ہوشیاری اور توجہ کے ساتھ حج کی تقریبات کے دوران میزبان ملک کے قوانین کی پاسداری کی تاکید کی ہے۔ انہوں نے واضع طور پر کہا ہے کہ ”حج کے دوران کوئی ایسا فعل نہ انجام دیا جائے جس سے میزبان ملک کے قوانین کی خلاف ورزی ہو“۔ ان کے فرمان کے مطابق ”ہمارا طرز عمل درست، عقل مندانہ اور احترام والا ہونا چاہیئے“۔ تحریر: سید تنویر حیدر

ایرانی عالم دین غلام رضا قاسمیان جنہیں سعودی عرب میں گرفتار کیا گیا تھا آخر کار جیل سے رہائی پانے کے بعد اپنے وطن ایران واپس لوٹ آئے ہیں۔ غلام رضا قاسمیان نے حج کے موسم میں حرم رسول خدا (ص) کے قریب سے سوشل میڈیا پر ایک کلپ جاری کیا تھا جس میں انہوں نے آل سعود کی پالیسیوں پر کڑی تنقید کی تھی۔ اس پر نہ صرف ایران میں اور ایران سے باہر مختلف نوعیت کے ردعمل سامنے آئے بلکہ سعودی حکام کے ذریعے ان کی گرفتاری بھی عمل میں آئی۔ چند دن جیل میں گزارنے کے بعد انہیں آخرکار اسلامی جمہوری ایران کی سفارتی کوششوں کے نتیجے میں رہا کر دیا گیا۔

یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جناب قاسمیان کا عین حج کے ایام میں سعودی عرب کی سرزمین سے ایک ایسی ویڈیو وائرل کرنا جس کی وجہ سے سعودی عرب اور ایران کے مابین تعلقات میں بگاڑ پیدا ہونے کا احتمال ہو، مناسب ہے؟ ایسے میں جب کہ سعودی حکومت نے بعض حقائق کو تسلیم کرتے ہوئے ایران سے محاذ آرائی کو اپنے مفادات کے خلاف سمجھا اور ایران سے بہتر تعلقات استوار کرنے میں ہی اپنی عافیت سمجھی۔ ایران نے بھی سعودی عرب کی خواہش پر، عالمی صورت حال کی نزاکت کا احساس کرتے ہوئے اور عالم اسلام اور حکومت اسلامی کی مصلحتوں کا ادراک کرتے ہوئے نیز اسرائیل اور امریکہ کی سازشوں کو سمجھتے ہوئے سعودی عرب سے اپنے تعلقات نارمل کرنے کی کوشش کی۔

علی رضا قاسمیان نے سعودی عرب کی سرزمین پر جو کچھ کیا وہ یقیناً رہبر انقلاب اسلامی کی ان ہدایات  سے مطابقت نہیں رکھتا تھا جو انہوں نے میزبان ممالک کے قوانین کا احترام کرنے اور ان کے خلاف کسی بھی اشتعال انگیز رویے سے بچنے کے حوالے سے دی ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ رہبر معظم کی دانشمندانہ نصیحت کو سنجیدگی سے جانچا جائے۔ آقای قاسمیان جیسے اقدامات نہ صرف قیادت کے ارادوں سے متصادم ہیں بلکہ اس سے نظام اور عوام کے لیے بھی بہتر نتائج برآمد نہیں ہوتے۔ اہم نکتہ یہ ہے کہ رہبر معظم انقلاب نے نظام کے اعلیٰ ترین مفادات پر مکمل ہوشیاری اور توجہ کے ساتھ حج کی تقریبات کے دوران میزبان ملک کے قوانین کی پاسداری کی تاکید کی ہے۔

انہوں نے واضع طور پر کہا ہے کہ ”حج کے دوران کوئی ایسا فعل نہ انجام دیا جائے جس سے میزبان ملک کے قوانین کی خلاف ورزی ہو“۔ ان کے فرمان کے مطابق ”ہمارا طرز عمل درست، عقل مندانہ اور احترام والا ہونا چاہیئے“۔ یہ سفارش ایسے حالات میں کی گئی ہے جب گزشتہ برسوں میں بعض گروہوں کے اشتعال انگیز رویے ایرانی زائرین پر پابندیوں کا باعث بنے۔ رہبر معظم نے حج کے ایک وفد سے اپنے ایک اور خطاب میں بھی تناو پیدا کرنے والے اقدامات کے نتائج کے بارے میں خبردار کرتے ہوئے فرمایا کہ ”حجاج کرام کو چاہیئے کہ وہ کسی بھی جذباتی اور من پسند اقدام سے پرہیز کریں کیونکہ ایسے اقدامات سے بالآخر حجاج کرام اور اسلامی جمہوری ایران کے مفادات کو نقصان پہنچتا ہے“۔

رہبر کے یہ الفاظ حج اور بین الاقوامی تعلقات کے ضمن میں ان کے گہرے اور دوراندیشی پر مبنی ان کے نظریے کی عکاسی کرتے ہیں۔ رہبر معظم نے ہمیشہ عالم اسلام کے اتحاد اور نظام کے اصلاح کی بات کی ہے۔ وہ نظام کے قلیل مدتی اشتہاری مفادات پر طویل مدتی مفادات کو ترجیح دیتے ہیں۔ رہبر معظم کی فکر رہبر کبیر انقلاب اسلامی امام خمینیؒ کا فکر کا ہی پرتو ہے۔ امام خمینیؒ کی 36 ویں برسی قریب ہے۔ اس موقع پر ایک قطعہ موزوں ہوا ہے جو پیش خدمت ہے:

