فارم 47 کے نتیجے میں مسلط وفاقی حکومت کے پی کے عوام کو مسلسل نظرانداز کررہی ہے، عبدالواسع
اشاعت کی تاریخ: 2nd, June 2025 GMT
جماعت اسلامی کے صوبائی امیر کا کہنا تھا کہ صوبے میں تاریخ کی بدترین کرپشن زور وشور سے جاری ہے اور عوام بدامنی، بڑھتی ہوئی مہنگائی کے ساتھ ساتھ شدید گرمی کے اس موسم میں 14 گھنٹے کی غیراعلانیہ ناروا لوڈ شیڈنگ سے دوچار ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ امیر جماعت اسلامی خیبر پختونخوا وسطی عبدالواسع نے کہا ہے کہ گرمی میں اضافے کے ساتھ ہی حکومت نے خیبر پختونخوا کے طول و عرض میں ناروا لوڈشیڈنگ کا نہ ختم ہونے والے سلسلے میں بھی اضافہ کردیا ہے، اس وقت تحصیل تحت بھائی اور ضلع مردان بھر میں 14 گھنٹے ناروا لوڈشیڈنگ روز کا معمول بن چکا ہے۔ جماعت اسلامی کے صوبائی ہیڈکوارٹر مرکز اسلامی پشاور میں مختلف وفود سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس وقت نون لیگ اور پیپلزپارٹی مرکز میں جبکہ پاکستان تحریک انصاف کی صوبہ خیبر پختونخوا میں گزشتہ 13 سالوں سے مسلسل تیسری حکومت قائم ہے لیکن ان جماعتوں کی ترجیحات میں عوام کو بنیادی سہولیات زندگی کی فراہمی دور دور تک نظر نہیں آرہی ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ صوبے میں تاریخ کی بدترین کرپشن زور وشور سے جاری ہے اور عوام بدامنی، بڑھتی ہوئی مہنگائی کے ساتھ ساتھ شدید گرمی کے اس موسم میں 14 گھنٹے کی غیراعلانیہ ناروا لوڈ شیڈنگ سے دوچار ہیں جبکہ دوسری طرف آئے روز پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں سمیت بجلی، گیس اور دیگر یوٹیلٹی بلز میں اضافے کی صورت میں حکمران طبقہ عوام کے زخموں پر نمک پاشی کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت ایک طرف ملک پر فارم 47 کے نتیجے میں مسلط وفاقی حکومت صوبے کے عوام کو مسلسل نظرانداز کررہی ہے اور صوبے کو اس کے آئینی حقوق سے محروم رکھا ہے جبکہ دوسری طرف گزشتہ 13 سالوں سے تبدیلی اور انصاف کے نام پر برسراقتدار صوبائی حکومت کی ترجیحات میں بھی عوام کو ریلیف کی فراہمی دور دور تک نظر نہیں آرہی۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: عوام کو
پڑھیں:
وفاقی بجٹ پر پیپلز پارٹی کے خدشات دور کرنے کیلئے حکومت اور پی پی پی کے مذاکرات نتیجہ خیز نہ ہوسکے
اسلام آباد: وفاقی بجٹ پر پیپلز پارٹی کے خدشات دور کرنے کے لیے وزارت خزانہ میں حکومت اور پیپلز پارٹی کے مذاکرات نتیجہ خیزنہ ہوسکے۔ذرائع کے مطابق پیپلز پارٹی کو گلہ ہے کہ بجٹ پر انہیں اعتماد میں نہیں لیا گیا۔بجٹ پر پیپلز پارٹی کے خدشات دور کرنے کے لیے وزارت خزانہ میں حکومتی ٹیم اور پیپلز پارٹی کے درمیان اجلاس ختم ہوگیا۔اجلاس میں کوئی آئینی ترمیم زیر بحث نہیں۔ این ایف سی میں تبدیلی پر بھی کوئی بات چیت نہیں ہوئی۔ذرائع کے مطابق اجلاس میں پیپلزپارٹی کے خدشات دور نہ کیے جاسکے۔ پیپلزپارٹی اور حکومتی ٹیم کا اجلاس آج دوبارہ ہوگا۔اس سے پہلے5 جون کو ہونے والا بجٹ اجلاس مؤخر کردیا گیا تھا،نئی تاریخ کا فیصلہ نہ ہوسکا تھا۔پارلیمانی ذرائع کا کہنا تھا حکومت بجٹ سے پہلے اہم قانون سازی کرنا چاہتی ہے۔ ایم کیو ایم پاکستان نے بھی کامران ٹیسوری کی بطور گورنر سندھ تعیناتی کو بجٹ منظوری سے مشروط کیا تھا۔