منیب بٹ کا اونٹ کیسے بھاگا؟ اداکار نے سوشل میڈیا پر بچوں کی شکایت لگادی
اشاعت کی تاریخ: 2nd, June 2025 GMT
اداکار منیب بٹ کا قربانی کے لیے خریدا گیا اونٹ اچانک رسی تڑوا کر بھاگ نکلا جس کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی۔
وائرل ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ رنگ برنگی اشیا سے سجا اونٹ ایک گلی میں بھاگ رہا ہے جبکہ آس پاس موجود نوجوان اور بچے اس سے خوفزدہ ہو کر دور ہوتے دکھائی دے رہے ہیں۔
اسی ویڈیو کو اداکارہ منال خان نے اپنی انسٹاگرام اسٹوری پر شیئر کرتے ہوئے اپنی بہن ایمن خان اور بہنوئی منیب بٹ کو ٹیگ کیا اور لکھا کہ ’آپ کا اونٹ وائرل ہوگیا ہے‘۔
منیب بٹ نے اس پر انسٹاگرام اسٹوری شیئر کی اور بتایا کہ یہ واقعہ ایک دن قبل پیش آیا تھا۔ اداکار نے بتایا کہ سی سی ٹی وی فوٹیج سے پتا چلا کہ چند بچوں نے اونٹ کو پتھر مارے جس کے باعث وہ ڈر گیا اور رسی توڑ کر بھاگ ہوگیا۔
اداکار نے والدین سے اپیل بھی کی کہ اپنے بچوں کو سمجھائیں کہ قربانی کے لیے لائے گئے جانوروں کے ساتھ کس طرح کا سلوک کیا جاتا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اونٹ اونٹ بھاگ گیا ایمن خان قربانی کا جانور منال خان منیب بٹ.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اونٹ اونٹ بھاگ گیا ایمن خان قربانی کا جانور منال خان
پڑھیں:
اغوا برائے تاوان کیس: پولیس نے منیب بٹ کو بے گناہ قرار دیا، ضمانت واپس لینے کی درخواست
اغوا برائے تاوان کیس میں پولیس نے منیب بٹ کو بے گناہ قرار دیا ہے اور ان کے وکیل نے عدالت سے ضمانت واپس لینے کی درخواست کی ہے۔
کراچی کی انسدادِ دہشت گردی کی منتظم عدالت میں اداکار منیب بٹ کے خلاف اغوا برائے تاوان کے مقدمے کی سماعت ہوئی، جہاں ان کے وکیل نے ضمانت واپس لینے کی درخواست دائر کر دی۔
سماعت کے دوران وکیلِ صفائی نے مؤقف اختیار کیا کہ پولیس نے اپنے چالان میں منیب بٹ کو بے گناہ قرار دیا ہے، لہٰذا ضمانت کی درخواست واپس لینے کی اجازت دی جائے۔
پولیس کے مطابق مقدمے میں ملزمان پر الزام ہے کہ انہوں نے مدعی محمد متعال کو اغوا کر کے 24 لاکھ 94 ہزار روپے مالیت کی کرپٹو کرنسی اور دیگر سامان لوٹ لیا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ منیب بٹ پر ملزمان کو مری میں رہائش دلوانے کا الزام تھا، تاہم تفتیش مکمل ہونے کے بعد انہیں چالان میں بے گناہ قرار دیا گیا۔
پولیس کے مطابق مقدمے میں ایک پولیس اہلکار غالب تاحال مفرور ہے، جبکہ دیگر ملزمان میں شاہد ستار، محمد سلیم، علیم اور وزیر محمد شامل ہیں۔
تحقیقات کے مطابق ملزمان نے 23 اپریل کو شاہراہِ فیصل سے محمد متعال کو اغوا کیا اور کرپٹو کرنسی سمیت دیگر قیمتی سامان چھیننے کے بعد انہیں کورنگی انڈسٹریل ایریا میں چھوڑ دیا تھا۔