فنڈز کے حوالے سے جو اشارے ملے ہیں بہتر ہوتا نہ ہی دیتے،مزمل اسلم
اشاعت کی تاریخ: 2nd, June 2025 GMT
فنڈز کے حوالے سے جو اشارے ملے ہیں بہتر ہوتا نہ ہی دیتے،مزمل اسلم WhatsAppFacebookTwitter 0 2 June, 2025 سب نیوز
پشاور (سب نیوز)مشیر خزانہ کے پی مزمل اسلم کا کہنا ہے کہ فنڈز کے حوالے سے جو اشارے ملے ہیں بہتر ہوتا نہ ہی دیتے، صحافی نے سوال کیا سنا ہے آپ کو چار سو چالیس ارب روپے کے ترقیاتی فنڈز ملنے ہیں، مزمل اسلم بولے آپ کے پاس غلط معلومات ہیں۔ اس سال وفاق کو کوئی ترقیاتی بجٹ نہیں ملا، ہم نے 3 ہزار 300 ارب کی ڈیمانڈ کی۔
مشیرخزانہ خیبر پختونخوا مزمل اسلم نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ وفاقی حکومت کی سالانہ رپورٹ کارڈ کا سیزن شروع ہو گیا، آج میں نے وفاقی حکومت کے چہرے پر بے بسی دیکھی، ملکی شرح نمو اس وقت 2.
مزمل اسلم نے کہا کہ اب 2.68 فیصد ہو یا 1.5 فیصد یہ کوئی بڑا ہدف نہیں، پنجاب میں لائیو اسٹاک ویکسین کا کریڈٹ حکومت لے رہی ہے، گزشتہ دنوں ایک اڑان پروگرام جاری تھا، کہا جاتا تھا 2029 میں پاکستان ایک ہزار ارب کی معیشت بن جائے گی، ملک کو زراعت کی 10 ارب ڈالر کی درآمد کرنی ہوگی۔
مشیر خزانہ کے پی نے کہا کہ اس سال کسانوں کا 2 ہزار 800 ارب کا نقصان ہوگا، حکومت کہہ رہی ہے اگلے سال مہنگائی 7.5 فیصد پر جا رہی ہے، اس وقت دعوں اورحقیقت میں بہت فرق آ رہا ہے، اس سال ملک کی جی ڈی پی ایک لاکھ 14 ہزار ارب ہے، اگلے سال تک ایک لاکھ 29 ہزار ارب تک پہنچ جائے گی۔
مزمل اسلم نے بتایا کہ اس سال وفاق کو کوئی ترقیاتی بجٹ نہیں ملا، ہم نے 3 ہزار 300 ارب کی ڈیمانڈ کی، کے پی سرکاری ملازمین کی تنخواہ وفاق کے برابربڑھائے گا، وفاقی بجٹ میں پنشن پرچھری چلانے جا رہی ہے، ایک خاندان کی پنشن 3 مرحلوں تک محدود کی جا رہی ہے، اس سال وفاق سے ہمیں 300 ارب روپے کم ملیں گے۔
انھوں نے مزید کہا کہ 12جون کو سرپلس بجٹ کے اصل تخمینے کا پتہ چلے گا، کم ازکم وہ بجٹ ضرور دیں جو بجٹ میں اعلان کیا گیا، آج ہمیں تسلی سے سنا گیا ہے اس پر داد دیتا ہوں، ہو سکتا ہے وفاق اگلے مالی سال ڈالر کی قلت پیدا کر دے، اگلے مالی سال ترقی کا کوئی معجزہ ہو جائے مشکل ہے۔مزمل اسلم نے پریس کانفرنس میں مزید کہا کہ حکومتی ترجیحات میں تعلیم کہیں بھی نہیں ہے، ہمارے صوبے کے کئی منصوبے نامکمل پڑے ہیں، وزارت منصوبہ بندی کے بقول 118 پراجیکٹ ختم کر دیے ہیں، زراعت کی پیداوار اس وقت انتہائی کم ہے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرپنجاب میں غیرمعیاری فیول کے استعمال پر پابندی عائد،اطلاق فوری ہو گا پنجاب میں غیرمعیاری فیول کے استعمال پر پابندی عائد،اطلاق فوری ہو گا عام انتخابات کے بعد کل سمبڑیال میں دوبارہ عوام کے ووٹ پر ڈاکا ڈالا گیا، سلمان اکرم راجا وفاقی حکومت نے عید کی چار چھٹیوں کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا پاکستان میں گلیشیئرز کے تحفظ ، موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کی جامع پالیسی کا فریم ورک تیار ترقیاتی بجٹ میں 100ارب کی کٹوتی تشویشناک ہے، عاطف اکرام شیخ چیئرمین سی ڈی اے کی زیر صدارت اجلاس، غیر قانونی ہاوسنگ سوسائٹیوں کی تفصیلات اخبارات میں مشہتر کرنے کا فیصلہCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: اس سال ارب کی کہا کہ رہی ہے
پڑھیں:
حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا
اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء) حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا، ایف بی آر نے پہلے 11 ماہ میں 11 ہزار 257 ارب روپے ٹیکس اکٹھا کیا ، مئی میں 994 ارب روپے وصول کیے ۔ تازہ ترین حکومتی اعداد و شمار کے مطابق ایف بی آر کی ٹیکس وصولیاں نظرثانی شدہ اہداف کے مطابق جاری ہیں۔ مشیر وزیر خزانہ خرم شہزاد کے مطابق 864 ارب روپے کے ٹیکس شارٹ فال کا تاثر ابتدائی 14 ہزار 130 ارب روپے کے ہدف کی بنیاد پر دیا جا رہا ہے جو گمراہ کن ہے۔معاشی حالات میں تبدیلی کے بعد آئی ایم ایف کی مشاورت سے ریونیو ہدف تقریباً 13 ہزار ارب روپے تک ایڈجسٹ کیا گیا۔ مشیر وزیر خزانہ نے کہا کہ مہنگائی،درآمدات اور عالمی صورتحال میں تبدیلی کے باعث اہداف پر نظرثانی معمول کا مالی عمل ہے، نظرثانی شدہ مالی فریم ورک کیتحت ایف بی آر کی کارکردگی مضبوط،11 ماہ کا تقریباً مکمل ہدف حاصل کیا گیا، ایف بی آر نے پہلے 11 ماہ میں 11 ہزار 257 ارب روپے ٹیکس اکٹھا کیا جبکہ مئی میں 994 ارب روپے وصول کیے۔(جاری ہے)
مشیر وزیر خزانہ نے کہا کہ مئی میں ایف بی آر نے ماہانہ ہدف کا 97 فیصد جبکہ 11 ماہ کے ہدفکا 99.8 فیصد حاصل کیا، موجودہ کارکردگی ریونیو بحران یا بڑے ٹیکس شارٹ فال کے دعوؤں کی نفی کرتی ہے، جون 2026 کا 1 ہزار 727 ارب ریونیو ہدف 15 فیصد اضافے کے ساتھ نظرثانی شدہ مالی فریم ورک کے مطابق قابل حصول ہے، کاروباری طبقے اور سرمایہ کار غیر معمولی ٹیکس اقدامات سے متعلق قیاس آرائیوں پر توجہ نہ دیں، مالی معاملات پر تبصرہ پرانے اہداف کے بجائے موجودہ معاشی حقائق اور درست اعداد و شمار پر ہونا چاہیے۔