Express News:
2026-06-03@03:34:42 GMT

لبّیک اللّھمّ لبّیک۔۔۔۔۔۔۔ !

اشاعت کی تاریخ: 5th, June 2025 GMT

حضرت ابُوہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا، مفہوم:

’’جو شخص اﷲ تعالیٰ کے لیے حج کرے اور اس میں بُری باتیں اور بُرے کام نہ کرے تو وہ حج کرکے اسی طرح لوٹتا ہے گویا کہ آج اس کی ماں نے اسے جنا۔‘‘ (متفق علیہ)

حج کی حقیقت ہی یہی ہے کہ خدا کی رحمتوں اور برکتوں کے نازل ہونے کی جگہ میں حاضری دینا، حضرت ابراہیم علیہ السلام کی طرح اﷲ کی دعوت پر لبیک کہنا اور اس عظیم الشان قربانی کی روح کو زندہ کرنا، ابراہیمؑ و اسمٰعیلؑ جیسی برگزیدہ بندوں کی پیروی کرتے ہوئے اﷲ تعالیٰ کے حکم کے سامنے تسلیم و رضا، فرماں برداری اور اطاعت کے ساتھ اپنی گردن جھکا دینا۔ اور اس بندگی کے طریقے کو اسی طرح بجالانا جس طرح وہ ہزاروں برس پہلے بجا لائے اور خدائی نوازشوں اور بخششوں سے مالا مال ہوئے، یہی ملت ابراہیمی اور یہی حقیقی اسلام ہے، یہی روح اور یہی باطنی احساس ہے جس کو حاجی حضرات ان برگزیدہ بندوں کے مقدس اعمال کو اپنے جسم پر سجا کر ظاہر کرتے ہیں۔

اسی ابتدائی دور کی طرح بغیر سلے ہوئے کپڑے پہنتے ہیں، اپنے بدن اور سر کے بال نہ منڈواتے ہیں نہ کٹواتے ہیں، نہ خوش بُو لگاتے ہیں، نہ رنگین کپڑے پہنتے ہیں، نہ سر ڈھانپتے ہیں جیسا کہ صحیح مسلم میں ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے بیت اﷲ میں حاضر ہوکر پکارا، مفہوم: ’’میں حاضر ہوں۔ اے اﷲ میں حاضر ہوں۔ میں حاضر ہوں۔ تیرا کوئی شریک نہیں۔ سب خوبیاں اور سب نعمتیں تیری ہی ہیں اور سلطنت تیری ہے۔ تیرا کوئی شریک نہیں۔‘‘

آج ان تمام حاجیوں کے زبانوں پر وہی تین چار ہزار سال پہلے کے کلمات جاری ہوجاتے ہیں۔ یہ توحید کی صدا ان تمام مقامات اور بلند گھاٹیوں میں بلند کرتے ہیں جہاں ان دونوں نیک بندوں کے نقش قدم زمین پر پڑے۔ پھر اسمٰعیل علیہ السلام کی والدہ محترمہ ہاجرہ نے پانی کی تلاش میں صفا و مروہ کے درمیان چکر لگائے آج حاجی وہاں سعی کرتے ہیں، چلتے ہیں اور مخصوص جگہ میں دوڑتے ہیں، دعا کرتے ہیں اور گناہوں کی بخشش چاہتے ہیں۔

عرفات کے بڑے میدان میں جمع ہوکر اپنی گذشتہ عمر کے گناہوں اور کوتاہیوں کی معافی چاہتے ہیں، خدا کے حضور گڑگڑاتے اور روتے ہیں، اپنے قصور معاف کرواتے ہیں، اور وہاں وعدہ کرتے ہیں آئندہ زندگی میں اﷲ کی اطاعت و فرماں برداری کا عہد کرتے ہیں۔ اسی وقوف عرفات کو حج کا بنیادی رکن کہتے ہیں، یہ تاریخی میدان دعا کے مقامات، لاکھوں بندگان خدا کا ایک وحدت کے رنگ میں ایک لباس، ایک ہی جذبے میں سرشار، ایک بے آب و گیاہ ، خشک میدان، پہاڑوں کے درمیان دعا و مغفرت کی پکار گذشتہ عمر کی کوتاہیوں اور بربادیوں پر آہ و زاری، اپنی بدکاریوں کا اقرار، بڑے بڑے شقی القلب لوگوں کے دل موم کی طرح پگھلنے لگتے ہیں۔

