بلوچستان، سکیورٹی فورسز کی مختلف کارروائیوں میں 7 مبینہ دہشتگرد ہلاک
اشاعت کی تاریخ: 3rd, June 2025 GMT
آئی ایس پی آر کے مطابق مچھ اور قلات میں دو کارروائیوں میں 7 مبینہ دہشتگرد ہلاک ہوئے، جو مختلف دہشتگردانہ کارروائیوں میں ملوث رہے تھے۔ اسلام ٹائمز۔ سکیورٹی فورسز نے بلوچستان کے مختلف علاقوں میں کارروائیاں کرتے ہوئے 7 مبینہ دہشتگردوں کو ہلاک کر دیا۔ آئی ایس پی آر کے مطابق خفیہ اطلاع کی بنیاد پر مچھ کے علاقے کچھی میں کارروائی کی گئی۔ جس میں سکیورٹی فورسز نے دہشتگردوں کے ٹھکانے کو مؤثر طریقے سے نشانہ بنایا۔ اس دوران شدید فائرنگ کے تبادلے میں 5 مبینہ دہشتگرد مارے گئے۔ آئی ایس پی آر نے بتایا کہ دوسرا انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن قلات کے علاقے مارگند میں کیا گیا۔ جہاں "فتنہ الہندوستان" کے ایک ٹھکانے کو تباہ کیا گیا۔ جس میں 2 مبینہ دہشتگرد بھی مارے گئے۔ ہلاک دہشتگردوں سے اسلحہ، گولہ بارود اور دھماکا خیز مواد بھی برآمد کیا گیا۔ بیان کے مطابق یہ دہشتگرد مختلف دہشتگردانہ کارروائیوں میں ملوث رہے تھے۔ آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ بلوچستان میں بھارتی پراکسی "فتنہ الہندوستان" سے تعلق رکھنے والے دہشتگردوں کے قبضے سے اسلحہ، ایمونیشن اور گولہ بارود بھی برآمد کیا گیا۔ آئی ایس پی آر نے کہا کہ پاکستان کے سکیورٹی ادارے بھارتی سرپرستی میں ہونے والی دہشتگردی کےخاتمے کے لئے پرعزم ہیں۔ بھارتی پشت پناہی میں ہونے والی دہشتگردی کے مجرموں اور ان کے سہولت کاروں کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: کارروائیوں میں ا ئی ایس پی ا ر مبینہ دہشتگرد کیا گیا
پڑھیں:
کراچی میں 2 سال قبل شروع ہونیوالی مفت شٹل سروس کمرشل بنیاد پر چلائی جارہی ہے
کراچی سے دوسرے شہروں میں جانے کے لیے شہر میں جگہ جگہ قائم بس اڈے دو سال پہلے ختم کرکے شہر سے باہر منتقل کر دیے گئے تھے، شٹل سروس کیلئے مخصوص گاڑیاں اپنے اصل کام کے بجائے کمرشل بنیادوں پر مسافروں کو براہ راست کراچی سے حیدرآباد لے جارہی ہیں۔
حکومت نے مسافروں کی سہولت کے لیے مفت شٹل سروس شروع کی تھی تاکہ مختلف مقامات سے مسافروں کو کراچی بس ٹرمینل پہنچایا جا سکے، مگر یہ شٹل سروس اب ٹرمینل تک محدود نہیں رہی بلکہ روٹ پرمٹ کے بغیر کمرشل بنیادوں پر کراچی سے حیدرآباد تک بھی چلائی جا رہی ہے۔
محکمہ ٹرانسپورٹ سندھ نے اگست 2024 میں آپریشن کرتے ہوئے شہر کے مختلف انٹر سٹی بس اڈے ختم کیے اور بڑی کوچز کے شہر میں داخلے پر پابندی عائد کی تھی۔
مسافروں کی سہولت کے لیے وزیر ٹرانسپورٹ شرجیل انعام میمن نے مفت شٹل سروس شروع کرنے کا اعلان کیا تھا۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا تھا کہ تقریباً 50 شٹل گاڑیاں چلائی جا رہی ہیں تاکہ مسافروں کو مختلف مقامات سے کراچی بس ٹرمینل پہنچایا جا سکے۔ لیکن شٹل سروس کیلئے مخصوص گاڑیاں اپنے اصل کام کے بجائے کمرشل بنیادوں پر مسافروں کو براہ راست کراچی سے حیدرآباد لے جارہی ہیں۔
ادھر ٹرانسپورٹرز اپنی سواریاں مختلف ذرائع سے کراچی بس ٹرمینل تک پہنچا رہے ہیں، جس کے اضافی اخراجات بھی انہیں خود برداشت کرنا پڑ رہے ہیں۔
محکمہ ٹرانسپورٹ کا بتانا ہے کہ اس روٹ کے لیے شٹل سروس کے پاس کوئی روٹ پرمٹ موجود نہیں۔
جیو نیوز نے اس حوالے سے کراچی بس ٹرمینل انتظامیہ سے مؤقف لینے کی کوشش کی، مگر ان کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا۔