وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کا شمار دنیا کے ان ممالک میں ہوتا ہے جہاں سب سے کم ٹیکس اکٹھا کیا جاتا ہے، اگر ہم ملک کی ترقی کے بارے میں سنجیدہ ہیں تو پاکستان میں ٹیکس کے نظام میں اصلاحات کو بھی قومی سلامتی کا تقاضا سمجھتے ہوئے ترجیح دینا ہوگی۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم نے پچھلے مالی سال کا آغاز 1400 ارب روپے سے کیا تھا، کچھ عرصے بعد اسے کم کرکے 1100 ارب روپے کیا گیا، اب مزید کم ہوکر ایک ہزار ارب روپے تک آگیا ہے، یہ ہمارے لیے مستقبل کے لیے خطرے کی نشانی ہے۔

یہ بھی پڑھیے: آئندہ مالی سال کا بجٹ 10 جون کو پیش ہوگا، وفاقی حکومت کا اعلان

احسن اقبال نے کہا کہ وسائل میں اس کمی سے نمٹنے کے لیے ہمیں ٹیکس کے نظام میں بہتری لانا ہوگی، ہمیں صوبوں کے معاملات ان کے حوالے کرکے وفاقی مسائل ہر توجہ دینی چاہیے، وفاقی حکومت اگر صوبائی منصوبے کرے گی تو وفاق کے پاس کچھ نہیں بچے گا۔

انہوں نے کہا کہ آئندہ مالی سال کے اخراجات میں اس بات کو یقینی بنانا چاہیے کہ زیادہ اہم منصوبوں کو فوقیت دی جائے۔ اگلے سال کی پی ایس ڈی پی بناتے ہوئے ہماری کوشش تھی کہ غیر ملکی کمٹمنٹس کو ترجیح دی جائے، اسی طرح آزاد کشمیر، گلگت بلتستان اور ضم شدہ اضلاع پر مشتمل خصوصی علاقوں کے منصوبوں میں کٹوتی نہ کرنے کی کوشش کی۔

یہ بھی پڑھیے: بجٹ سے قبل تنخواہ دار طبقے کے لیے خوشخبری، پینشنرز کے لیے بُری خبر

وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ ہماری تیسری ترجیح ان منصوبوں کے لیے فنڈ رکھنا تھا جن کا 70 سے 80 فیصد حصہ مکمل ہوچکا ہے، انہیں خطیر رقم دے کر مکمل کرنے کا منصوبہ تاکہ ان کی لاگت میں اضافہ نہ ہو، ہم نے یہ بھی دیکھا کہ ان منصوبوں کے لیے گنجائش نکالیں جو تذویراتی اور قومی اہمیت رکھتے تھے، دیامر بھاشا ڈیم پانی کا اہم منصوبہ ہے جسے کسی بھی صورت مکمل کرنا ہے، قراقرم ہائی وے فیس 2، سکھر-حیدرآباد موٹروے، بلوچستان مین کوئٹہ-کراچی میں این 25 کلیدی منصوبے ہیں جنہیں ہم آئندہ مالی سال فنڈ دینے کی کوشش کررہے ہیں۔

احسن اقبال نے کہا کہ ہماری کوشش ہوگی کہ اعلیٰ تعلیم کے منصوبوں کو بھی فنڈ دیں، پاکستان میں ثانوی تعلیم کی شرح خطے میں سب سے کم ہے۔

یہ بھی پڑھیے: ملکی سیکیورٹی صورت حال: حکومت نے دفاعی بجٹ میں اضافے کا فیصلہ کرلیا

ان کا کہنا تھا کہ ہم نے کم ترجیحی یا ان منصوبوں کی نشاندہی کی۔ ہم نے 118 ایسے منصوبے جن کی مالیت ایک ہزار ارب بنتی ہے انہیں یا تو بند کردیا ہے یا موخر کردیا ہے تاکہ محدود وسائل کو بچایا جا سکے، اس طرح ہم نے محدود وسائل کو قومی ضروریات سے ہم آہنگ کرنے کی کوشش کی۔

احسن اقبال کا کہنا تھا کہ قومی ترقی کا بجٹ اب صرف پی ایس ڈی پی پر مشتمل نہیں ہے بلکہ صوبوں کے ترقیاتی بجٹ اب وفاق کے برابر یا اس سے زیادہ بھی ہوچکا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

پراجیکٹس پی ایس ڈی پی ٹیکس خزانہ فنڈ وفاقی بجٹ.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: پراجیکٹس پی ایس ڈی پی ٹیکس وفاقی بجٹ کا کہنا تھا کہ احسن اقبال مالی سال ارب روپے کہا کہ کے لیے یہ بھی

پڑھیں:

پاکستان میں سونے کی قیمت میں پھر بڑا اضافہ

 ملک بھر میں فی تولہ سونےکی قیمت میں 4600 روپے کا اضافہ ہوا ہے۔آل پاکستان جیمز اینڈ جیولرز ایسوسی ایشن کے مطابق ایک تولہ سونا 4600 روپے اضافے کے بعد اب 4 لاکھ 76 ہزار 362 روپے میں فروخت ہو رہا ہے۔اس کے علاوہ10گرام سونے کی قیمت3944 روپےبڑھ کر 4 لاکھ8 ہزار 403 روپے ہوگئی ہے۔عالمی بازار میں سونے کی قیمت 46 ڈالر اضافے سے 4540 ڈالر فی اونس ہے۔

متعلقہ مضامین

  • سونے کی قیمت میں پھر ہوشربا اضافہ
  • گلگت میں ن لیگ کے ترقیاتی کاموں کا کوئی جماعت مقابلہ نہیں کرسکتی، احسن اقبال
  • دیوار سے لگانے کی کوشش کی گئی تو وفاقی بجٹ پاس نہیں ہونے دیں گے ؛ سہیل آفریدی
  • شازیہ مری کا گلگت بلتستان الیکشن میں وفاقی حکومت پر سرکاری وسائل کے استعمال کا الزام
  • آزاد کشمیر کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے 54 ارب روپے سے زائد فنڈز تجویز
  • حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا
  • اراکین پارلیمنٹ کیلئے اضافی فیملی سوٹس کی تعمیر کی تجویز، بجٹ میں ڈیڑھ ارب روپے مختص ہونے کا امکان
  • پی ایس ڈی پی میں ارکان پارلیمنٹ اور ترقیاتی منصوبوں کیلئے اربوں روپے مختص کرنے کی تجویز
  • پاکستان میں سونے کی قیمت میں پھر بڑا اضافہ
  • واپڈا صارفین کے لیے خوشخبری، جون میں 20 پیسے فی یونٹ ریلیف برقرار