موجودہ نازک حالات میں ایرانی وزیر خارجہ کیجانب سے بیروت کے دورے کو سراہتے ہوئے لبنانی وزیر اعظم نے نئی لبنانی حکومت کیجانب سے ایران کیساتھ باہمی احترام و دوطرفہ مفادات کی بنیاد پر مضبوط تعلقات استوار کرنیکے اپنے عزم پر تاکید کی ہے اسلام ٹائمز۔ ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے آج بیروت میں لبنانی وزیر اعظم نواف سلام کے ساتھ بھی ملاقات کی ہے۔ ایرانی خبررساں ایجنسی فارس نیوز کے مطابق اس ملاقات میں اسلامی جمہوریہ ایران و لبنان کے درمیان دوطرفہ تعلقات و علاقائی ترقی کے بارے تبادلہ خیال ہوا جبکہ سید عباس عراقچی نے اسلامی جمہوریہ ایران کی جانب سے نئے لبنانی وزیر اعظم کو تہنیتی پیغام پہنچاتے ہوئے کہا کہ ان کا دورہ لبنان، لبنان سمیت پورے خطے میں تمام ہمسایہ ممالک کے ساتھ باہمی تعلقات کو فروغ دینے پر مبنی اسلامی جمہوریہ ایران کی خارجہ پالیسی کا تسلسل ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ نے دونوں ممالک کے درمیان تاریخی دوستانہ تعلقات کا حوالہ دیتے ہوئے مشترکہ تعاون کمیشن کو فعال کرنے کے ذریعے باہمی تعلقات کی ہمہ جہت، بالخصوص اقتصادی و تجارتی شعبوں میں توسیع پر مبنی اسلامی جمہوریہ ایران کے عزم پر بھی زور دیا۔

دوسری جانب لبنانی وزیر اعظم نے بھی موجودہ نازک حالات میں ایرانی وزیر خارجہ کے دورہ لبنان کو سراہتے ہوئے اسلامی جمہوریہ ایران کے ساتھ باہمی احترام و دوطرفہ مفادات کی بنیاد پر مضبوط تعلقات استوار کرنے سے متعلق نئی لبنانی حکومت کے گہرے عزم پر تاکید کی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: اسلامی جمہوریہ ایران ایرانی وزیر خارجہ ایران کی

پڑھیں:

اسرائیل کی عدم آمادگی امریکا ایران معاہدے کو خطرے میں ڈال سکتی ہے، تجزیہ کار

مشرق وسطیٰ کونسل برائے عالمی امور کے فیلو عمر رحمان نے الجزیرہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا اسرائیل کے عزائم سے یہ تاثر ملتا ہے کہ وہ جنوبی لبنان پر طویل مدت تک اپنا کنٹرول برقرار رکھنا چاہتا ہے اور وہاں آبادی کی جبری بے دخلی کی پالیسی پر عمل پیرا ہے، جس کے آثار موجودہ صورتحال میں نمایاں طور پر دیکھے جا سکتے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ تجزیہ کاروں نے کہا ہے کہ اسرائیل کی عدم آمادگی امریکہ اور ایران کے درمیان ممکنہ معاہدے کو خطرے میں ڈال سکتی ہے۔ عالمی تجزیہ کاروں نے کہا ہے کہ اسرائیل اس وقت ایسے کسی معاہدے کیلئے تیار دکھائی نہیں دیتا، جس کے تحت لبنان میں جاری کشیدگی اور جنگی کارروائیوں کا خاتمہ ضروری ہو۔ مشرق وسطیٰ کونسل برائے عالمی امور کے فیلو عمر رحمان نے الجزیرہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا اسرائیل کے عزائم سے یہ تاثر ملتا ہے کہ وہ جنوبی لبنان پر طویل مدت تک اپنا کنٹرول برقرار رکھنا چاہتا ہے اور وہاں آبادی کی جبری بے دخلی کی پالیسی پر عمل پیرا ہے، جس کے آثار موجودہ صورتحال میں نمایاں طور پر دیکھے جا سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اگرچہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان اب بھی بعض اختلافات موجود ہیں، تاہم دونوں ممالک ایسے معاہدے تک پہنچ سکتے ہیں، جسے بعد میں مزید تفصیل کے ساتھ مذاکرات کے ذریعے وسعت دی جا سکے، حزب اللہ کے ساتھ جنگ بندی کے معاہدے پر آمادہ نہ ہونے کی اسرائیلی پالیسی پورے عمل کو سبوتاژ کرنے اور امریکہ ایران معاہدے کو ناکام بنانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • امریکا کیوں ایران سے ڈیل کی بھیک مانگ رہا ہے؟ امریکی ڈیموکریٹک سینیٹر کے وزیر خارجہ سے سخت سوالات
  • ایرانی جزیرے پر امریکی حملے کے بعد ایران کا جوابی وار، بحرین، عراق اور قطر میں سائرن بج گئے
  • امریکی محکمہ خزانہ نے ایران پر نئی پابندیاں عائد کر دیں
  • اسرائیل کی عدم آمادگی امریکا ایران معاہدے کو خطرے میں ڈال سکتی ہے، تجزیہ کار
  • آبنائے ہرمز بحالی پر بھی ایران سے پابندیاں نہیں ہٹائینگے: مارکوروبیو
  • ایران سے مذاکرات کے امکانات روشن ہیں، معاہدے کا حتمی نہیں کہہ سکتے، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو
  • امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
  • پاکستان اور کویت جاری سفارتی کوششوں کے مثبت نتائج کیلئے پرامید
  • وزیراعظم کا سرمایہ کاری اور صنعتی ترقی کیلئے اصلاحات تیز کرنے کا حکم
  • صدر زرداری کی اٹلی کے صدر ور عوام کو یومِ جمہوریہ پر مبارکباد