کراچی؛نجی کمپنی کے سی ای او سلمان فاروقی کا نوجوان پر تشدد، مقدمہ درج
اشاعت کی تاریخ: 2nd, June 2025 GMT
کراچی؛نجی کمپنی کے سی ای او سلمان فاروقی کا نوجوان پر تشدد، مقدمہ درج WhatsAppFacebookTwitter 0 2 June, 2025 سب نیوز
کراچی (آئی پی ایس) ،ڈیفنس میں نجی کمپنی کےسی ای او سلمان فاروقی کے نوجوان پر تشدد پر عینی شاہد اور اہل علاقہ کی مدعیت میں تھانہ گزری میں مقدمہ درج کرلیا گیا۔
پولیس حکام کےمطابق واقعہ کا مقدمہ تھانہ گزری میں درج کرلیا گیا،مقدمہ میں سلمان فاروقی،مسلح گارڈ اورنامعلوم افراد کو نامزد کیا گیا،مقدمہ واقعہ کے عینی شاہد اور اہل علاقہ محمد سلیم کی مدعیت میں درج کیا گیا۔
مقدمہ میں جان سے مارنے کی دھمکیاں،تشدد اور بے عزت کرنے کی دفعات شامل ہیں،مقدمہ میں اغواکرکے ساتھ لے جانے کی دفعہ بھی شامل کی گئی ہے،پولیس نے بنگلے سے گارڈ سے سمیت دو افراد کو حراست میں لے رکھا ہے۔
شہر قائد کے پوش علاقے ڈیفنس میں با اثر شخص کی جانب سے نوجوان پر سرعام تشدد کی ویڈیو وائرل ہوئی،ویڈیو میں متاثرہ شخص اور اس کی بہن باربارمعافی کی درخواست کرتے رہے لیکن انکی نہیں سنی گئی۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرملکی اداروں سے کرپشن کے خاتمے اور اصلاحات کےلئے انتھک محنت کررہے ہیں، وزیراعظم ملکی اداروں سے کرپشن کے خاتمے اور اصلاحات کےلئے انتھک محنت کررہے ہیں، وزیراعظم ایک بھی منصوبہ وقت پر مکمل نہیں ہوا! بھارتی ائیر چیف کا زبردست انکشاف عمران خان کا پولی گرافک ٹیسٹ کرنے کیلیے پولیس ٹیم اڈیالہ جیل پہنچ گئی پی ٹی وی ملازمین کو ڈگری ویریفیکیشن کا حتمی نوٹس، عدم تعمیل پر ملازمت ختم کرنے کا انتباہ کراچی میں بنیان مرصوص کانفرنس، علماء کا پاک فوج کو خراج تحسین ایک سو نوے ملین پائونڈ کیس: نیب نے خصوصی پراسیکیوشن ٹیم تشکیل دیدیCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: سلمان فاروقی نوجوان پر
پڑھیں:
ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا، کپیسٹی چارجز کے سبب بجلی کی قیمتیں زیادہ ہیں، قائمہ کمیٹی تجارت
اسلام آباد:قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت کے چیئرمین جاوید حنیف خان کا کہنا ہے کہ ملک میں زیادہ تر ٹیکسز آئی ایم ایف کی شرائط کے تحت عائد کیے جاتے ہیں اور سب کو معلوم ہے کہ ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا جبکہ کپیسٹی چارجز کی وجہ سے بجلی کی قیمتیں بہت زیادہ ہیں۔
ایکسپریس کے مطابق قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت کا اجلاس چیئرمین جاوید حنیف خان کی زیر صدارت منعقد ہوا جس میں گزشتہ بیس برس کے دوران ملکی برآمدات میں خاطر خواہ اضافہ نہ ہونے کی وجوہات پر تفصیلی غور کیا گیا۔
جاوید حنیف خان نے کہا کہ سب کو معلوم ہے کہ ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا جبکہ کپیسٹی چارجز کی وجہ سے بجلی کی قیمتیں بہت زیادہ ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ملک میں زیادہ تر ٹیکسز بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی شرائط کے تحت عائد کیے جاتے ہیں۔
اجلاس میں رکن کمیٹی عالیہ کامران نے کہا کہ پاکستان کی صرف ایک فارماسیوٹیکل کمپنی کو بین الاقوامی سطح پر تسلیم کیا گیا ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ آلو جلد خراب ہو جاتے ہیں انہیں برآمد کرنے کے لیے کیا اقدامات کیے جا رہے ہیں؟ عالیہ کامران نے مزید کہا کہ ملک میں حلال فوڈ اتھارٹی تو موجود ہے لیکن تاحال اس کے قواعد و ضوابط مرتب نہیں کیے گئے جبکہ ایسا سازگار ماحول بھی پیدا نہیں ہو رہا کہ بیرونی سرمایہ کار پاکستان آ کر سرمایہ کاری کریں۔
قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں لائف انشورنس نیشنلائزیشن ترمیمی بل 2026ء بھی زیر بحث آیا۔ اس موقع پر سیکریٹری تجارت جواد پال نے بتایا کہ کمپنی کا نام اسٹیٹ لائف انشورنس لمیٹڈ رکھا جائے گا۔ کمیٹی کے رکن مرزا اختیار بیگ نے استفسار کیا کہ آیا یہ کمپنی پبلک پرائیویٹ لمیٹڈ ہوگی یا سرکاری ادارہ ہوگا اس پر حکام نے وضاحت کی کہ اگر حکومت کے پاس 51 فیصد شیئرز ہوں گے تو کمپنی پبلک شمار ہوگی، بصورت دیگر اسے پرائیویٹ تصور کیا جائے گا۔
سیکریٹری تجارت جواد پال نے مزید بتایا کہ کمپنی وزارت کے ماتحت ہی رہے گی تاہم اس کا بورڈ آزاد ہوگا اس پر کمیٹی کے ایک رکن نے رائے دی کہ اگر بورڈ کو آزاد بنانا مقصود ہے تو اسے آزادانہ طور پر کام کرنے کی بھی اجازت ہونی چاہیے۔
چیئرمین جاوید حنیف خان نے کہا کہ یہ کمپنی بہرحال ایس او ایز ایکٹ کے تحت قائم کی جائے گی۔
سیکریٹری تجارت نے واضح کیا کہ کسی پبلک لمیٹڈ کمپنی کے غیر محدود شیئرز نہیں ہو سکتے۔
اجلاس کے دوران صوبائی قوانین اور اثاثوں کی منتقلی کے معاملات پر بھی گفتگو ہوئی چیئرمین جاوید حنیف خان نے کہا کہ پراپرٹی یا اثاثوں کی منتقلی پر صوبائی قوانین نافذ ہوتے ہیں لہٰذا یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس بل کے ذریعے صوبائی قانون کو کیسے بائی پاس کیا جا سکتا ہے؟ انہوں نے خبردار کیا کہ اسٹیمپ ڈیوٹی یا متعلقہ فیسوں کے حوالے سے صوبے کسی بھی وقت سوال اٹھا سکتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ صوبوں میں انشورنس کے تقریباً دو ٹریلین روپے کے اثاثے موجود ہیں اس لیے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اتنے بڑے اثاثوں پر اسٹیمپ ڈیوٹی کی مالیت کتنی ہوگی؟چیئرمین کمیٹی نے اس بات پر زور دیا کہ کوئی بھی ایسا قانون نہیں بنایا جا سکتا جو صوبوں کے مفادات کو متاثر کرتا ہو۔