دریاؤں اور آبی ذخیروں میں پانی کی صورتحال کیا ہے؟
اشاعت کی تاریخ: 4th, June 2025 GMT
---فائل فوٹو
واٹر اینڈ پاور ڈیولپمنٹ اتھارٹی (واپڈا) نے دریاؤں اور آبی ذخیروں میں پانی کی صورتِ حال بتادی۔
ترجمان واپڈا کے مطابق واپڈا کے اعداد و شمار کے مطابق تربیلا کے مقام پر دریائے سندھ میں پانی کی آمد 81 ہزار 400 اور اخراج 1 لاکھ 55 ہزار 900 کیوسک ہے۔
منگلا کے مقام پر دریائے جہلم میں پانی کی آمد 33 ہزار 200 اور اخراج 25 ہزار کیوسک ہے، چشمہ بیراج میں پانی کی آمد ایک لاکھ 98 ہزار 600 ہے جبکہ اخراج 1 لاکھ 80 ہزار کیوسک ہے۔
واٹر اینڈ پاور ڈویلپمنٹ اتھارٹی (واپڈا) نے دریاؤں میں پانی کی صورتِ حال سے متعلق رپورٹ جاری کر دی۔
ترجمان کا کہنا ہے کہ ہیڈ مرالہ کے مقام پر دریائے چناب میں پانی کی آمد 25 ہزار اور اخراج 3 ہزار کیوسک ہے۔
نوشہرہ کے مقام پر دریائے کابل میں پانی کی آمد و اخراج 23 ہزار 300 کیوسک ہے۔
تربیلا ریزروائر میں آج پانی کی سطح 1469.
منگلا ریزروائر میں آج پانی کی سطح 1163.75 فٹ اور ذخیرہ 22 لاکھ 93 ہزار ایکڑ فٹ ہے، چشمہ ریزروائر میں آج پانی کی سطح 644.80 فٹ اور ذخیرہ ایک لاکھ 35 ہزار ایکڑ فٹ ہے، تربیلا، منگلا، چشمہ ریزوائر میں قابل استعمال پانی کا مجموعی ذخیرہ 42 لاکھ 5 ہزار ایکڑ فٹ ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: کے مقام پر دریائے میں پانی کی آمد ہزار ایکڑ کیوسک ہے
پڑھیں:
جارحیت کی قیمت واشنگٹن کو بہت مہنگی پڑے گی، عباس عراقچی
تہران:ایران نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ممکنہ نئی فوجی کارروائی کے اشاروں پر سخت ردعمل دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ کسی بھی غیر ذمہ دارانہ عسکری اقدام کے نتائج امریکا کے لیے انتہائی مہنگے ثابت ہوں گے۔
ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ امریکی انتظامیہ کے بعض بااثر حلقے زمینی حقائق کو نظر انداز کر رہے ہیں اور ان کی توجہ خطے کی موجودہ صورتحال کے بجائے 2028 کے صدارتی انتخابات پر مرکوز دکھائی دیتی ہے۔
مزید پڑھیںمشرق وسطیٰ کی صورتحال کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے، یو این سیکریٹری جنرل
انہوں نے کہا کہ واشنگٹن میں موجود کچھ عناصر حقیقت پسندانہ انداز میں حالات کا جائزہ لینے کے بجائے ایسے فیصلوں کی حمایت کر رہے ہیں جو خطے میں مزید کشیدگی کو جنم دے سکتے ہیں۔
ان کے بقول اگر امریکہ نے جذباتی یا غیر دانشمندانہ جارحیت کا راستہ اختیار کیا تو اس کی سیاسی اور سفارتی قیمت صدر ٹرمپ کو خود ادا کرنا پڑ سکتی ہے۔
عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ طاقت کے استعمال یا دھمکیوں سے مسائل حل نہیں ہوں گے بلکہ اس سے خطے کی صورتحال مزید پیچیدہ اور خطرناک ہو جائے گی۔