سٹی 42: نیویارک میں پارلیمانی وفد کے سربراہ   بلاول بھٹو نے  نیوزکانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ بھارت کی جانب سے پاکستانی حدود کی خلاف ورزی کی گئی،مودی کے پاس دو ہی راستے ہیں امن یا تباہی
نے اپنی  نیوز کانفرنس میں کہا کہ پاکستان نے بھارت کے 6 طیارے مارگرائے،پاکستان ہرقسم کی دہشت گردی کی مذمت کرتا ہے،بھارت نے پاکستان کی شفاف تحقیقات کی پیشکش کو مستردکیا،
بھارت نے بغیرتحقیقات پہلگام واقعہ کا الزام پاکستان پرلگایا،بھارت نے پاکستان کی شہری آبادی کو نشانہ بنایا، بھارت نے جارحیت کرتے ہوئے آبی ذخائر کو نشانہ بنایا ، بھارتی حارحیت کے جواب میں پاکستان نے اپنا بھرپور دفاع کیا ، بھارت نے پاکستان کے سرحدی حدود کی خلاف ورزی کی ،  بھارت نے پاکستان پر حملوں میں مساجد کو نشانہ بنایا ،: بھارت نے معصوم بچوں اور خواتین کو نشانہ بنایا ، پاکستان نے انہی طیاروں کو نشانہ بنایا جنہوں نے بمباری کی ،   بھارت نے میزائل داغے جس پر پاکستان نے جواب دیا ،پاکستان خود دہشت گردی کا شکار ہے،مذاکرات ہی امن کا واحدراستہ ہے،ہم دہشت گردی کے خلاف جنگ کی بھاری قیمت اداکی ہے،میری والدہ بے نظیربھٹوکو بھی دہشت گردوں نے شہید کیا،امریکی صدر اور وزیر خارجہ نے سیز فائر کے لیے کردار ادا کیا ،امریکی صدر اور وزیر خارجہ نے امن کے لیے پہلا قدم اٹھایا جسے سراہتے ہیں  ، سیز فائر سے پہلے دنیا کا امن خطرے میں تھا ، دو ایٹمی طاقتیں جنگ کے دہانے پر آگیں تھیں ، ہم نے دیکھا حالیہ گشیدگی کتنی تیزی سے آگے بڑھی ،: آئندہ ایسا واقعہ ہوا تو حالات درست کرنے کے لیے موقع نہیں ملے گا ،پانی کو بطورہتھیار استعمال نہیں کرنے دیں گے،کوئی مہذب ملک پانی کی بندش کی حمایت نہیں کرتا،پانی کو بطورہتھیار استعمال نہیں کرنے دیں گے،کوئی مہذب ملک پانی کی بندش کی حمایت نہیں کرتا،صورتحال بگڑے سے پہلے عالمی برداری کو کردار ادا کرنا چاہے ،  پاک بھارت کی موجودہ صورتحال کا حل صرف ڈائیلاگ ہے ،  پاکستان بھارت کے ساتھ جامع مذاکرات چاہتا ہے ،  پاکستان میں دہشت گردی کی وجہ سے سب سے زیادہ اموات ہوئیں ،دنیا سے پوچھتا ہوں کسی کی لائف لائن کاٹ دی جائے تو کیا کیا جائے ، دنیا کے کسی بھی ملک کی واٹر سپلائی بند کردی جائے تو کیا رد عمل ہوگا ، پاکستان اپنے آبی حقوق کا عالمی سطح پر موثر دفاع کرے گا ، کشمیر کی خصوصی  حیثیت کا خاتمہ مذاکرات کے دروازے بند کرنے کے مترادف ہے ، دہشت گردی کا بہانہ بنا کر کشمیر میں مسلمانوں کو نشانہ نہیں بنانا چاہے ،

 مودی کو دیکھیں تو یہ لگتا ہے کہ وہ نیتن یاہو کی کاپی ہے

بلاول بھٹو نے کہا کہ اسرائیل جس طرح فلسطین میں غیر قانونی آباد کاری کررہا ہے وہ ہی مقبوضہ کشمیر میں ہورہا ہے ،مودی کو دیکھیں تو لگتا ہے نتین یاہو کی کاپی ہے ،  بلین عوام کی قسمت کا فیصلہ غیر ریاستی عناصر کے ہاتھ میں نہیں جانے دیں گے ، بھارت کی جانب سے پانی روکنا بین الاقوامی معاہدوں کی خلاف ورزی ہے،فیٹف نےپاکستان کے دہشت گردی کے خلاف اقدامات کی توثیق کی،دہشت گردی کے مسئلے کا حل بین الاقوامی تعاون میں ہے،بھارت کو مذاکرات کیلئے ماحول پیداکرنا ہوگا،پاکستان مذاکرات کیلئے ہمیشہ تیار ہے،
بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ  بھارت کی جانب سے پانی روکنا بین الاقوامی معاہدوں کی کھلی خلاف ورزی ہے ، بھارت کی آبی جارحیت خطے میں امن کے لیے سنگین خطرہ ہے ، کشمیر کا قصائی اب انڈس ویلی کی تہذہب کا قصائی بن چکا ہے ،مودی سرکار نے بھارت کو عالمی سطح پر تنقید کے مرکز میں لاکھڑا کیا ہے ،دہشت گردی جغرافیائی  سیاست سے بالا تر چیلنج ہے ،بھارت کے ساتھ امن چاہتے ہیں لیکن شرائط پر نہیں ،مودی کے پاس دو ہی راستے ہیں امن یا تباہی ، مودی کی پالیساں بھارت میں انتہا پسندی کو ہوا دے رہی ہیں ،غیر ریاستی عناصر کے ہاتھ میں فیصلے دینگے تو دو ایٹمی طاقتیں آمنے سامنے ہوں گی ،  مودی کی حکمرانی نے بھارت میں اقلیتوں کی حالت خراب کردی ہے ، جنگ بندی کے بعد پاکستان امن کا خواہاں جبکہ بھارت اشتعال انگیز بیان دینے میں مصروف ہے ، مودی کی بربریت نے خطے میں نفرت اور خون خرابے کا بازار گرم کر رکھا ہے ،

اقوام متحدہ میں فرانس کے سفیر کی پاکستانی اعلیٰ سطح پارلیمانی وفد سے ملاقات

.