اک انقلاب کی ہر سمت آبیاری ہے
جہاں میں فکر خمینیؒ کا فیض جاری ہے
بکھرتی فکر خمینیؒ سے ہر ستمگر پر
وجود اپنا بکھرنے کا خوف طاری ہے

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: میزبان ملک کے قوانین کی کرتے ہوئے انہوں نے کے دوران نظام کے

پڑھیں:

حج تھا یا پکنک؟ شدید تنقید کے بعد وسیم اکرم، مصباح الحق اور فخر عالم نے خاموشی توڑ دی

سابق قومی کرکٹر وسیم اکرم، مصباح الحق، فخرِ عالم، سعید انور اور دیگر معروف شخصیات کے حج سفر پر سوشل میڈیا پر ہونے والی تنقید کے بعد وسیم اکرم، مصباح الحق اور فخرِ عالم نے وضاحت کرتے ہوئے ناقدین کو جواب دے دیا۔

انہوں نے سر منڈوانے سے متعلق تنقید پر وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ لوگ سوال کر رہے تھے کہ ہم نے سر کیوں نہیں منڈوائے۔ حج پر روانگی سے قبل ہم نے علمائے کرام سے رہنمائی لی تھی جنہوں نے ہمیں دو آپشن دیے تھے کہ یا تو مکمل سر منڈوا لیا جائے یا قصر کرائی جائے جس میں بالوں کا کچھ حصہ کاٹا جاتا ہے۔ ہم نے دوسرا طریقہ منتخب کیا۔

@timesofkarachi Why didn’t Wasim Akram, Fakhar-e-Alam, and Misbah-ul-Haq shave their heads as part of the Hajj ritual? #TOKReports #Hajj #WasimAkram #FakhareAlam #MisbahulHaq ♬ original sound – Times of Karachi

انہوں نے مزید کہا کہ دوسری تنقید یہ تھی کہ ہم حج پر آئے تھے یا پکنک منانے؟ حج ایک عبادت ہے اور دن کے چوبیس گھنٹوں میں انسان عبادت بھی کرتا ہے، دوستوں سے ملتا جلتا بھی ہے، دعائیں بھی مانگتا ہے اور کبھی مسکراتا اور خوشی کا اظہار بھی کرتا ہے۔ یہ سب بھی حج کے تجربے کا حصہ ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہماری لوگوں سے گزارش ہے کہ تنقید کرنے سے پہلے ان معاملات کو اچھی طرح سمجھیں۔ ہم نے نوجوانوں کی رہنمائی اور انہیں حج کی ترغیب دینے کے لیے ویڈیوز بنائیں تاکہ وہ اس بابرکت سفر کی منصوبہ بندی کر سکیں۔

حج کے سفر کے بارے میں بات کرتے ہوئے فخرِ عالم نے کہا کہ ہم حج مکمل کر چکے ہیں اور لوگ ہم سے مختلف سوالات کر رہے ہیں۔ سب سے زیادہ پوچھا جانے والا سوال یہ ہے کہ آخر ہمیں حج پر جانے کی ترغیب کس چیز نے دی؟

اس سوال کے جواب میں وسیم اکرم نے کہا کہ کوئی خاص منصوبہ نہیں تھا۔ میں نے اپنے دوست سے کہا تھا کہ جب مجھے اندر سے آمادگی محسوس ہوگی تب میں حج کے لیے جاؤں گا۔ چونکہ آپ اور مصباح پہلے ہی جا رہے تھے اس لیے میں نے بھی ساتھ جانے کا فیصلہ کر لیا۔ میری عمر جلد 60 سال ہونے والی ہے اس لیے مجھے لگا کہ یہی مناسب وقت ہے۔

مصباح الحق نے بھی اپنے حج کے تجربے پر خوشی اور اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ ان کی زندگی کا ایک خاص سفر تھا اور دوستوں کے ساتھ اس روحانی تجربے کو شیئر کرنے سے یہ یادگار لمحہ مزید خوبصورت بن گیا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

حج حج 2026 فخر عالم مصباح الحق وسیم اکرم

متعلقہ مضامین

  • وسیم، مصباح اور فخرِ عالم نے حج کرکے بال کیوں نہیں منڈوائے؟
  • امریکا کا ایران پر نیا وار، 4 ایرانی شہریوں اور کرپٹو کمپنیوں پر سخت پابندیاں عائد
  • چوہدری شوکت منظور چیمہ کی چھٹی برسی، سعودی عرب میں یادگاری تقریب کا انعقاد
  • حج تھا یا پکنک؟ شدید تنقید کے بعد وسیم اکرم، مصباح الحق اور فخر عالم نے خاموشی توڑ دی
  • ایرانی جزیرے پر امریکی حملے کے بعد ایران کا جوابی وار، بحرین، عراق اور قطر میں سائرن بج گئے
  • امریکی محکمہ خزانہ نے ایران پر نئی پابندیاں عائد کر دیں
  • سرینڈر کا امریکی مطالبہ مسترد، ایران کا حملے کی صورت میں نئے محاذ کھولنے کا اعلان
  • امام خمینی، فکر، قیادت اور انقلاب کا استعارہ
  • مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی: پاکستان سمیت 8 ممالک کا شدید ردعمل، پورا حرم صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ قرار
  • امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر