سندھ اسمبلی اراکین سی ای او کے الیکٹرک پر برہم، شکایتوں کے انبار لگا دیے
اشاعت کی تاریخ: 2nd, June 2025 GMT
فائل فوٹو۔
سندھ اسمبلی کے اراکین، کے الیکٹرک کے سی ای او مونس علوی پر برہم ہوگئے، شکایتوں کے انبار لگا دیے۔
کراچی میں سندھ اسمبلی کے اجلاس کے دوران جماعت اسلامی کے رکن محمد فاروق نے کہا کہ گزشتہ اجلاس میں طے ہوا تھا کہ رات کی لوڈ شیڈنگ نہیں ہوگی۔
انھوں نے پوچھا کہ شیڈول کب، کیسے اور کس کی اجازت سے تبدیل ہوا ہے۔
سی ای او کے ای مونس علوی نے کہا کہ ہیٹ ویو 45 ڈگری پر لوڈ شیڈنگ نہیں کرتے ہیں۔
جماعت اسلامی کے رکن محمد فاروق نے کہا کہ کراچی میں 45 ڈگری درجہ حرارت کب ہوا ہے، جس پر سی ای او کے الیکٹر مونس علوی نے کہا جماعت اسلامی والوں کو ہم سے کچھ زیادہ محبت ہے۔
محمد فاروق نے کہا جماعت اسلامی غور کر رہی ہے کہ ہم ڈسٹری بیوشن کمپنی لے آئیں۔
رکن پی پی آصف موسیٰ نے کہا کچھ تاجر اپنی کمپنی لانا چا رہے ہیں لیکن آپ ان کی مخالفت کر رہے ہیں۔
جماعت اسلامی کے رکن محمد فاروق نے کہا آج کا اجلاس نتیجہ خیز ثابت ہونا چاہیے، شہریوں کو ریلیف ملنا چاہیے۔ انھوں نے مزید کہا کے الیکٹرک نے اپنی ہٹ دھرمی جاری رکھی تو آئندہ اجلاس کا بائیکاٹ کروں گا۔
یہ بھی پڑھیے کراچی والے شدید گرمی میں لوڈ شیڈنگ کے عذاب میں مبتلا ہیں، ایم کیو ایم کراچی میں لوڈ شیڈنگ کے خلاف مظاہرہ کرنیوالے کےالیکٹرک کی درخواست پر گرفتارایم کیو ایم کی رکن بلقیس مختار نے کہا کے الیکٹرک کے سی ای او سنجیدہ نہیں اور پوائنٹ نوٹ نہیں کر رہے۔
لیاری سے آزاد رکن سجاد سومرو نے کہا آپ بار بار موبائل استعمال کر رہے ہیں اب مت کیجیے گا۔
پیپلز پارٹی کی سعدیہ جاوید نے کہا گزشتہ اجلاس میں کے الیکٹرک حکام نے ایم پی اے کے بارے میں سخت جملے استعمال کیے۔
سعدیہ جاوید کا مزید کہنا تھا کہ انہیں اس عمل پر معافی مانگنے کا کہا جائے ورنہ اجلاس سے باہر نکالیں۔ جس پر مونس علوی نے ادارے کی طرف سے اراکین اسمبلی سے معذرت کی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: محمد فاروق نے کہا جماعت اسلامی کے الیکٹرک مونس علوی لوڈ شیڈنگ سی ای او
پڑھیں:
فراری کی پہلی الیکٹرک کار متعارف، رونمائی کے فوراً بعد تنقید کا طوفان
پُرتعیش گاڑیاں بنانے والی عالمی شہرت یافتہ کمپنی فراری کی پہلی مکمل الیکٹرک گاڑی منظرِ عام پر آتے ہی شدید تنقید کی زد میں آ گئی، جس کے اثرات کمپنی کی مارکیٹ پوزیشن پر بھی نمایاں طور پر دیکھے جا رہے ہیں۔
’لُوچے‘نامی اس نئی الیکٹرک گاڑی کو معروف ڈیزائنر سر جونی آئیو کے تخلیقی وژن کے تحت تیار کیا گیا ہے۔ اطالوی زبان میں ’لُوچے‘ کا مطلب ’روشنی‘ ہے۔ تاہم، گاڑی کا ڈیزائن اور مجموعی تصور صارفین اور ناقدین کی توقعات پر پورا نہ اتر سکا۔
فراری کی تاریخ میں پہلی بار متعارف کرائی گئی پانچ نشستوں والی اس الیکٹرک گاڑی کو غیرمعمولی کارکردگی کے ساتھ پیش کیا گیا ہے۔
کمپنی کے مطابق یہ گاڑی محض ڈھائی سیکنڈ میں صفر سے 96 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار حاصل کر سکتی ہے۔ اس کی قیمت 6 لاکھ 40 ہزار ڈالر، یعنی پاکستانی کرنسی میں تقریباً 18 کروڑ روپے رکھی گئی ہے۔
گاڑی کی تقریبِ رُونمائی میں اٹلی کی اہم شخصیات سمیت ملک کے صدر اور عیسائی برادری کے روحانی پیشوا پوپ لیو کو بھی مدعو کیا گیا تھا۔ تاہم، شاندار تقریب کے باوجود مارکیٹ کا ردِعمل فراری کے لیے حوصلہ افزا ثابت نہ ہو سکا۔
رونمائی کے صرف ایک دن بعد ہی کمپنی کے شیئرز کی قیمت میں آٹھ فی صد تک کمی ریکارڈ کی گئی، جسے سرمایہ کاروں کی مایوسی اور مارکیٹ کے منفی ردِعمل کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔
دوسری جانب ناقدین، سرمایہ کاروں اور بعض سیاسی شخصیات نے بھی گاڑی کے ڈیزائن اور تصور پر سوالات اٹھائے ہیں، جبکہ سوشل میڈیا پر اس کے منفرد انداز کو لے کر ملا جلا ردِعمل سامنے آ رہا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ الیکٹرک گاڑیوں کی بڑھتی ہوئی عالمی مارکیٹ میں فراری کا یہ قدم تاریخی ضرور ہے، مگر کمپنی کو روایتی اسپورٹس کار کے شوقین صارفین کو قائل کرنے کے لیے مزید محنت کرنا پڑ سکتی ہے۔