اسلام آباد؍ پشاور(آئی این پی+ نوائے وقت رپورٹ+ خبر نگار خصوصی+ بیورو رپورٹ) وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ سیلاب کی روک تھام کیلئے نئے ڈیمز کی تعمیر ناگزیر ہے۔ ہماری معاشی خود انحصاری کا دارومدار سستی بجلی اور زراعت پر ہے۔ پانی کا ذخیرہ بڑھانا اور موثر استعمال وقت کی ضرورت ہے۔ وزیراعظم شہبازشریف کی زیر صدارت دیامیر بھاشا ڈیم اور دیگر آبی وسائل کے امور پر اہم اجلاس ہوا۔ دوران اجلاس وزیراعظم نے ملک میں توانائی کی پیداوار اور پانی کے وافر ذخیرے کا موثر نظام قائم کرنے کیلئے دیامر بھاشا ڈیم جیسے منصوبوں کو ترجیحی بنیادوں پر مکمل کرنے کی ہدایت کی اور ڈیم کی تعمیر میں حائل تمام تر رکاوٹوں کو فوری حل کرنے اور منصوبے کی جلد از جلد تکمیل کا حکم دیا۔ پانی ذخیرہ کرنے کی استطاعت بڑھانے، زراعت کے لئے درکار پانی کی فراہمی، سیلاب کی روک تھام کے لئے نئے ڈیمز کی تعمیر ناگزیر ہے۔ پانی کے سٹوریج بڑھانے اور پانی کے موثر استعمال کی ضرورت ہے۔ پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت بڑھانے سے توانائی کی پیداوار میں اضافہ اور زراعت کی ضروریات پوری کی جا سکیں گی۔ پشاور میں امن و امان پر جرگے سے خطاب کرتے ہوئے کہا خیبر پی کے پاکستان کا سب سے خوبصورت صوبہ ہے  جس نے 1947کے ریفرنڈم میں پاکستان کا ساتھ دیا۔ یہاں کے عوام نے بے پناہ قربانیاں دیں اور میں خیبر پی کے  کو غیور، دلیر عوام کی سرزمین سمجھتا ہوں۔ قبائلی زعماء، گورنر اور وزیراعلیٰ، کور کمانڈر کے ساتھ مل بیٹھ کر گفتگو کریں گے۔ بہترین مفاد میں انہیں فی الفور آگے لیکر آئیں گے اور اگر پارلیمنٹ کا معاملہ ہوا تو مشاورت سے آگے بڑھایا جائے گا۔ انہوں نے کہا این ایف سی کے معاملے میں صوبے کو اس کا جائز حق دیا جائے گا۔ خیبر پی کے عوام کی 77 سالہ عظیم قربانیاں اور جدوجہد ہے۔ وہ ہمیشہ سنہری حروف میں یاد رکھی جائیں گی۔ ان کی قربانیاں تاریخ میں سنہری حروف سے لکھی جائیں گی۔  دہشتگردی سمیت ہر موقع پر ہمارے جوان اگلی صف میں نظر آئے۔ اب ہمیں پاکستان کی ترقی اور خوشحالی کے بڑے اور کڑے فیصلے کرنے ہیں۔ بھارت ہمیں دن رات سندھ طاس معاہدے کی دھمکیاں دیتا ہے مگر اب ان دھمکیوں کا جواب دینے کیلئے ہمیں لائحہ عمل بنانا ہے اور اس حوالے سے جلد چاروں صوبوں کو پانی کے مسئلے پر بلایا جائے گا تاکہ پانی کے ذخیرے اور گنجائش کو بڑھا کر بھارتی عزائم کو خاک میں ملا سکیں۔ دیامر، بھاشا اور داسو ڈیم میں ہم پانی سٹوریج کر سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا یہ بہت خوبصورت صوبہ ہے اور یہاں کے عوام دلیر، غیور اور غیرت مند قوم ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ خیبرپی کے  کے عوام نے 1947 میں پاکستان کا ساتھ دیا، صوبے کے عوام نے ہمیشہ پاکستان کا پرچم بلند کیا، آپ نے قوت اور دلیری کے ساتھ ہمیشہ پاکستان کا دفاع کیا۔ میں آپ کو دل کی گہرائیوں سے تحسین پیش کرنے آیا ہوں۔ خیبرپی کے  دہشت گردی کے خلاف جنگ میں فرنٹ لائن صوبہ تھا اور آج بھی ہے۔ جبکہ بلوچستان میں بھی دہشتگردی کے واقعات ہورہے تھے لیکن بلوچستان کو دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے این ایف سی کے تحت فنڈ ملنے پر شامل نہیں کیا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کو جس طرح اس جنگ میں اللہ عزت عطا فرمائی، اسی طرح معاشی میدان میں بھی پاکستان ایک عظیم قوم بن کر ابھرے گی۔ آج قوم ایک ہے تو ہمیں پاکستان کی کامیابی کے لیے بڑے اور کڑے فیصلے کرنے ہیں۔ شہباز شریف نے کہا کہ پانی کے معاملے پر ہم نے فیصلہ کرنا ہے اور اس حوالے سے چاروں صوبوں کو دعوت دیں گے، بیٹھ کر بات کریں گے پانی کے ذخائر کو کس طرح بڑھانا ہے تاکہ بھارت کے ناپاک اور مذموم عزائم دفن ہوجائیں۔ وزیراعلیٰ خیبرپی کے سردار علی امین گنڈاپور نے کہا ہے کہ ملکی دفاع اور سالمیت کے لیے ہم ایک ہیں، سیاسی اختلافاف کو بالائے طاق رکھ کر اتحاد کا ثبوت دیا، وفاقی حکومت سابق فاٹا اور پاٹا پر ٹیکس لگانے سے گریز کرے، پشاور میں امن و امان پر جرگہ سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ بزدل دشمن کی جارحیت کا منہ توڑ جواب دینے پر پوری قوم کو مبارکباد پیش کرتا ہوں، عمران خان نے جیل میں ناحق قید ہونے کے باوجود پوری قوم کو بھارتی جارحیت کے خلاف متحد کیا، عمران خان نے بزدل دشمن کے خلاف پوری قوم کو متحد کرکے ایک لیڈر ہونے کا ثبوت دیا، عمران خان اور اپنے سپورٹرز کا دفاع پاکستان کیلئے بھر پور سپورٹ پر شکریہ ادا کرتا ہوں۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ ضم اضلاع دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بری طرح متاثر ہوئے ہیں، ان علاقوں میں خطیر سرمایہ کاری کی ضرورت ہے، ضم اضلاع کے لوگوں نے ملک کی خاطر بے شمار قربانیاں دی ہیں، ان کے ساتھ کیے گئے تمام وعدے پورے کیے جائیں۔ علی امین گنڈاپور نے کہا کہ وفاقی حکومت ضم اضلاع کے بے گھر افراد کے معاوضوں کے پیسے جلد از جلد جاری کرے، خیبرپی کے میں ڈرون حملے بندکئے جائیں، ان سے بے گناہ لوگوں کا بھی بہت نقصان ہوتا ہے، این ایف سی میں ضم اضلاع کا حصہ صوبے کو منتقل کرنے کا فوری اعلان کیا جائے، ہم کسی دوسرے صوبے کا حق نہیں مانگ رہے بلکہ ہمیں اپنا حق دیا جائے۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ این ایف سی سے متعلق جو وعدہ کیا گیا ہے اسے فوری پورا کیا جائے، وفاقی حکومت اپنے ذمے خیبرپی کے کے تمام بقایاجات ادا کرے، یہ ہمارا جائز حق ہے، وفاقی حکومت صوبے کے پن بجلی کے خالص منافع کے بقایا جات بھی ادا کرے، ٹوبیکو سیس میں صوبے کا پورا پورا حصہ دیا جائے، یہ صوبے کے لوگوں کا حق ہے، ضم اضلاع میں تنازعات کے پائیدار حل کے لیے جرگہ سسٹم بحال کیا جائے۔ وزیر اعلیٰ کہا کہ پڑوسی ملک افغانستان کے ساتھ مذاکرات کے عمل میں خیبر پی کے کو شامل کیا جائے، اس کے بغیر مذاکرات ادھورے ہوں گے۔ وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ کی مد میں  خیبر پی کے کیلئے  این ایف سی میں مقرر کردہ  ایک فیصد فنڈ دہشتگردی کے خاتمے تک جاری رہے گا۔ 1960   کے سندھ طاس معاہدے کے تحت پانی کا ایک ایک قطرہ پاکستانی عوام کا حق ہے، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قیادت میں افواج پاکستان نے ہندوستان کو زندگی کا وہ سبق سکھایا جو وہ تاقیامت نہیں بھلائیں گے۔ خیبر پی کے کے غیور عوام نے پاکستان کے دفاع کیلئے قربانیاں دی ہیں، خیبر پی کے عظیم صوبہ ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں گزشتہ روز پشاور میں جرگہ سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔اس موقع پر فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ، وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی، گورنر خیبر پی کے فیصل کریم کنڈی، وزیراعلی خیبر پی کے علی امین خان گنڈاپور، کور کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل عمر بخاری، وفاقی و صوبائی وزراء، سینیٹرز، اراکین صوبائی اسمبلی اور قبائلی زعماء بھی موجود تھے۔  وزیراعظم نے جرگہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج میرے لئے بہت عزت کی بات ہے کہ میں اس جرگے میں آپ کے سامنے موجود ہوں۔ ہم نے زعماء کی باتیں سنی، وزیراعلی خیبر پی کے کی باتیں سنیں، ہم سب آپ کی باتیں سننے کیلئے آئے ہیں۔ آج جو باتیں عمائدین اور مشران نے  کی ہیں، اس پر ہمیں سنجیدگی سے غور کرنا ہوگا اور مل بیٹھ کر فیصلے کرنے ہوں گے۔ وزیراعظم نے کہا کہ وزیراعلی علی   امین گنڈاپور نے این ایف سی پر نظر ثانی کی بات کی، یہ بات اسلام آباد میں ڈیڑھ ماہ قبل ہوئی اور میں نے فوراً کمیٹی بنائی، این ایف سی کیلئے جو صوبوں کی نمائندگی ہوتی ہے، اس کیلئے نام دیئے گئے ہیں، پہلی میٹنگ اگست میں بلائیں گے۔ 2010 کے این ایف سی ایوارڈ میں سب سے پہلے آئٹم میں چاروں صوبوں نے دہشتگردی کے خلاف جنگ کی مد میں خیبر پی کے کیلئے ایک فیصد فنڈز پر اتفاق کیا۔ یہ جائز اور درست فیصلہ تھا جو دہشتگردی کے خاتمے تک جاری رہے گا تاہم اس میں بلوچستان کو شامل نہیں کیا گیا۔ وزیراعظم نے کہا کہ اب تک اس مد میں خیبر پی کے کو 700 ارب روپے سے زیادہ فنڈز حوالے کیا گیا ہے۔ وزیراعلی نے دوسرے مطالبات کئے ان پر مل بیٹھ کر حل نکال لیں گے۔ انہوں نے کہا کہ جو بھی ہمارے پاس وسائل ہیں، وہ پاکستان کے وسائل ہیں جس میں سارے صوبوں کا حصہ ہے۔ میں معاملات کے حل کیلئے کمیٹی تشکیل کرتا ہوں جو گورنر خیبر پی کے، وزیراعلی خیبر پی کے، کور کمانڈر اور قبائلی زعماء کے ساتھ بیٹھے گی اور معاملہ آگے بڑھا تو ہم اس کو پارلیمنٹ میں بھی لے جائیں گے۔ وزیراعظم نے کہا کہ ابھی  ہندوستان کے ساتھ جنگ ہوئی۔ پاکستان کے تمام صوبوں کے عوام کی دعائیں شامل تھیں۔ 6 اور 7 مئی کو جس طرح دشمن نے گھات لگا کر حملہ کیا اور ہمارے بے گناہ پاکستانیوں کو شہید کیا۔ اتحاد سے ہم پاکستان کی تقدیر بدلیں گے۔ جس طرح اس جنگ میں کامیابی عطا ہوئی، اسی طرح پاکستان معاشی میدان میں بھی کامیابیاں حاصل کرے گا۔ ابھی چار ممالک کا دورہ کرکے آیا ہوں، سب کے چہروں پر خوشی تھی۔ آج  پوری قوم یکجا ہے، ہمیں پاکستان کی ترقی اور خوشحالی کیلئے بڑے فیصلے کرنے ہیں۔ چاروں صوبوں کی قیادت بلا کر ہم مل کر بیٹھیں گے۔ مثال کے طور پر، ہندوستان کو شکست فاش ہوئی ہے اور مودی سرکار اپنے زخم چاٹ رہی ہے، ہندوستان پانی کی دھمکیاں دیتا ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ پانی کے اوپر ہمیں فیصلہ کرنا ہے تاکہ ہندوستان کے مذموم عزائم دفن ہوجائیں۔ ہمارے پاس بے شمار ڈیم ہیں جہاں پر ہم  پانی ذخیرہ کر سکتے ہیں، ہمیں سوچ سمجھ کر فیصلے کرنا ہوں گے۔ شرکاء  نے پاکستان کے شہداء  کے لیے فاتحہ خوانی کی اور ملک کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے سویلین اور فوجی جوانوں کو خراج عقیدت پیش کیا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

