سولر پینلز کی تنصیب بارے گائیڈ لائنز جاری
اشاعت کی تاریخ: 4th, June 2025 GMT
کلیم اختر: پی ڈی ایم اے پنجاب نے صوبہ بھر کے کمشنرز و ڈپٹی کمشنرز کو سولر پینلز کی تنصیب بارے گائیڈ لائنز جاری کر دیں۔
انرجی ڈیپارٹمنٹ کی جاری کردہ ہدایات کے پیش نظر پی ڈی ایم اے پنجاب نے مراسلہ جاری کیا، ضلعی انتظامیہ تمام متعلقہ فریقین(عمارت مالکان، سولر وینڈرز اور انسٹالرز) کو فوری ایس او پیز فوری فراہم کرے۔
ڈی جی پی ڈی ایم اے کا کہنا تھا کہ سولر سسٹم کی تنصیب صرف اے ای ڈی بیAlternative Energy Development Boardسے منظور شدہ ماہرین سے کروائیں۔
مودی کو دیکھیں تو یہ لگتا ہے کہ وہ نیتن یاہو کی کاپی ہے
حساس عوامی عمارتوں جیسے سکول، ہسپتال، دفاتر میں نصب سولر سسٹمز کا فوری جائزہ لیا جائے۔
میونسپل کارپوریشنز اور بلڈنگ اتھارٹیز کو سولر تنصیبات پر ریگولیٹری گائیڈ لائنز پر سختی سے عملدرآمد کرانے کے احکامات جاری کئے گئے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
پڑھیں:
پنجاب حکومت کا مفت سفر کی سہولت سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 02 جون2026ء) پنجاب حکومت نے لاہور سمیت صوبہ بھر میں شہریوں کو دی جانے والی مفت سفری سہولت کے مستقبل سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور شروع کر دیا ۔ ذرائع کے مطابق مفت سفری سہولت کو پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں سے مشروط کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ محکمہ ٹرانسپورٹ کی جانب سے وزیراعلی پنجاب کو دی گئی بریفنگ میں بتایا گیا کہ اگر پیٹرول کی قیمتیں 300روپے فی لیٹر تک پہنچ جاتی ہیں تو مفت سفری سہولت فوری طور پر ختم کیے جانے کا امکان ہے، اس حوالے سے آئندہ ہفتے حتمی فیصلہ متوقع ہے۔ لاہور سمیت صوبہ بھر میں دی گئی مفت سفری سہولت میں مزید توسیع نہ کرنے کی تجویز بھی زیر غور ہے،اس کے ساتھ یہ امکان بھی ظاہر کیا جا رہا ہے کہ مفت سفر کی سہولت جلد ختم کر دی جائے۔(جاری ہے)
رپورٹ میں بتایا گیا کہ گزشتہ دو ماہ کے دوران صوبہ بھر میں 7کروڑ سے زائد مسافروں نے اس سہولت سے فائدہ اٹھایا۔یہ مفت سفری سہولت پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے باعث متعارف کروائی گئی تھی اور اس کا اطلاق مختلف پبلک ٹرانسپورٹ سروسز پر کیا گیا تھا جن میں میٹرو بس، اورنج لائن ٹرین، الیکٹرو بس ،سپیڈو بس سروس سروس شامل تھیں۔
حکام کے مطابق موجودہ معاشی صورتحال اور ایندھن کی قیمتوں میں اتار چڑھا کو مدنظر رکھتے ہوئے اس پالیسی کا دوبارہ جائزہ لیا جا رہا ہے جبکہ حتمی فیصلہ اعلی سطحی مشاورت کے بعد کیا جائے گا۔