پاکستان نے اپنے دفاع کا حق استعمال کرتے ہوئے بھارتی جارحیت کا جواب دیا.اسحاق ڈار
اشاعت کی تاریخ: 4th, June 2025 GMT
اسلام آباد(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔04 جون ۔2025 )وزیرخارجہ اسحاق ڈار نے کہاکہ پاکستان نے اپنے دفاع کا حق استعمال کرتے ہوئے بھارتی جارحیت کا جواب دیا، بھارتی الزامات اور جارحیت کے معاملے پر چین نے پاکستان کی بھرپورحمایت کی انہوںنے کہا کہ بلاول بھٹوزرداری کی سربراہی میں وفدپاکستانی موقف اجاگر کرنے کے لیے بیرون ملک دورے پر ہے، پاکستانی وفد نیویارک کا دورہ مکمل کرکے واشنگٹن پہنچ چکا ہے،سفارتی محاذ پر پاکستان نے روس کو نظر انداز نہیں کیا، طارق فاطمی کی قیادت میں وفد روس گیا ہے جبکہ بلاول بھٹو کی زیرقیادت وفد 4 سابق وزرائے خارجہ اور 2 سابق خارجہ سیکرٹریوں پر مشتمل ہے جو اقوام متحدہ مین ملاقاتیں مکمل کرچکا ہے.
(جاری ہے)
اسلام آباد میں پریس کانفرنس کے دوران اسحاق ڈار نے پاکستان نے کہا کہ موثر انداز میں حقائق دنیا کے سامنے رکھے ہیں، خطے میں بالادستی کے بھارتی دعوے ہوا میں اڑ گئے، بھارت کا نیو نارمل دفن ہوگیا، دنیا نے پاکستان کی سفارتی کاوشوں کی تعریف کی، بھارت میں پاکستان کی سفارتی کامیابی پر ماتم ہورہا ہے اور ایک دوسرے پر الزام تراشی کی جارہی ہے انہوں نے کہا کہ بھارت کا 15 مقامات پر حملے اور ایف 16 کی تباہی کو دعویٰ جھوٹ تھا، اگلے روز امریکا نے تصدیق کی کہ پاکستان کا کوئی ایف 16 اڑا اور نہ تباہ ہوا، پاکستان کا پہلگام واقعے پر موقف پوری دنیا کے سامنے ہے،پاکستان کے کائنیٹک ایکشن کی تعریف ہو رہی ہے،بھارت کے ساتھ کشیدگی کے دوران 60 ممالک کو انگیج کیا گیا. اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان کی سفارتی کوششوں کو ہر محاذ پر سراہا گیا ہے، پاکستان کی سفارتی کامیابی پر بھارت میں سفارتی محاذ پر ماتم ہو رہا ہے اور ایک دوسرے پر الزام تراشی کی جارہی ہے،اسحاق ڈار نے کہا کہ پاک بھارت کشیدگی کے دوران سیاسی اختلاف اپنی جگہ پر قومی مفاد پر سب متحد تھے، پارلیمنٹ سے تمام جماعتوں نے بھارتی جارحیت پر ایک متن پر مبنی متفقہ قرار داد پاس کی اسحاق ڈار نے کہاکہ پاک بھارت کشیدگی کے دوران تمام ممالک نے پاکستان بھارت دونوں کو تحمل کرنے کا کہا کشیدگی کے دوران ہمارا جواب یہی تھا کہ بھارت پہل کرے گا تو پاکستان جواب دے گا.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے پاکستان کی سفارتی اسحاق ڈار نے کہا کشیدگی کے دوران پاکستان نے نے پاکستان نے کہا کہ
پڑھیں:
پاکستان اور اٹلی کے درمیان سفارتی پاسپورٹ ہولڈرز کے لیے ویزا فری سفر کا نیا معاہدہ
پاکستان اور اٹلی نے باہمی تعلقات کو مزید مضبوط بناتے ہوئے سفارتی پاسپورٹ رکھنے والوں کے لیے ویزا کی شرط ختم کرنے کے ایک تاریخی معاہدے پر دستخط کر دیے ہیں۔ اس معاہدے کو دونوں ممالک کے سفارتی تعلقات میں ایک انتہائی اہم موڑ قرار دیا جا رہا ہے۔
معاہدے پر دستخط کی تقریب اور اہم ملاقاتاٹلی کے دارلحکومت روم میں منعقدہ ایک پروقار تقریب کے دوران اٹلی میں تعینات پاکستانی سفیر علی جاوید اور اٹلی کی وزارتِ خارجہ کے سیکریٹری جنرل ریکارڈو گوارگلیا نے اس اہم معاہدے پر دستخط کیے۔
یہ بھی پڑھیں:پاکستان اٹلی سے دفاعی تعاون کے فروغ اور باہمی تجربے سے مستفید ہونا چاہتا ہے، وزیردفاع
