وزیراعظم کی دیامر بھاشا ڈیم سمیت بڑے آبی منصوبوں کی فوری تکمیل کی ہدایت
اشاعت کی تاریخ: 4th, June 2025 GMT
اسلام آباد:
وزیراعظم نے ملک میں توانائی کی پیداوار اور پانی کے وافر ذخیرے کا مؤثر نظام قائم کرنے کے لیے دیامر بھاشا ڈیم جیسے منصوبوں کو ترجیحی بنیادوں پر مکمل کرنے کی ہدایت کر دی۔
وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت دیا میر بھاشا ڈیم اور دیگر آبی وسائل کے امور پر اہم اجلاس ہوا۔
اجلاس میں وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال، وفاقی وزیر امور کشمیر و گلگت بلتستان انجینئر امیر مقام، وفاقی وزیر قانون و انصاف اعظم نذیر تارڑ، وفاقی وزیر آبی وسائل معین وٹو، وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور و بین الصوبائی روابط رانا ثناءاللہ، وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان گلبر خان اور متعلقہ اعلیٰ سرکاری افسران نے شرکت کی۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ پانی ذخیرہ کرنے کی استطاعت بڑھانے، زراعت کے لیے درکار پانی کی فراہمی اور سیلاب کی روک تھام کے لیے نئے ڈیمز کی تعمیر ناگزیر ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہماری معاشی خود انحصاری کا دارومدار سستی بجلی اور زراعت پر ہے جس کے لیے پانی کے اسٹوریج بڑھانے اور پانی کے مؤثر استعمال کی ضرورت ہے۔
وزیراعظم نے دیامیر بھاشا ڈیم کی تعمیر میں حائل تمام تر رکاوٹوں کو فوری طور پر حل کرنے اور منصوبے کی جلد از جلد تکمیل کی ہدایت کی۔
Tagsپاکستان.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان وفاقی وزیر بھاشا ڈیم کے لیے
پڑھیں:
طوفانی سیلاب سے عوام شدید مشکلات کا شکار ہیں، حکومت فوری اقدامات اٹھائے، کاظم میثم
ممبر گلگت بلتستان اسمبلی نے ایک بیان میں کہا کہ صوبائی اور وفاقی حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں مشکل کی اس گھڑی میں عوام کے شانہ بشانہ کھڑے ہوں اور متاثرین سیلاب کو ریلیف دینے اور بحالی کے لیے جامع منصوبہ بندی کے ساتھ اقدامات اٹھائیں۔ اسلام ٹائمز۔ سابق اپوزیشن لیڈر و ممبر گلگت بلتستان اسمبلی کاظم میثم نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ پورے گلگت بلتستان میں طوفانی سیلاب اور دریائی کٹاو سے عوام شدید مشکلات کے شکار ہیں، وفاقی اور صوبائی حکومت کو فوری اقدامات اٹھاتے ہوئے ریلیف اور بحالی کے لیے کام تیز کرنے کی ضرورت ہے۔ سکردو میں دریائی کٹاو کے سبب سترانگلونگما کواردو اور حوطو رنگاہ کے عوام شدید مشکلات کے شکار ہیں۔ زرعی اراضی اور درخت دریا برد ہو رہے ہیں لیکن تاحال کوئی ہنگامی بنیادوں پر بحالی کے لیے کوئی کام نہیں ہوا ہے۔ ضلعی انتظامیہ اور جی بی ڈی ایم اے کو کواردو حوطو رنگاہ اور رزسنا رنگاہ کے دریائی کٹاو روکنے کے لیے فوری اقدامات اٹھانا چاہیے۔ گزشتہ مہینے آنے والے شگریخورد میں سیلاب متاثرین کی بحالی کے بھی تاحال اقدامات نہیں اٹھائے گئے ہیں۔ جس کے سبب عوام میں شدید تشویش پائی جاتی ہے۔ کاظم میثم نے مزید کہا کہ طوفانی سیلاب کے سبب تقریبا تمام اضلاع میں تباہ کاریاں ہوئی ہیں اور شاہراہوں کی بندش کے سبب بھی مشکلات کے شکار ہیں۔ صوبائی اور وفاقی حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں مشکل کی اس گھڑی میں عوام کے شانہ بشانہ کھڑے ہوں اور متاثرین سیلاب کو ریلیف دینے اور بحالی کے لیے جامع منصوبہ بندی کے ساتھ اقدامات اٹھائیں۔