سونیا حسین لباس کی وجہ سے ایک بار پھر تنقید کی زد میں
اشاعت کی تاریخ: 4th, June 2025 GMT
کراچی(مانیٹرنگ ڈیسک) پاکستان شوبز انڈسٹری کی معروف اداکارہ سونیا حسین اپنے لباس کے انتخاب کی وجہ سے ایک بار پھر تنقید کا شکار ہوگئیں۔
سونیا حسین کا شمار ان چند اداکاراؤں میں ہوتا ہے جو مختلف اسٹائل کے ساتھ تجربے کرتی نظر آتی ہیں اور یہی وجہ ہے کہ جب وہ اپنے کسی نئے اسٹائل سے مداحوں کو متاثر نہ کر سکیں تو سوشل میڈیا پر تنقید کی زد میں آ جاتی ہیں۔
A post shared by SHS BLOG (@shadabhussainsiddiquishsblog)
اداکارہ آج کل اپنی نئی فلم ’دیمک‘ کے پروموشن میں مصروف ہیں اور اسی دوران فلم کے مقامی سنیما میں ہونے والے پریمیئر کی کچھ تصاویر اور ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہی ہیں۔
سونیا حسین ان وائرل ویڈیوز اور تصاویر میں جامنی رنگ کی فیوژن ساڑھی پہنے چلنے میں دشواری کا سامنا ہونے کی وجہ سے کافی پریشان نظر آ رہی ہیں۔
مداحوں کو بھی اداکارہ کا یہ لباس پسند نہیں آیا اور وہ ان کے لباس کے انتخاب پر تنقید کر رہے ہیں۔
سوشل میڈیا صارفین نے سونیا حسین کو مناسب اور آرام دہ لباس پہننے کا مشورہ بھی دیا ہے۔
Post Views: 4.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: سونیا حسین
پڑھیں:
اسرائیل میں نیتن یاہو کی ہٹ دھرمی پر تنقید میں اضافہ
تجزیہ کاروں کے مطابق نیتن یاہو کے بعض خفیہ سیاسی مقاصد بھی تھے، وہ بیروت میں فوجی کارروائیوں کے ذریعے امریکہ اور ایران کے درمیان جاری مذاکراتی عمل کو ناکام بنانا چاہتے تھے، اسی تناظر میں امریکی صدر ٹرمپ نے نیتن یاہو سے رابطہ کیا اور انہیں ممکنہ نتائج سے آگاہ کرتے ہوئے دباؤ ڈالا۔ اسلام ٹائمز۔ اسرائیل میں وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کی ہٹ دھرمی پر مسلسل تنقید میں اضافہ ہو رہا ہے۔ الجزیرہ ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی سیاست دانوں اور مختلف ذرائع ابلاغ کے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بنیامین نیتن یاہو قومی اہداف کی بجائے سیاسی مفادات اور اقتدار کے تحفظ کو ترجیح دے رہے ہیں۔ اسرائیلی میڈیا میں اظہار خیال کرنے والے مبصرین نے کہا کہ بہت سے اسرائیلی شہری اور سیاسی حلقے توقع کر رہے تھے کہ نیتن یاہو ایسے اقدامات کریں گے، جنہیں وہ اسرائیل کے تزویراتی مقاصد کے حصول کیلئے ضروری سمجھتے ہیں، تاہم ان کی حالیہ پالیسیوں نے ان توقعات کو پورا نہیں کیا۔
ناقدین کا کہنا ہے کہ انہوں نے ایک بار پھر ریاستی مفادات کے بجائے اپنی سیاسی بقا کو ترجیح دی، تجزیہ کاروں کے مطابق نیتن یاہو کے بعض خفیہ سیاسی مقاصد بھی تھے، وہ بیروت میں فوجی کارروائیوں کے ذریعے امریکہ اور ایران کے درمیان جاری مذاکراتی عمل کو ناکام بنانا چاہتے تھے، اسی تناظر میں امریکی صدر ٹرمپ نے نیتن یاہو سے رابطہ کیا اور انہیں ممکنہ نتائج سے آگاہ کرتے ہوئے دباؤ ڈالا۔