ڈیفنس میں نوجوان کو تشدد کا نشانہ بنانے والا بااثر شخص سلمان فاروقی گرفتار
اشاعت کی تاریخ: 2nd, June 2025 GMT
ڈیفنس خیابان اتحاد میں موٹر سائیکل سوار نوجوان پر تشدد کرنے والا ملزم سلمان فاروقی کو گرفتار کرلیا گیا۔
گزشتہ روز کراچی کے پوش علاقے ڈیفنس میں کار اور موٹر سائیکل میں تصادم کے بعد کار سوار بااثر شخص آپے سے باہر ہوگیا اور نوجوان کو اس کی بہنوں کے سامنے تشدد کا نشانہ بنایا۔واقعے کی فوٹیج وائرل ہونے کے بعد پولیس بھی ایکشن میں آگئی اور واقعے کا مقدمہ درج کرکے بااثر شخص کے سیکیورٹی گارڈ، ڈرائیور اور گھریلو ملازم کو حراست میں لے لیا اور ایک گاڑی بھی تحویل میں لے لی تھی۔
تاہم اب ڈی آئی جی اسد رضا نے اس واقعے میں ملوث مرکزی ملزم سلمان فاروقی کو گرفتار کرلیا، پولیس کا کہنا ہے کہ بااثر شخص کو ٹیکنیکل بنیاد پر گرفتار کیا گیا۔ڈی آئی جی اسد رضا نے ملزم کی گرفتار کے حوالے سے مزید بتایا کہ ملزم کے دفتر اور گھر پر بھی چھاپے مارے گئے تھے، تاہم اب ملزم کو گرفتاری کے بعد لاک اپ کردیا گیا ہے۔
ڈی آئی جی ساؤتھ کا کہنا تھا کہ فوٹیجز کا باریک بینی سے جائزہ لیا گیا، فوٹیجز کی مدد سے مرکزی ملزم کی شناخت عمل میں لائی گئی، ملزم کی شناخت کے بعد پولیس کی مختلف ٹیمیں بنائی گئی پھر ملزم کو گرفتار کیا گیا۔ڈی آئی جی ساؤتھ نے مزید کہا کہ پہلے متاثرہ شہری کو ٹریس کیا گیا اس کے بعد ملزم کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا تھا، تشدد، دھمکیوں اور ہتک آمیز رویہ کی دفعات کے تحت ملزم کیخلاف کارروائی ہوگی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
کلیدی لفظ: کو گرفتار ڈی ا ئی جی بااثر شخص کیا گیا ملزم کی کے بعد
پڑھیں:
نیٹ پیپر لیک: دہلی سے اٹھنے والا احتجاج بھارت بھر میں پھیل گیا، دہلی یونیورسٹی نے طلبہ کو جنتر منتر جانے سے روک دیا
بھارت میں نیٹ (NEET) امتحان کے مبینہ پیپر لیک کے خلاف دہلی سے شروع ہونے والا احتجاج اب ملک کے مختلف شہروں تک پھیل گیا ہے۔ طلبہ کی جانب سے امتحانی نظام میں شفافیت، ذمہ داروں کے خلاف کارروائی اور اصلاحات کے مطالبات زور پکڑتے جا رہے ہیں، جبکہ دہلی یونیورسٹی نے اپنے طلبہ اور اساتذہ کو جنتر منتر پر جاری احتجاج میں شرکت سے گریز کرنے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔
پیپر لیک کے خلاف احتجاج اب صرف دارالحکومت دہلی تک محدود نہیں رہا۔ ممبئی، کولکاتا، بنگلورو، حیدرآباد، پٹنہ، لکھنؤ، چندی گڑھ اور دیگر شہروں میں بھی طلبہ تنظیموں نے ریلیاں، دھرنے اور احتجاجی مظاہرے شروع کر دیے ہیں۔ متعدد مقامات پر طلبہ نے امتحانی نظام میں اصلاحات، پیپر لیک میں ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی اور شفاف امتحانی عمل کو یقینی بنانے کا مطالبہ کیا۔
Huge crowd of students floods roads of Nashik.
Student protest is now getting pan India surge. pic.twitter.com/tW5HlH2LuY
— VIZHPUNEET (@vizhpuneet) July 23, 2026
ادھر اپوزیشن جماعتیں بھی طلبہ کی حمایت میں میدان میں آ گئی ہیں۔ لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہول گاندھی اور ’انڈیا اتحاد‘ کے دیگر رہنماؤں نے احتجاجی طلبہ سے اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے وفاقی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کا مطالبہ دہرایا ہے۔
دوسری جانب نیٹ دہلی یونیورسٹی نے اپنے سرکاری بیان میں کہا ہے کہ جنتر منتر پر ہونے والے اجتماعات سپریم کورٹ کی ہدایات کے تحت منظم کیے جاتے ہیں اور کسی بھی غیرقانونی مظاہرے میں شرکت کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کی جا سکتی ہے۔ انتظامیہ کے مطابق ایسے اقدامات طلبہ کی سلامتی، تعلیمی مستقبل اور پیشہ ورانہ مواقع کو متاثر کر سکتے ہیں، اس لیے انہیں احتجاجی سرگرمیوں سے دور رہنے کی تلقین کی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:وزیرِ تعلیم کے استعفے کا مطالبہ، نئی دہلی میں طلبہ کے احتجاج پر لاٹھی چارج
یونیورسٹی نے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی جعلی اور گمراہ کن خبروں سے بھی خبردار کرتے ہوئے طلبہ کو غیر مصدقہ معلومات شیئر نہ کرنے کا مشورہ دیا ہے۔
بھارتی حکومت کا کہنا ہے کہ پیپر لیک معاملے کی تحقیقات جاری ہیں اور ذمہ داروں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی، تاہم طلبہ تنظیموں نے واضح کیا ہے کہ مطالبات کی منظوری تک احتجاج جاری رہے گا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بھارت احتجاج دہلی احتجاج نیٹ پیپر لیک