کلیدی لفظ: شہباز شریف نے کہا سے خطاب کرتے ہوئے میں خیبر پی کے انہوں نے کہا وفاقی حکومت دہشتگردی کے چاروں صوبوں میں پاکستان کے خلاف جنگ پاکستان کے فیصلے کرنے پاکستان کا پاکستان کی ایف سی خیبرپی کے نے کہا کہ پوری قوم کیا جائے ضم اضلاع کہا کہ ا کے عوام اور میں کیا گیا عوام نے کرنے کی میں بھی پانی کے کے ساتھ بیٹھ کر کے لیے کی بات ہے اور

پڑھیں:

ایک ’’غدارِ وطن‘‘ کی سوانح عمری

مجھے خوب یاد ہے کہ راقم نے سب سے پہلے اُن کی تحریر امریکا کے مشہور جریدے ’’نیویارکر‘‘ میں پڑھی تھی۔اِس تحریر کی معرفت میرا اُن سے پہلا تعارف ہُوا۔ یوں میں اُن کی تحریروں کا گرویدہ ہوتا چلا گیا ۔ وہ ہمیشہ مفصل لکھتی ہیں اور اپنا نکتہ نظر کھل کر اور بے دھڑک بیان کرتی ہیں ۔ اُنھی ایام میں گجرات میں ہندو دہشت گردوں اور بدمعاشوں نے دل کھول کر مسلمانوں کے خون کی ہولی کھیلی تھی ۔

اِسی خونریزی میں مشہور گجراتی مسلمان سیاستدان و رکن پارلیمنٹ (احسان جعفری) کا خون بھی کر دیا گیا تھا۔اِسی نسل کشی اور مسلمانوں کی بے دریغ خونریزی پر مذکورہ مصنفہ نے ایسا انکشاف خیز آرٹیکل لکھا تھا کہ بھارتی حکومت اور گجرات کی ریاستی سرکار( جس کے وزیر اعلیٰ نریندر مودی تھے) تھرّا اُٹھے تھے۔ راقم اُن دنوں امریکا میں مقیم تھا اور وہاں سے بھارتی جرائد و اخبارات حاصل کرنا سہل تھا ۔ نیویارک کے معروف علاقے ’’ جیکسن ہائٹس‘‘ میں ایک ہندو کی خاصی بڑی دکان تھی ۔ وہیں سے مَیں بھارتی جریدے خریدا کرتا تھا ۔ مثال کے طور پر: انڈیا ٹوڈے،آؤٹ لک ، فرنٹ لائن وغیرہ ۔اِن تینوں جرائد میں میری پسندیدہ لکھاری کی تحریریں باقاعدہ اور بکثرت شائع ہوتی تھیں ۔