پھر اس پاکیزگی کے بعد یہ احساس کہ یہی وہ مقام ہے جہاں ابراہیم علیہ السلام سے لے کر محمد رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم تک بہت سے انبیائے کرامؑ اسی حالت اور اسی صورت میں اسی جگہ کھڑے ہوئے تھے۔ ایسا روحانی منظر، ایسا کیف، ایسا اثر، ایسا گداز، ایسی تاثیر پیدا کرتا ہے جس کی مٹھاس روح اور جسم کی ہر تار اور نس میں رچ بس جاتی ہے۔ پھر حاجی قربانی کرتے ہیں۔ ارشاد نبوی ﷺ کے مطابق اپنے باپ ابراہیمؑ کی سنت پر عمل کرتے ہیں۔

اور پھر یہ کہتے ہیں، مفہوم: ’’میں نے موحد بن کر ہر طرف سے منہ موڑ کر اس کی طرف منہ کیا، جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا۔ اور میں شرک کرنے والوں میں سے نہیں۔‘‘ (الانعام)

پھر حاجی یہ اقرار کرتا ہے، مفہوم: ’’میری نماز اور میری قربانی اور میرا جینا اور میرا مرنا سب اﷲ کے لیے ہے جو تمام دنیا کا پروردگار ہے۔ اس کا کوئی شریک نہیں اور یہی حکم مجھے ہُوا ہے، اور میں سب سے پہلے فرماں برداری کا اقرار کرتا ہوں۔‘‘         (الانعام)

حج بیت اﷲ کی ان تمام کیفیات کو سمیٹ کر لانے والا یقیناً ارشاد نبوی ﷺ کے مطابق ایسا ہوتا ہے گویا ابھی جنم لیا۔ اﷲ تعالیٰ ہمیں حج بیت اﷲ کرنے کی سعادت اور پھر اس کی برکات سے مستفیض فرمائے۔ آمین

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: علیہ السلام کرتے ہیں ہیں اور اور اس

پڑھیں:

اتحاد مذاہب کیلئے سعودی فتویٰ، مولانا زاہدالراشدی اور مولانا فضل الرحمان خلیل کی تائید

راہنماؤں نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مشرق وسطیٰ میں اسرائیل کے مفادات کے تحفظ اور توسیع کے لیے مسلسل سہولت کاری کی جا رہی ہے، جس کا مقصد فلسطینی عوام کے جائز حقوق کو نظرانداز کرتے ہوئے صہیونی ریاست کے توسیع پسندانہ عزائم کو عملی شکل دینا ہے۔’’ابراہیمی معاہدہ‘‘ بین المذاہب ہم آہنگی کا عنوان استعمال کرتے ہوئے مسلم ممالک کو اسرائیل کیساتھ تعلقات استوار کرنے پر آمادہ کرنے کی کوشش ہے، حالانکہ اس کے پس پردہ سیاسی اہداف اور مقاصد کسی سے پوشیدہ نہیں۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان شریعت کونسل کے امیر مولانا زاہدالراشدی اور انصار اُلامہ پاکستان کے امیر مولانا فضل الرحمن خلیل نے سعودی عرب کے ممتاز علماء کی جانب سے اتحاد مذاہب کے بارے میں جاری کردہ فتوے کی بھرپور تائید کرتے ہوئے کہا ہے کہ نام نہاد ابراھیمی معاہدہ درحقیقت اسرائیل کو خطے میں مستقل حیثیت دلانے اور ’’گریٹر اسرائیل‘‘ کے توسیع پسندانہ منصوبے کی راہ ہموار کرنے کی ایک خطرناک کوشش ہے، جسے عالم اسلام کسی صورت قبول نہیں کرے گا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے اسلام آباد میں باہمی ملاقات کے دوران کیا۔ اس موقع پر پاکستان شریعت کونسل کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل مولانا عبدالرؤف محمدی، سیکرٹری اطلاعات پروفیسر حافظ محمد منیر، مولانا جمیل الرحمن فاروقی، حاجی صلاح الدین فاروقی، مفتی محمد نعمان، مولانا محمد معاویہ، سردار زاہد منان اور دیگر راہنما بھی موجود تھے۔ راہنماؤں نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مشرق وسطیٰ میں اسرائیل کے مفادات کے تحفظ اور توسیع کے لیے مسلسل سہولت کاری کی جا رہی ہے، جس کا مقصد فلسطینی عوام کے جائز حقوق کو نظرانداز کرتے ہوئے صہیونی ریاست کے توسیع پسندانہ عزائم کو عملی شکل دینا ہے۔
 
