کراچی:

وفاقی وزیر برائے بحری امور، محمد جنید انوار چوہدری نے کراچی پورٹ ٹرسٹ اظہار عباسی اسپتال میں 300 کلو واٹ سولرائزیشن منصوبے کا افتتاح کر دیا۔

منصوبہ 3 کروڑ 18 لاکھ روپے کی لاگت سے مکمل کیا گیا ہے، جس کا مقصد اسپتال کی فوسل فیولز پر انحصار کم کرنا اور ماحولیاتی تبدیلی کے بڑھتے ہوئے چیلنج سے نمٹنا ہے۔

افتتاحی تقریب میں کے پی ٹی ٹرسٹیز (ٹرانزیشن کمیٹی)، جنرل منیجر انجینئرنگ ریئر ایڈمرل حبیب الرحمٰن، ریئر ایڈمرل عتیق الرحمٰن (جی ایم آپریشنز)، بریگیڈیئر محمد یونس (جی ایم ایڈمنسٹریشن) سمیت وزارت اور کراچی پورٹ ٹرسٹ کی اعلیٰ قیادت نے شرکت کی۔

وفاقی وزیر جنید انوار چوہدری نے تقریب سے بطور مہمانِ خصوصی خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عوامی خدمت کے اداروں، خصوصاً اسپتالوں میں صاف توانائی کی طرف منتقلی وقت کی اہم ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ اسپتال کی سولرائزیشن نہ صرف کیماڑی میں جاری بجلی کی لوڈشیڈنگ کا حل ہے بلکہ یہ منصوبہ کاربن کے اخراج میں کمی لانے کی ایک اسٹریٹجک کوشش ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ فوسل فیول پر چلنے والے جنریٹرز ہر ماہ تقریباً 5,000 لیٹر ایندھن استعمال کرتے ہیں، جو ماحولیاتی آلودگی اور موسمیاتی تبدیلی میں اضافے کا باعث بنتے ہیں۔

وزیر موصوف نے منصوبے کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام حکومت کی ماحولیاتی پالیسی کے مطابق ہے اور وزیر اعظم میاں محمد شہباز شریف کی سرکاری اداروں کو قابلِ تجدید توانائی پر منتقل کرنے کی ہدایت کا حصہ ہے۔

انہوں نے بتایا کہ سولرائزیشن سے سالانہ 2 کروڑ 16 لاکھ روپے کی بچت ممکن ہوگی جبکہ کاربن کے اخراج میں نمایاں کمی آئے گی، جو ماحولیاتی اور معاشی دونوں حوالوں سے فائدہ مند ہے۔

منصوبے کی عمر 25 سال ہے اور اس دوران سالانہ مرمت کی لاگت صرف 4 لاکھ 50 ہزار روپے ہوگی، جس سے یہ منصوبہ انتہائی مؤثر اور ماحول دوست ثابت ہوگا۔

انہوں نے زور دیا کہ اس قسم کے منصوبے نہ صرف ماحولیاتی تبدیلی سے نمٹنے میں معاون ہیں بلکہ قومی خود انحصاری اور معاشی استحکام میں بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

گرمی کی شدت اور موجودہ ہیٹ ویو، جو عالمی موسمیاتی تبدیلی کا مظہر ہے، کے پیشِ نظر وزیر موصوف نے پائیدار توانائی کے حل کے لیے حکومت کے عزم کا اعادہ کیا اور دیگر سرکاری اداروں کو بھی ایسے اقدامات اپنانے کی تلقین کی۔

افتتاحی تقریب کے بعد، وفاقی وزیر جنید انور نے اسپتال کے مختلف وارڈز کا دورہ کیا، مریضوں کی عیادت کی، اور ماحول دوست اقدامات کے ذریعے صحت عامہ کے نظام کو بہتر بنانے کے حکومتی عزم کا اعادہ کیا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: انہوں نے کہا کہ

پڑھیں:

کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری

پریس کلب کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سکھ برادری کے رہنماؤں نے کہا کہ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر انکی عبادتگاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ کوئٹہ میں سکھ برادری کے رہنماء سردار جسبیر سنگھ اور کنزیومر سول سوسائٹی بلوچستان کے رہنماء خیر محمد شاہین نے کہا ہے کہ آرچر روڈ پر موجود سکھوں کا قدیمی گردوارہ 1953ء سے سینٹ گیبریل سکول قائم تھا، جسے مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانے کا کام شروع کیا گیا ہے، جس کی مذمت کرتے ہیں۔ یہ گردوارہ سکھ برادری نے تعلیمی سرگرمیوں کے لئے سینٹ گیبرل سکول کو دے رکھا تھا۔ انہوں نے وزیراعظم پاکستان اور دیگر اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ گزشتہ دنوں نامعلوم افراد کی جانب سے سکھوں کے مقدس گردوارے کی 90 سالہ پرانی عمارت کو مسمار کرنے کا نوٹس لیکر گردوارے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کے دوران کیا۔

انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں سکھ برادری کی ہزاروں ایکڑ اراضیات، مقدس مقامات بدستور لینڈ مافیا کے قبضے میں ہیں۔ حکومت کی جانب سے ان کی واگزاری کے لئے کوششیں بار آور ثابت نہیں ہو رہی ہے۔ آرچر روڈ پر واقع گردوارہ کو شری سنگھ بنیاد گرودت سنگھ نے تعمیر کیا تھا اور پرانے بندوبست کے ریکارڈ میں فرد انتقالات انہی کے نام سے اب بھی موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ وہی گرودت سنگھ ہے۔ جنہوں نے گورنمنٹ اسپیشل ہائی اسکول جو خالصہ کہلاتی تھی کی بنیاد رکھی تھی اور جاتے ہوئے اسکول کی 20 ایکڑ اراضی مقامی بچوں کی تعلیمی مقاصد کے لئے وقف کر دی تھی۔ یہ عمارت سینٹ گیبرل اسکول یا محکمہ اوقاف کی نہیں، بلکہ سکھوں کی مذہبی عبادت گاہ گردوارہ سکھ سبھا کی ملکیت ہے۔ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر ان کی عبادت گاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ مبینہ طور پر کہا جا رہا ہے کہ محکمہ اوقاف نے تجارتی مقاصد کے لئے عمارت کی زمین تجارتی بنیادوں پر فروخت کر دی ہے، اگر یہ درست ہے تو انتہائی تشویش کی بات ہے کہ محکمہ اوقاف متروکہ عمارت کی نگران ہوتی ہے مالک نہیں۔ محکمہ اوقاف سکھوں کے نمائندوں کی موجودگی میں سکھوں کی متراکہ املاک کو کس طرح قانون کے تحت فروخت کرنے کی مجاز ہے۔ 2014ء میں سپریم کورٹ نے واضح فیصلہ دیا تھا کہ پاکستان میں سکھوں کے تمام مقدس مقامات پر جائیدادوں کو حکومت پاکستان کی جانب سے مکمل تحفظ فراہم رہے گا۔ اس کے علاوہ آئین میں تمام اقلیتوں کے مذہبی عمارات کو تحفظ کا حق حاصل ہے۔ ہم وزیراعظم پاکستان اور اعلیٰ حکام سے مطالبہ کرتے ہیں کہ آرچر روڈ کے منہدم مذکورہ گردوارے کو فی الفور اس کی اصل حالت میں بحال کرکے اسے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے تاکہ انصاف کے تقاضے پورے ہوسکیں۔

متعلقہ مضامین

  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
  • راولپنڈی میں 14 سالہ فیکٹری ملازم کے ساتھ ’استاد‘ کی بدفعلی، لڑکا اسپتال میں داخل
  • سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے
  • جدہ قونصل خانے میں اہم انتظامی تبدیلی، فرینہ ارشد نے ڈپٹی قونصل جنرل کا عہدہ سنبھال لیا
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
  • دیو ہیکل بحری جہاز "ایم ایس سی ڈیلیٹا” کراچی پورٹ پہنچ گیا
  • پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات کا اسکولوں میں خود پڑھانے کا اعلان
  • پاکستانی پرچم بردار جہازوں کیخلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کا خطرہ تصور کیا جائیگا: دفتر خارجہ
  • ولیکا اسپتال میں ایچ آئی وی کا ایک اور کیس رپورٹ، 18 ماہ کے بچے میں بیماری کی تصدیق