میری اِس محبوب لکھاری کی تحریروں نے مجھے اتنا مسمرائز کررکھا تھا کہ اُن کا عالمی شہرت یافتہ پہلا ناول The God of Small Thingsسامنے آیا تو پہلی ہی فرصت میں نیویارک کی سب سے بڑی کتابوں کی دکان Barnes and Nobleسے خریدا اور ٹرین میں آتے جاتے اِسے پڑھا ۔ ’’دی گاڈ آف اسمال تھنگز‘‘ ناول کی کہانی بھارتی صوبے ، کیرالہ، سے شروع ہوتی ہے ۔

اِس کہانی میں کیرالہ کے ایک قصبے میں رہائش پذیر ایک غریب خاندان کی دل شکستہ داستان بیان کی گئی ہے ۔ ناول میں کیرالہ کے ذات پات کے بندھنوں میں جکڑے خاندانوں اور اُن کی المناک کہانیوں کو الفاظ کی شکل میں فلم بنا کر دکھایا گیا ہے۔یہ ناول اشکبار اور افسردہ کر دینے والا ہے ۔ ناولسٹ کو اِس کی بے پناہ مقبولیت کی بِنا پر معروفِ عالم ادبی انعام ’’ بکر پرائز‘‘ سے بھی نوازا گیا ۔ یوں ناول نگار کو عالمی شہرت بھی مل گئی ۔

میری اِس محبوب بھارتی رائٹر کا نام ارُن دھتی رائے ہے ۔ اُن کی کئی عالمی شہرت یافتہ تحریروں کو اُردو میں ترجمہ کرکے کراچی کے سہ ماہی جریدے ’’آج‘‘ کے ذہین و فطین مدیر،اجمل کمال، شائع کر چکے ہیں ۔ واقعہ یہ ہے کہ اجمل کمال صاحب اپنے نام کی مانند باکمال مترجم بھی ہیں ۔ ارُن دھتی رائے کی شخصیت اور تحریریں خاصی سرکش ، مزاحمتی اور ریاست مخالف ہوتی ہیں۔

ہر بھارتی حکومت اِسی لیے انھیں ناپسندیدہ قرار دیتی ہے ۔ دائیں بازو سے تعلق رکھنے والے کئی معروف بھارتی سیاستدان ( از قسم بی جے پی) متعدد بار ارُن دھتی رائے کو ’’غدارِ وطن‘‘ قرار دے چکے ہیں ۔ لیکن یہ درویش صفت خاتون دانشور اور مصنفہ ہر قسم کی سرکاری و غیر سرکاری مخالفتوں کے باوصف اپنے طے شدہ موقف سے ہٹتی ہیں نہ کوئی مخالف انھیں ہٹا سکا ہے ۔ ارُن دھتی رائے کی تحریروں میں جس طرح مظلوم بھارتی مسلمانوں اور زیر استبداد مقبوضہ کشمیریوں کی غیر مبہم حمائت کی جاتی ہے، اِن کی بنیاد پر اُن کے خلاف غداری کے کئی مقدمات بھی دائر ہو چکے ہیں ۔ مگر یہ سرکش مصنفہ کسی کے غچے اور غرّے میں آنے والی نہیں ہیں ۔

