افغانستان سے مذاکرات کے عمل میں خیبرپختونخوا کو شامل ،صوبے میں ڈرون حملے بند کیے جائیں، علی امین گنڈا پور کا مطالبہ
اشاعت کی تاریخ: 3rd, June 2025 GMT
افغانستان سے مذاکرات کے عمل میں خیبرپختونخوا کو شامل ،صوبے میں ڈرون حملے بند کیے جائیں، علی امین گنڈا پور کا مطالبہ WhatsAppFacebookTwitter 0 3 June, 2025 سب نیوز
پشاور (سب نیوز)وزیر اعلی خیبرپختونخوا علی امین گنڈا پور نے وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ افغانستان سے مذاکرات کے عمل میں خیبرپختونخوا کو شامل کیا جائے اور صوبے میں ڈرون حملے بند کیے جائیں۔
منگل کے روز پشاور میں جرگہ سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلی خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور کا کہنا تھا کہ بزدل دشمن کی جارحیت کا منہ توڑ جواب دینے پر پوری قوم کو مبارکباد پیش کرتا ہوں۔وزیر اعلی کے پی کا کہنا تھا کہ بانی پی ٹی آئی نے دشمن کے خلاف قوم کو متحد کر کے ایک لیڈر ہونے کا ثبوت دیا اور ملکی دفاع اور سالمیت کیلئے ہم ایک ہیں جبکہ سیاسی اختلافات بالائے طاق رکھ کر ہم نے اتحاد کا ثبوت دیا۔
علی امین کا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت سابق فاٹا اور پاٹا پر ٹیکس لگانے سے گریز کرے، دہشتگردی سے متاثر ضم قبائلی اضلاع کیلئے خطیر سرمایہ کاری کی ضرورت ہے۔ان کا کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا میں ڈرون حملے بند کئے جائیں، ان سے بے گناہ لوگوں کا نقصان ہوتا ہے۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ این ایف سی میں ضم اضلاع کا حصہ صوبے کو منتقل کرنے کا اعلان کیا جائے اور وفاقی حکومت خیبرپختونخوا کے تمام بقایاجات ادا کرے۔انہوں نے یہ مطالبہ کیا کہ ضم اضلاع میں تنازعات کے پائیدار حل کے لیے جرگہ سسٹم بحال کیا جائے اور پڑوسی ملک افغانستان کے ساتھ مذاکرات کے عمل میں خیبر پختونخوا کو شامل کیا جائے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبررواں مالی سال تنخواہ دار طبقے کی طرف سے سب سے زیادہ ٹیکس ادا کرنے کا انکشاف رواں مالی سال تنخواہ دار طبقے کی طرف سے سب سے زیادہ ٹیکس ادا کرنے کا انکشاف کہتے ہیں 9مئی پر معافی مانگیں، دباو بڑھتا ہے تو میرے پاس ٹیمیں بھیجتے ہیں، عمران خان بھارت میں آر ایس ایس کی سکھوں کو دہشتگرد قرار دینے کی سازش بے نقاب سعودی عرب نے پاکستانیوں کے ویزے کم کردیے،قائمہ کمیٹی اوورسیز پاکستانیز کو بریفنگ چیئرمین سی ڈی اے محمد علی رندھاوا سے اردن کے سفیر کی ملاقات،شہر اقتدار کی ترقی، خوشحالی اور خوبصورتی کو مزید بہتر بنانے کیلئے... پاکستان میں بچوں کی نازیبا ویڈیوز ڈارک ویب پر فروخت کرنے والا عالمی گینگ پکڑا گیا
Copyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: مذاکرات کے عمل میں میں ڈرون حملے بند علی امین
پڑھیں:
برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