دستخطی تقریب سے قبل دونوں اعلیٰ حکام کے درمیان ایک تفصیلی دو طرفہ ملاقات بھی ہوئی، جس میں باہمی دلچسپی کے امور، علاقائی صورتحال اور بین الاقوامی فورمز، خصوصاً اقوام متحدہ اور یورپی یونین میں تعاون کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
باہمی اعتماد اور سفارتی وفود کا تبادلہسرکاری بیان کے مطابق دونوں فریقین نے وسعت اور مثبت سمت پر گامزن پاک، اٹلی تعلقات پراطمینان کا اظہار کیا۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ نیا معاہدہ دونوں ممالک کے درمیان موجود گہرے باہمی اعتماد، لازوال دوستی اور قریبی تعاون کی واضح علامت ہے۔ اس اقدام سے سرکاری اور سفارتی وفود کے تبادلوں میں حائل رکاوٹیں دور ہوں گی اور عوامی و حکومتی سطح پر روابط کو مزید فروغ ملے گا۔
پاک، اٹلی تعلقات کا تاریخی فریم ورکپاکستان اور اٹلی کے درمیان طویل عرصے سے مختلف شعبوں میں قریبی تعاون جاری ہے۔ اس وقت دونوں ممالک کے مابین 15 سرکاری معاہدے نافذ العمل ہیں، جو سیاحت، ثقافت، سائنس و ٹیکنالوجی، کھیل، اعلیٰ دفاعی تعلیم اور انسدادِ منشیات جیسے شعبوں کا احاطہ کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ، دونوں ممالک کی جامعات اور تحقیقی اداروں کے درمیان 21 مفاہمتی یادداشتیں (ایم او یوز) بھی فعال ہیں۔
مزید پڑھیں:پاکستانی طالب علم اٹلی میں مفت اسکالرشپ اور لاکھوں روپے کیسے حاصل کرسکتے ہیں؟
دو طرفہ تعلقات کے اہم فریم ورک میں 2009 کا دفاعی تعاون معاہدہ، 2013 میں قائم کیا گیا اسٹریٹجک انگیجمنٹ پلان اور 2005 میں تشکیل دی گئی مشترکہ اقتصادی کمیشن شامل ہیں۔
اس سے قبل 1997 کا سرمایہ کاری تحفظ معاہدہ، 1983 کا دوہری شہریت کا معاہدہ اور 1972 کا حوالگیِ مجرمان معاہدہ بھی دونوں ممالک کے تعلقات میں اہم سنگِ میل سمجھے جاتے ہیں۔
پاکستانیوں کے لیے ’لیبر مائیگریشن‘ معاہدہ اور ملازمتیںرپورٹ کے مطابق 7 مئی 2025 کو اسلام آباد میں دونوں ممالک کے درمیان ’لیبر موبیلٹی اینڈ مائیگریشن‘ کی ایک اہم ترین یادداشت پر دستخط کیے گئے تھے۔ یہ کسی بھی یورپی ملک کے ساتھ پاکستان کا پہلا باضابطہ لیبر معاہدہ تھا، جس کے تحت پاکستانی ہنر مندوں کے لیے اٹلی میں 10,500 مخصوص ملازمتوں کے مواقع فراہم کیے گئے ہیں، جو پاکستانی افرادی قوت کے لیے ایک بڑی کامیابی ہے۔
سال 2026 کے اختتام پر اہم مذاکرات کی تیاریملاقات کے دوران سفیر علی جاوید نے سیکریٹری جنرل ریکارڈو گوارگلیا کو پاکستان کے دورے کی دعوت دی تاکہ دونوں ممالک کے درمیان ’دو طرفہ سیاسی مشاورت‘ کے ساتویں دور کا انعقاد کیا جا سکے۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان سال 2026 کی آخری سہ ماہی میں ان مذاکرات کی میزبانی کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔
اس کے ساتھ ہی انہوں نے اسلام آباد میں اٹلی کے نئے تعمیر شدہ سفارت خانے کے جلد افتتاح کی خواہش کا بھی اظہار کیا، جو کہ دنیا بھر میں اٹلی کا سب سے بڑا سفارتی مشن ہوگا۔ یہ تمام اقدامات مستقبل میں دونوں ممالک کو معاشی، سفارتی اور عوامی سطح پر ایک دوسرے کے مزید قریب لے آئیں گے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اٹلی اہم مذاکرات پاسپورٹ پاکستان علی جاوید لیبر مائیگریشن معاہدہ ملازمین