بھارتی مسلمانوں اور مظلوم کشمیریوں کے حقوق کی پاسداری کا اِس محترم و عظیم خاتون نے جس عزیمت سے پرچم اُٹھا رکھا ہے، ہم پاکستانیوں کو شائد اِس لیے بھی ارُن دھتی رائے پسند ہیں ۔ بھارت میں خبثِ باطن کے حامل کئی افراد نے انھیں ’’پاکستان کی ایجنٹ‘‘ بھی قرار دے رکھا ہے ۔ حیرت ہے کہ ماضی قریب میں پاکستان کی بھی ایک ’’ارُن دھتی رائے‘‘ ہُوا کرتی تھیں : وہ باقاعدہ لکھاری تو نہیں تھیں مگر ایک معروف وکیل اور انسانی حقوق کی محافظ ہونے کے ناتے وہ ہر مستبد پاکستانی حکمران کی سخت ناقد رہا کرتی تھیں ۔ اُن کے ہر بیان اور اقدام کی اساس پر اُن کے نظریاتی و سیاسی و سماجی مخالفین انھیں ’’بھارت کی ایجنٹ‘‘ کے لقب سے یاد بھی کرتے تھے ۔

اگست2002کے سلگتے ایام میں ارُن دھتی رائے پاکستان تشریف لائیں تو ہم نے انھیں حیرت انگیز نظروں سے لاہور کے ایک پنج ستارہ ہوٹل میں خطاب کرتے دیکھا اور سُنا ۔ اُن کی سادہ شخصیت اور نہایت سادہ لباس اور بھی دَم بخود کر دینے والا تھا ۔ ایک نئی نئی سیاسی جماعت بنانے والے پاکستانی سیاستدان ( جو اَب مرحوم ہو چکے ہیں) اور ایک معروف صحافی (جو اَب مشہور ٹی وی اینکر ہیں) کی دعوتِ خاص پر ارُن دھتی رائے پاکستان آئی تھیں ۔ اور اب اِنہی ارُن دھتی رائے کی نئی کتابMother Mary Comes to Me شائع ہو کر سامنے آئی ہے تو ہم نے اِسے شوق، تجسس اور مسرت سے دیکھا اور پڑھا ہے ۔

اس کتاب میں مصنفہ کی سچائی ، سچ سے محبت، سماجی روایات سے بغاوت اور سرکشی اپنے عروج پر ہے ۔ جس نے بھی اِس کتاب کو پڑھا ہے،سناٹے میں آ گیا ہے کہ آیا کوئی مصنفہ بیٹی ہونے کے ناتے اپنے خاندان اور خاص طور پر اپنی والدہ بارے اتنے کڑوے سچ بھی بول اور لکھ سکتی ہے؟

یہ تازہ کتاب(Mother Mary Comes to Me) ارُن دھتی رائے نے دراصل اپنی آنجہانی والدہ (Mary) بارے لکھی ہے ۔ یہ درحقیقت والدہ بارے تلخ یادداشتیں اور سوانح ہیں ، مگر بین السطور یہ ارُن دھتی رائے کی سوانح حیات بھی ہے ۔ مصنفہ کے سیاسی و سماجی بھارتی ناقدین(خصوصی طور پر دائیں بازو کے بھارتی سیاستدان)کا کہنا ہے کہ ’’جو رائٹراپنی والدہ بارے یہ سخت الفاظ لکھ سکتی ہے ، اُس کے لیے غداری کا لفظ بھی کم ہے ۔‘‘زیر نظر کتاب میں مصنفہ نے اپنی والدہ کے ساتھ پیچیدہ ، ،مشکل اور جذباتی تعلقات کی داستان بیان کی ہے۔ ارُن دھتی رائے کے بچپن اور والدہ سے تعلقات کی یادداشتوں اور مضبوط حافظے کی داد دینا پڑتی ہے ۔ اُن کی والدہ ایک سخت گیر اور ڈسپلن کی پابند ماہر تعلیم تھیں ۔

