ایس آئی ایف سی کی معاونت سے حکومت بلیواکانومی کے فروغ کیلئے کوشاں
اشاعت کی تاریخ: 3rd, June 2025 GMT
بلیو اکانومی ترقی، روزگار اور ماحول کے تحفظ کا پائیدار حل ہے۔حکومت خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل کے تعاون سے بلیو اکانومی کو فروغ دے رہی ہے۔سی فوڈ برآمدات سے سالانہ پینتالیس کروڑ ڈالر جبکہ بحری سیاحت سے تیس کروڑ ڈالرز رمبادلہ حاصل ہوا ہے۔ایس آئی ایف سی کی معاونت سے بلیو اکانومی پالیسی کی فوری تکمیل کی ہدایت جاری، بلیو اکانومی سے سالانہ 100 ارب ڈالر تک آمدن متوقع ہے۔پاکستان کی بحری معیشت کا جی ڈی پی میں حصہ صرف 0.
سی فوڈ کی برآمدات سے سالانہ 450 ملین ڈالر جبکہ بحری سیاحت سے 300 ملین ڈالر زرمبادلہ موصول ہوا۔ماہی گیری، آبی زراعت، بحری سیاحت و نقل و حمل میں 34 ارب ڈالر سالانہ آمدن کی صلاحیت موجود ہے۔وفاقی وزیر بحری امور جنیدانوار چوہدری نے کہا کہ بلیو اکانومی صرف مستقبل کی نہیں، آج کی معاشی ترجیح ہے۔ایس آئی ایف سی کے تعاون سے حکومت ملک کے معاشی استحکام کے لیے کوشاں ہے۔
اشتہار
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: بلیو اکانومی بحری سیاحت
پڑھیں:
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں بے قابو، فی بیرل 100 ڈالر سے متجاوز
تازہ اعداد و شمار کے مطابق برطانوی خام تیل (برینٹ) 100.56 ڈالر فی بیرل میں فروخت ہو رہا ہے، جبکہ امریکی خام تیل (ڈبلیو ٹی آئی) کی قیمت بڑھ کر 92.05 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ایران پر امریکی جارحیت کے بعد عالمی توانائی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جبکہ برطانوی خام تیل 100 ڈالر فی بیرل کی سطح عبور کر گیا۔ تازہ اعداد و شمار کے مطابق برطانوی خام تیل (برینٹ) 100.56 ڈالر فی بیرل میں فروخت ہو رہا ہے، جبکہ امریکی خام تیل (ڈبلیو ٹی آئی) کی قیمت بڑھ کر 92.05 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہے۔
دوسری جانب متحدہ عرب امارات کا مربن خام تیل 108 ڈالر فی بیرل میں فروخت ہونے لگا ہے، جو عالمی منڈی میں توانائی کی بڑھتی ہوئی بے یقینی کی عکاسی کرتا ہے۔ادھر قدرتی گیس کی قیمت بھی بڑھ کر 2.95 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو (MMBtu) ہو گئی ہے، جس سے عالمی توانائی مارکیٹ میں کشیدگی کے اثرات مزید نمایاں ہو رہے ہیں۔