ذریعہ

ذریعہ: City 42

کلیدی لفظ: بھارت نے پاکستان بھارت کی جانب سے کو نشانہ بنایا بین الاقوامی کی خلاف ورزی پاکستان نے بلاول بھٹو

پڑھیں:

بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں پاکستان کی جانب سے بھارت کو مؤثر جواب دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ بھارت خود امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ۔

قرارداد 2788 کے تناظر میں تنازعات کے پرامن حل پر مباحثے کے دوران پاکستان مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے حق جواب میں  کہا کہ ایک وفد نے تنازعات کے پُرامن حل پر ہونے والی بحث کو حقائق مسخ کرنے، انکار اور بے بنیاد الزامات کے ذریعے متاثر کرنے کی کوشش کی۔

انہوں نے کہا کہ بھارت کا امن کا درس دینا مضحکہ خیز ہے، جو خود بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی، ہمسایوں کے خلاف جارحیت اور خطے میں ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی کا مرتکب ہے۔

پاکستانی مندوب برائے اقوام متحدہ کا کہنا تھا کہ جموں و کشمیر نہ بھارت کا نام نہاد اٹوٹ انگ ہے اور نہ داخلی معاملہ؛ بھارت کا انکار اس تنازع کی بین الاقوامی حیثیت کو تبدیل نہیں کر سکتا۔ بھارت خود جموں و کشمیر کا مسئلہ سلامتی کونسل میں لے کر آیا تھا، مگر آج اسی کونسل کی قراردادوں سے انحراف کر رہا ہے۔ قراردادوں کی کوئی میعاد ختم نہیں ہوتی۔

قونصلر صائمہ سلیم نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر اور بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر کے حالات میں واضح فرق ہے۔  ایک طرف سیاسی آزادی ہے، دوسری طرف جبر، گرفتاریوں اور انسانی حقوق کی پامالیوں کا سلسلہ جاری ہے۔

انہوں نے کہا کہ حقوق کا استعمال اور حقوق سے محرومی ایک جیسی چیزیں نہیں ہو سکتیں۔ کشمیری عوام کے ناقابل تنسیخ حقِ خودارادیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل کرنے کا بھارتی فیصلہ بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے منشور سے بے اعتنائی کا مظہر ہے۔

پاکستانی مندوب نے حق جواب میں کہا کہ دریائے سندھ کا پانی پاکستان کے 24 کروڑ عوام کی زندگی کا ذریعہ ہے، جنگ کا ہتھیار نہیں۔ ایسے غیر ذمہ دارانہ اقدامات علاقائی امن کو خطرے میں ڈال سکتے ہیں۔ پاکستان دہشت گردی کا سب سے بڑا متاثرہ ملک ہے؛ ہزاروں بے گناہ شہریوں کی قربانیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی جدوجہد حقیقی ہے۔

قونصلر صائمہ سلیم کا کہنا تھا کہ بھارت سے منسلک دہشت گردی کے نیٹ ورک علاقائی حدود سے نکل کر عالمی سطح تک پہنچ چکے ہیں۔ کلبھوشن یادیو کیس اس کا ایک واضح ثبوت ہے۔ بھارت میں ہندوتوا پر مبنی انتہا پسند نظریات نے اسلاموفوبیا کو ریاستی پالیسی کا رنگ دے دیا ہے، جبکہ اقلیتیں امتیازی سلوک اور جبر کا سامنا کر رہی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان نے اشتعال انگیزی اور جارحیت کے باوجود تحمل کا مظاہرہ کیا، مذاکرات کا راستہ کھلا رکھا اور تنازعات کے پُرامن حل کو ترجیح دی۔ جنوبی ایشیا میں امن کا راستہ انکار یا ہٹ دھرمی نہیں بلکہ اقوام متحدہ کے منشور، بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی پاسداری سے ہو کر گزرتا ہے۔

پاکستانی مندوب نے کہا کہ بھارت کو چاہیے کہ قرارداد 2788 پر اس کی روح اور متن کے مطابق عمل کرے، اپنے معاہداتی وعدے پورے کرے اور جموں و کشمیر تنازع کے پُرامن حل کے لیے سنجیدہ کردار ادا کرے۔

 

متعلقہ مضامین

  • سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
  • بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
  • اقوام متحدہ میں پاکستان کا امن اور مذاکرات پر زور، بھارت پر عالمی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام
  • نتیجہ خیز آپریشن شعبان!
  • بلاول بھٹو نے مظفرآباد اور دیگر علاقوں میں بھی انٹرنیٹ پابندیاں جلد ختم ہونے کی امید ظاہر کر دی
  • مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
  • اسلام آباد، بلاول بھٹو سے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین کی ملاقات
  • مقبوضہ کشمیر میں تیز بارشیں، بھارت نے پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا
  • رائیونڈ کا ایک شہری اب آزاد کشمیر کا وزیراعظم بننا چاہتا ہے، بلاول بھٹو
  • فیلڈ مارشل کا بلوچستان میں دہشت گردی کو پوری طاقت سے کچلنے کے عزم کا اظہار