اُنھوں نے کیرالہ میں جدید اسکول کی بنیاد رکھی جو بعد ازاں بڑی شہرت کا حامل بنا ۔ Maryاِس اسکول کی ہیڈ مسٹرس بھی رہیں ۔ وہ ایک آزاد روش کی حامل ، باغی اور انقلابی ذہن کی حامل استاد اور سوشل ایکٹوسٹ بھی تھیں ۔ اُنھوں نے بھارتی سپریم کورٹ میں شامی مسیحی بچیوں کا مقدمہ بہادری سے جیتا اور تاریخ رقم کر گئیں ۔ سماج سے بغاوت اور آزادی سے جینے اور لکھنے کی خواہش کے عناصر ارُن دھتی رائے کو اپنی والدہ سے وراثت میں ملے ۔ حکومت ، سیاست اور سماج مخالف آزادانہ تحریروں کے باعث انھیں ’’اینٹی انڈیا‘‘ بھی کہا گیا ۔ بھارت سرکار کی جانب سے ایک بڑا ڈیم ( نرمدا ویلی ڈیم پراجیکٹ) بنانے کے چکر میں لاکھوں کی مقامی آبادی کو جس وحشت سے اکھیڑا گیا، اُرن دھتی رائے نے بھارت بھر میں اِن غریبوں کا مقدمہ لڑا اور بالآخر اُن کے حقوق دلوا ہی دیئے ۔

ارُن دھتی رائے نے جرأتمندی سے طاقتوروں سے سوال پوچھنے اور اُن کے سامنے ڈَٹ جانے کا سلیقہ اپنی والدہ سے سیکھا ۔ شائد اِسی بِنا پر مصنفہ نے اپنی اِس کتاب میں اپنی والدہ کو اپنی Gangster، Shelterاور My Stormبھی قرار دیا ہے ۔ اگر زیر نظر کتاب کے خلاصے کو دو چار الفاظ میں کوزے میں بند کیا جائے تو کہا جائے گا کہ ارُن دھتی رائے کے قلم سے یہUncompromising Memoirsکی بازگشت ہے ۔ اُنھوں نے اپنی ڈسپلن پسند والدہ بارے لکھا ہے کہ وہ اپنے دونوں بچوں سے سفاکی کی حد تک منظم زندگی ، مگر آزادانہ زندگی گزارنے کی طلبگار تھیں ۔

وہ لکھتی ہیں :’’ اور جب میری تحریروں کے باعث مجھے بھارت اور بھارت سے باہر شہرت ملنے لگی تو میری والدہ مجھ سے حسد کرنے لگی تھیں َ‘‘۔ارُن دھتی رائے بھارت اور دُنیا بھر میں اقلیتوں کے حقوق کی جس طرح علمبردار ہیں، اِسی طرح وہ دُنیا کے کسی بھی ملک کو جوہری ہتھیار رکھنے کی حامی نہیں ہیں ۔اُن کے یہ الفاظ اُن کی آزاد منش طبیعت اور باغیانہ روش کے مظہر کہے جاتے ہیں:’’ مجھے کہنے ، لکھنے اور بولنے کی مطلق آزادی چاہیے ۔ اِس کے لیے مجھے کسی خاص ملک کے قومی پرچم کی چھاؤں کی ضرورت نہیں ہے ۔ کسی بھی ملک کا قومی پرچم دراصل کپڑے کو وہ ٹکڑا ہے جو انسانوں کے دماغوں کو محدود بھی کرتا ہے اور اِنہیں سکیڑ کر رکھ دیتا ہے ۔‘‘

متعلقہ مضامین

  • ضم اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کریں: گورنر خیبر پی کے کا وزیراعظم کو خط
  • ایک ’’غدارِ وطن‘‘ کی سوانح عمری
  • پنجاب میں پہلی مرتبہ سیلاب کی پیشگی اطلاع کیلئے ڈرون مانیٹرنگ کا آغاز
  • پنجاب میں پہلی بار سیلاب کی پیشگی اطلاع کیلئے ڈرون مانیٹرنگ شروع
  • اسحاق ڈار ایس سی او وزرائے خارجہ اجلاس کیلئے کرغزستان پہنچ گئے
  • موبائل کمپنیوں کو 4 برسوں میں 3 ارب 41 کروڑ جرمانہ، سروس اور کوریج کی بہتری کیلئے مہلت
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • تیزی سے بڑھتی آبادی ملک کیلئے سب سے بڑا چیلنج ہے: وزیراعظم
  • سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
  • پاکستان مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کیلئے فعال سفارتی کردار جاری رکھے ہوئے ہے، اسحاق ڈار