برطانیہ کے 70 سے زائد ارکانِ پارلیمنٹ نے نئے وزیراعظم اینڈی برنہم سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں کے حوالے سے اقوامِ متحدہ کے آزاد تحقیقاتی کمیشن کے نتائج کو باضابطہ طور پر تسلیم کریں اور اسرائیل کے خلاف فوری اور مؤثر اقدامات کریں۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق خط میں نشاندہی کی گئی ہے کہ گزشتہ ماہ جاری ہونے والی اقوامِ متحدہ کی آزاد تحقیقاتی رپورٹ میں یہ نتیجہ اخذ کیا گیا تھا کہ غزہ میں اسرائیلی فوج کی کارروائیاں نسل کشی کے زمرے میں آتی ہیں اور رپورٹ میں خاص طور پر اسرائیلی حملوں میں بچوں کو دانستہ طور پر نشانہ بنانے کی تصدیق بھی تھی۔
ارکان پارلیمان نے کھلے خط میں نو منتخب وزیراعظم سے مطالبہ کیا کہ وہ بین الاقوامی عدالتِ انصاف کی جولائی 2024 کی مشاورتی رائے پر بھی عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے عملی اقدامات کریں۔
برطانوی ارکانِ پارلیمنٹ کے بقول عالمی عدالت نے اسرائیل پر زور دیا تھا کہ وہ فوری طور پر مقبوضہ فلسطینی علاقوں سے اپنی موجودگی ختم کرے، تمام اسرائیلی بستیاں ختم کرے، متاثرہ فلسطینیوں کو معاوضہ ادا کرے اور بے گھر ہونے والے فلسطینیوں کی واپسی میں تعاون کرے۔
عدالت نے اپنی رائے میں یہ بھی کہا تھا کہ دنیا کے تمام ممالک پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ایسے اقدامات سے گریز کریں جو اسرائیلی قبضے کو برقرار رکھنے یا اس میں معاونت کا سبب بنیں۔
خط میں برطانوی حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ اسرائیل پر مکمل اسلحہ پابندی عائد کی جائے، اسرائیلی حکام کے خلاف پابندیاں لگائی جائیں اور ایسی ہر قسم کی تجارت پر پابندی عائد کی جائے جو مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں قائم اسرائیلی بستیوں کو فائدہ پہنچاتی ہو۔
ارکانِ پارلیمنٹ کا کہنا ہے کہ برطانیہ کو بین الاقوامی قوانین اور انسانی حقوق سے متعلق اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرتے ہوئے واضح اور مؤثر پالیسی اختیار کرنی چاہیے۔
I'm one of 80 MPs & Peers calling on the PM to:
- Recognise the UN’s findings on genocide & implement the ICJ ruling in full
- Impose sanctions including a full arms embargo
- Ban trade that supports Israel’s illegal settlements
End Britain’s complicity in genocide, now. pic.twitter.com/TjtJ0yj2Qq
فلسطین سالیڈیرٹی کمپین کے نائب ڈائریکٹر پیٹر لیری نے ارکانِ پارلیمنٹ کے خط کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا تھا کہ برطانوی حکومت نے طویل عرصے سے نسل کشی کنونشن اور بین الاقوامی عدالتِ انصاف کے مؤقف کو نظر انداز کیا ہے۔
انھوں نے الزام عائد کیا ہے کہ برطانیہ مسلسل ایسی پالیسیاں اپناتا رہا ہے جن سے فلسطینی عوام کے خلاف اسرائیلی کارروائیوں کو عملی یا سفارتی حمایت ملتی رہی۔
خیال رہے کہ اسرائیل غزہ میں نسل کشی کے الزامات کو مسترد کرتا ہے اور مؤقف اختیار کرتا آیا ہے کہ اس کی فوجی کارروائیاں حماس اور دیگر مسلح گروہوں کے خلاف ہیں جبکہ شہری ہلاکتوں سے بچنے کے لیے اقدامات کیے جاتے ہیں۔
واضح رہے کہ اقوامِ متحدہ اور متعدد بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیمیں اسرائیلی دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے غزہ میں بڑے پیمانے پر شہریوں، خصوصاً خواتین اور بچوں کے جانی نقصان پر مسلسل تشویش کا اظہار کر رہی ہیں۔