ایران کیساتھ باہمی تعلقات کو فروغ دینے کیلئے پر عزم ہیں، نواف سلام
اشاعت کی تاریخ: 3rd, June 2025 GMT
موجودہ نازک حالات میں ایرانی وزیر خارجہ کیجانب سے بیروت کے دورے کو سراہتے ہوئے لبنانی وزیر اعظم نے نئی لبنانی حکومت کیجانب سے ایران کیساتھ باہمی احترام و دوطرفہ مفادات کی بنیاد پر مضبوط تعلقات استوار کرنیکے اپنے عزم پر تاکید کی ہے اسلام ٹائمز۔ ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے آج بیروت میں لبنانی وزیر اعظم نواف سلام کے ساتھ بھی ملاقات کی ہے۔ ایرانی خبررساں ایجنسی فارس نیوز کے مطابق اس ملاقات میں اسلامی جمہوریہ ایران و لبنان کے درمیان دوطرفہ تعلقات و علاقائی ترقی کے بارے تبادلہ خیال ہوا جبکہ سید عباس عراقچی نے اسلامی جمہوریہ ایران کی جانب سے نئے لبنانی وزیر اعظم کو تہنیتی پیغام پہنچاتے ہوئے کہا کہ ان کا دورہ لبنان، لبنان سمیت پورے خطے میں تمام ہمسایہ ممالک کے ساتھ باہمی تعلقات کو فروغ دینے پر مبنی اسلامی جمہوریہ ایران کی خارجہ پالیسی کا تسلسل ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ نے دونوں ممالک کے درمیان تاریخی دوستانہ تعلقات کا حوالہ دیتے ہوئے مشترکہ تعاون کمیشن کو فعال کرنے کے ذریعے باہمی تعلقات کی ہمہ جہت، بالخصوص اقتصادی و تجارتی شعبوں میں توسیع پر مبنی اسلامی جمہوریہ ایران کے عزم پر بھی زور دیا۔
دوسری جانب لبنانی وزیر اعظم نے بھی موجودہ نازک حالات میں ایرانی وزیر خارجہ کے دورہ لبنان کو سراہتے ہوئے اسلامی جمہوریہ ایران کے ساتھ باہمی احترام و دوطرفہ مفادات کی بنیاد پر مضبوط تعلقات استوار کرنے سے متعلق نئی لبنانی حکومت کے گہرے عزم پر تاکید کی۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: اسلامی جمہوریہ ایران ایرانی وزیر خارجہ ایران کی
پڑھیں:
ایرانی اثاثے ضبط کرنے کی ٹرمپ کی دھمکی خطرناک نظیر ہے، عباس عراقچی کا سخت ردعمل
تہران: ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس بیان پر شدید ردعمل دیا ہے جس میں انہوں نے بحری جہازوں کو ہونے والے ممکنہ نقصانات کا ازالہ ایرانی اثاثوں سے کرنے کی بات کی تھی۔ ایران نے اس مؤقف کو بین الاقوامی قوانین کے لیے ایک خطرناک اور اشتعال انگیز نظیر قرار دیا ہے۔
عباس عراقچی نے سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ کسی ملک کے اثاثوں کو مستقبل کے غیر متعلقہ دعووں کی بنیاد پر ضبط کرنا ایک ایسا اقدام ہے جو عالمی مالیاتی نظام اور بین الاقوامی قوانین کے لیے سنگین نتائج پیدا کر سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ کسی دوسرے ملک کے اثاثے مستقبل کے غیر متعلقہ نقصانات کی ادائیگی کے لیے ضبط کرنا ایک اشتعال انگیز نظیر ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ جو ممالک یا ادارے اس طرح کے ضبط شدہ اثاثوں سے فائدہ اٹھانے یا اس اقدام کی حمایت کرنے کی کوشش کریں گے، انہیں یہ بات ذہن میں رکھنی چاہیے کہ اگر حکومتیں اس طرز عمل کو معمول بنا لیں تو پھر دنیا میں کسی بھی ملک کے اثاثے محفوظ نہیں رہیں گے۔
عباس عراقچی کے مطابق اس طرح کے اقدامات عالمی مالیاتی نظام میں بے یقینی، افراتفری اور قانونی تنازعات کو جنم دے سکتے ہیں، جن کے نتائج نہ صرف غیر خوشگوار بلکہ عالمی امن و استحکام کے لیے بھی نقصان دہ ثابت ہوں گے۔
ان کا بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی برقرار ہے اور آبنائے ہرمز میں بحری جہاز رانی، اقتصادی پابندیوں اور سفارتی تعلقات کے حوالے سے دونوں ممالک کے درمیان سخت بیانات کا تبادلہ جاری ہے۔
Seizing another nation's assets to pay for unrelated future claims is an incendiary precedent.
Those who celebrate or profit from such funds should remember: once governments normalize confiscation, no one's assets are safe. Ensuing chaos will not be pretty or peaceful.
تجزیہ کاروں کے مطابق اگر اثاثوں کی ضبطی جیسے اقدامات عملی شکل اختیار کرتے ہیں تو اس سے عالمی سرمایہ کاری، بین الاقوامی تجارت اور ممالک کے درمیان مالیاتی اعتماد پر بھی منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