انہوں نے کہا کہ ’’ابراہیمی معاہدہ‘‘ بین المذاہب ہم آہنگی کا عنوان استعمال کرتے ہوئے مسلم ممالک کو اسرائیل کیساتھ تعلقات استوار کرنے پر آمادہ کرنے کی کوشش ہے، حالانکہ اس کے پس پردہ سیاسی اہداف اور مقاصد کسی سے پوشیدہ نہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ اسرائیل نے گزشتہ کئی دہائیوں سے فلسطینی سرزمین پر ناجائز قبضہ کر رکھا ہے، لاکھوں فلسطینیوں کو ان کے گھروں سے بے دخل کیا گیا، بیت المقدس کی حیثیت تبدیل کرنے کی کوششیں کی گئیں اور غزہ سمیت فلسطینی علاقوں میں انسانیت سوز مظالم کا سلسلہ جاری ہے۔ ایسے حالات میں اسرائیل کو تسلیم کرنے یا اس کیساتھ معمول کے تعلقات قائم کرنے کا کوئی جواز موجود نہیں۔ مولانا زاہد الراشدی اور مولانا فضل الرحمن خلیل نے کہا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی نسبت کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنا اور اس کے نام پر مختلف مذاہب کو ایک ایسے نظریاتی فریم ورک میں جمع کرنے کی کوشش کرنا جس سے اسلامی عقائد و تعلیمات متاثر ہوں، قابل قبول نہیں۔ انہوں نے کہا کہ قرآن کریم کی تعلیمات اور امت مسلمہ کے اجماعی عقائد کی روشنی میں اسلام اپنی مستقل شناخت اور نظریاتی اساس رکھتا ہے جسے کسی مصنوعی عنوان کے تحت خلط ملط نہیں کیا جا سکتا۔
 
اجلاس کے شرکاء نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان اور سعودی عرب سمیت تمام مسلم ممالک کو اسرائیل کے توسیع پسندانہ عزائم اور گریٹر اسرائیل کے منصوبے کے خلاف مشترکہ مؤقف اختیار کرنا چاہیے اور ایسی ہر کوشش کو سختی سے مسترد کر دینا چاہیے جو فلسطینی کاز کو نقصان پہنچانے یا صہیونی ریاست کو مزید تقویت دینے کا باعث بنے۔ انہوں نے عالم اسلام کے حکمرانوں، دینی قیادت اور عوام سے اپیل کی کہ وہ مسئلہ فلسطین کے حوالے سے اپنے تاریخی، دینی اور اخلاقی موقف پر ثابت قدم رہیں اور بیت المقدس اور فلسطینی عوام کے حقوق کے تحفظ کے لیے متحدہ کردار ادا کریں۔ اس موقع پر شرکاء نے فلسطینی عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے عوام ہمیشہ کی طرح فلسطینی بھائیوں کے حق خود ارادیت، آزادی اور ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کی جدوجہد کی حمایت جاری رکھیں گے۔

متعلقہ مضامین

  • سپریم کورٹ نے نشے کی حالت کو بنیاد بناکر مجرم کی سزائے موت عمر قید میں تبدیل کرنے کی درخواست مسترد کر دی
  • دوسرا ون ڈے:آسٹریلیا کیخلاف پاکستانی ٹیم 190رنز پر آل آئوٹ
  • میٹا اے آئی سمیت چیٹ بوٹس کے ذریعے سوشل میڈیا اکاؤنٹس ہیک ہونے کا خطرہ، ماہرین کی وارننگ
  • بی جے پی کو پیپر لیک سے نہیں بلکہ اس ایشو پر بات کرنے سے مسئلہ ہے، اروند کیجریوال
  • بعض حکمران عناصر بینظر انکم سپورٹ پروگرام کو ختم کرنا چاہتے ہیں، تاہم پیپلز پارٹی ایسا نہیں ہونے دے دی، بلاول بھٹو
  • اتحاد مذاہب کیلئے سعودی فتویٰ، مولانا زاہدالراشدی اور مولانا فضل الرحمان خلیل کی تائید
  • چاہتا ہوں کرنسی سے قائداعظم کی تصویر ہٹا دی جائے، شہزاد نواز نے ایسا کیوں کہا؟