سونا عوام کی پہنچ سے مزید دور، آج بھی قیمت میں ہوشربا اضافہ
اشاعت کی تاریخ: 2nd, June 2025 GMT
عالمی اور مقامی مارکیٹوں میں سونے کی قیمت میں آج بھی بڑا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
رپورٹ کے مطابق روس یوکرین کے درمیان کشیدگی بڑھنے سے سونے کی ڈیمانڈ میں دوبارہ اضافے سے بین الاقوامی بلین مارکیٹ میں فی اونس سونے کی قیمت 59ڈالر کے اضافے سے 3ہزار 347ڈالر کی سطح پر آگئی۔
عالمی مارکیٹ میں اضافے کے باعث مقامی صرافہ مارکیٹوں میں بھی پیر کو سونے کی قیمتوں میں یک دم بڑا اضافہ ہوگیا۔
اضافے کے بعد ملک میں 24 قیراط کا حامل فی تولہ سونے کی قیمت 5 ہزار 900 روپے کے اضافے سے 3لاکھ 53ہزار 100روپے کی سطح پر آگئی۔
اس کے علاوہ فی دس گرام سونے کی قیمت بھی 5ہزار 058روپے بڑھ کر 3لاکھ 2ہزار 726روپے کی سطح پر پہنچ گئی۔
اس کے برعکس فی تولہ چاندی کی قیمت بغیر کسی تبدیلی کے 3ہزار 356روپے اور دس گرام چاندی کی قیمت بھی بغیر کسی تبدیلی کے 2ہزار 962روپے کی سطح پر مستحکم رہی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: سونے کی قیمت کی سطح پر
پڑھیں:
گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتے ہی بجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان
لاہور ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتے ہی بجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان۔ تفصیلات کے مطابق بجلی صارفین کے لیے ایک بار پھر قیمتوں میں اضافے کا امکان پیدا ہوگیا ہے، کیونکہ نیپرا میں اپریل کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی درخواست پر سماعت کے دوران بجلی ایک روپے 73 پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔ سماعت کے دوران سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) کے حکام نے بتایا کہ اپریل کے مہینے میں خطے میں جاری جنگ کے اثرات بھی سامنے آئے تھے، جس کے باعث توانائی کے شعبے کو مختلف چیلنجز کا سامنا رہا۔ سی پی پی اے کے مطابق اس عرصے کے دوران درآمدی ایل این جی بالکل دستیاب نہیں تھی، تاہم مئی میں ایل این جی کے کنٹریکٹ اور سپاٹ کارگوز موصول ہوئے، جس کے بعد ایل این جی پر چلنے والے پاور پلانٹس کو فعال کیا گیا۔(جاری ہے)
حکام نے نیپرا کو بتایا کہ صنعتی شعبے کے علاوہ تمام صارفین کی کیٹیگریز میں بجلی کی کھپت میں کمی ریکارڈ کی گئی۔ اس کے ساتھ ساتھ آئندہ 2 ماہ کے لیے ایل این جی کی یومیہ بنیادوں پر پلاننگ مکمل کر لی گئی ہے تاکہ بجلی کی پیداوار اور ایندھن کی دستیابی کو مؤثر انداز میں برقرار رکھا جا سکے۔ سی پی پی اے حکام کا کہنا تھا کہ مئی، جون اور جولائی کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ میں صارفین کو زیادہ بڑے جھٹکوں کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا کیونکہ ایندھن کی فراہمی اور بجلی کی پیداوار کے حوالے سے ضروری منصوبہ بندی کر لی گئی ہے۔