غاصب صیہونی فوجیوں کی بکتر بند گاڑی پر کامیاب مارٹر حملہ
اشاعت کی تاریخ: 2nd, June 2025 GMT
مزاحمتی ذرائع کے مطابق اسلامک جہاد تحریک کے عسکری ونگ القدس بریگیڈ نے اعلان کیا ہے کہ مجاہدین کے ایک گروپ الاقصیٰ شہداء بریگیڈ نے العامودی بریگیڈ کے تعاون سے اسرائیلی فوجیوں اور گاڑیوں کے ایک اجتماع کو نشانہ بنایا۔ اسلام ٹائمز۔ اسلامک جہاد کے عسکری ونگ القدس بریگیڈ نے بتایا ہے کہ مجاہدین نے خان یونس میں اسرائیلی فوجیوں کی بکتر بند گاڑیوں کو مارٹر حملوں سے نشانہ بنایا ہے۔ مزاحمتی ذرائع کے مطابق اسلامک جہاد تحریک کے عسکری ونگ القدس بریگیڈ نے اعلان کیا ہے کہ مجاہدین کے ایک گروپ الاقصیٰ شہداء بریگیڈ نے العامودی بریگیڈ کے تعاون سے اسرائیلی فوجیوں اور گاڑیوں کے ایک اجتماع کو نشانہ بنایا، جنہوں نے کسٹم والے علاقے میں دراندازی کی تھی۔ الاقصیٰ بریگیڈز نے بھی ایک الگ بیان جاری کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ ان کے مجاہدین نے کل اسرائیلی قابض فوج کی بکتر بند گاڑیوں کے ایک اجتماع کو نشانہ بنایا، خان یونس کے جنوب میں کسٹم کے علاقے میں 60 کیلیبر مارٹر کے ساتھ حملہ کامیاب رہا۔ تقریباً بیس ماہ قبل غزہ میں فلسطینی مزاحمت کے ہاتھوں انٹیلی جنس اور فوجی شکست کے بعد اسرائیلی فوج نے اس علاقے کے خلاف جنگ کا آغاز کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ اپنے قیدیوں کو زندہ گھر واپس لے جائے گی اور فلسطینی مزاحمت کو ختم کر دے گی۔ یہ دعویٰ آج تک حقیقت کا روپ نہیں دھار سکا، بلکہ صیہونی فوج کے حملوں کے نتیجے میں متعدد قیدی مارے جا چکے ہیں اور فلسطینی مزاحمت ابھی تک برقرار ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: نشانہ بنایا بریگیڈ نے کے ایک
پڑھیں:
ایران کا بحرین میں ایمیزون کے ڈیٹا سینٹر کو نشانہ بنانے کا بڑا دعویٰ
تہران / منامہ: ایران کی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے بحرین میں امریکی ٹیکنالوجی کمپنی ایمیزون کے ایک ڈیٹا سینٹر کو نشانہ بنایا ہے۔ ایرانی حکام کے مطابق یہ کارروائی امریکا کے خلاف جاری جوابی اقدامات کا حصہ ہے۔
ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق پاسدارانِ انقلاب نے ایک بیان میں کہا کہ حملے کا ہدف امریکی کمپنی ایمیزون کی وہ ڈیٹا تنصیب تھی جو ان کے بقول امریکی فوج کو معلوماتی معاونت فراہم کرنے میں کردار ادا کر رہی تھی۔
بیان میں دعویٰ کیا گیا کہ مذکورہ ڈیٹا سینٹر کو نشانہ بنا کر تباہ کر دیا گیا تاہم ایرانی حکام نے اس دعوے کے حق میں فوری طور پر کوئی شواہد یا مزید تفصیلات پیش نہیں کیں۔
دوسری جانب خبر شائع ہونے تک امریکی کمپنی ایمیزون، بحرین کی حکومت یا امریکی حکام کی جانب سے ایران کے اس دعوے پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا، جبکہ آزاد ذرائع سے بھی اس حملے یا اس کے ممکنہ نقصانات کی تصدیق نہیں ہو سکی۔
ایران نے ایک بار پھر اپنے مؤقف کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں وہ تمام فوجی اڈے یا تنصیبات جو امریکا ایران کے خلاف کارروائیوں کے لیے استعمال کرتا ہے، ایران کی نظر میں جوابی حملوں کے لیے جائز ہدف ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اگر ایران کے دعوے درست ثابت ہوتے ہیں تو یہ پہلی بار ہوگا کہ کسی بڑی عالمی ٹیکنالوجی کمپنی کی تنصیب کو ایران نے براہِ راست اپنی فوجی کارروائی کا ہدف قرار دیا ہے۔ تاہم اس معاملے کی آزادانہ تصدیق کا انتظار کیا جا رہا ہے۔