یہ پاکستان میں رونما ہونیوالے سینکڑوں واقعات میں سے ایک واقعہ تھا جس میں دولت کے نشے میں دھت ایک پاکستانی دوسرے شہری کو حقیر جان کر اسے تشدد کا نشانہ بناتا ہے لیکن تشدد کرنے والا شاید بھول گیا تھا کہ یہ ٹیکنالوجی کا دور ہے، جہاں ہر واقعے کی کچھ نہ کچھ ریکارڈنگ سارے معاملے کو عیاں کردیتی ہے۔

یہ معاملہ شروع ہوتا ہے یکم جون کو جب کراچی کے علاقے ڈیفنس میں ایک مہنگی گاڑی سے موٹر سائیکل سوار ٹکرا جاتا ہے، جس کے بعد گاڑی میں موجود ایک نجی کمپنی کے مالک سلمان فاروقی موٹر سائیکل سوار سدھیر کو تشدد کا نشانہ بنانا شروع کردیتا ہے۔

یہاں قابل ذکر بات یہ بھی ہے تشدد کا نشانہ بننے والے نوجوان سدھیر کی بہن بھی وہاں موجود تھی جو ہاتھ جوڑ جوڑ کر سلمان فاروقی سے اپنے بھائی کے لیے معافی مانگتی رہی لیکن تشدد کا سلسلہ تھمتا نہیں۔

یہ بھی پڑھیں: کراچی میں نوجوان پر تشدد کرنے والا ملزم سلمان فاروقی گرفتار

شاید یہ قصہ وہیں تمام ہو جاتا لیکن اللہ کو کچھ اور منظور تھا وہاں موجود شہریوں نے اپنے موبائل کا استعمال کرتے ہوئے اس پرتشدد واقعے کی مختلف ویڈیوز بنا کر سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کردیں، جو جنگل میں آگ کی طرح ایسی پھیلیں کہ پاکستان کا مین اسٹریم میڈیا بھی اسے خبر بنانے پر مجبور ہو گیا۔

یوں ایک بے بس اور لاچار بہن بھائی کی مظلومیت پوری دنیا نے دیکھ لی، اس موقع پر ڈی آئی جی ساؤتھ سید اسد رضا نے واقعے کا فوری نوٹس لے لیا، پولیس نے ویڈیو میں قابل شناخت سلمان فاروقی سمیت اس کے ساتھیوں اور متاثرہ بہن بھائی کی تلاش جاری کردی، ساتھ ہی ملزمان کیخلاف عینی شاہد کی مدعیت میں مقدمہ بھی درج کرلیا گیا۔

پولیس نے فوراً کارروائی کرتے ہوئے سلمان فاروقی کے گارڈز کو حراست میں لیا کیوںکہ پولیس چھاپے کے دوران سلمان فاروقی گرفتار نہیں ہوسکے تھے، ایک دن بعد پولیس نے سلمان فاروقی کو ساتھی کے ہمراہ گرفتار کر لیا اور لاک اپ کی تصاویر وائرل کیں۔

مزید پڑھیں: بہنوں کے سامنے نوجوان پرتشدد کرنیوالا ملزم سلمان فاروقی گرفتار، ’یہ بس ایک فوٹو سیشن ہے‘

سوشل میڈیا پر ان تصاویر پر تبصروں میں شہریوں نے سلمان فاروقی کے حلیے اور لاک اپ کے کھلے ہونے پر اعتراضات کا انبار لگادیا، جس کے بعد مزید تصاویر میں سلمان فاروقی کے بال بگڑے ہوئے تھے اور باقی اعتراضات بھی دور کرنے کی کوشش کی گئی۔

سلمان فاروقی کی گرفتاری کے بعد سوشل میڈیا پر ایک اور بحث چھڑ گئی کہ یہ بھی رہا ہو جائے گا کیوںکہ اس سے قبل ایسی کئی مثالیں ہمارے سامنے ہیں جیسے نتاشا دانش کیسں، لیکن پولیس نے اپنا کام جاری رکھا اور ملزمان کو عدالت میں پیش کرکے ان کا جسمانی ریمانڈ حاصل کیا لیکن اصل معاملہ تب پیش آیا جب ملزمان کو پولیس کمرہ عدالت سے نکال کر ساتھ لے جانے لگی۔

جب ملزمان پولیس کی تحویل میں عدالت کی راہداری سے واپس جا رہے تھے تو ایک وکیل نے سلمان فارقی کو تھپڑ رسید کردیا جس کے بعد وکیلوں کی جانب سے با آواز بلند ملزمان کو مارنے کے نعرے لگائے گئے اور پھر رعونت سے بھرے سلمان فاروقی جس نے ایک بہن کی ہاتھ جوڑ کر معافیوں کو رد کردیا تھا وہ تھپڑ کھانے کے بعد عدالت میں غیر محفوظ ہوگیا۔

مزید پڑھیں: کراچی نوجوان تشدد کیس: سلمان فاروقی کی درخواست ضمانت پر نوٹس جاری

پولیس نے دوسری جانب متاثرہ نوجوان سدھیر کی تلاش جاری رکھی، جس نے ایک روز قبل منظر عام پر آکر پوری روداد سنائی، اس کا کہنا تھا کہ وہ گھبرایا ہوا تھا یا شاید ٹراما میں تھا، بہرحال معاملہ آگے بڑھتا ہے اب اگلا مرحلہ ملزمان کی شناخت پریڈ کا تھا جو اب ہونا ممکن اس لیے تھا کہ سدھیر مل چکا تھا، پولیس نے عدالت سے ملزمان کی شناخت پریڈ کی درخواست کی جس پر عدالت نے 5 جون کی تاریخ مقرر کی۔

شناخت پریڈ کے لیے ملزمان اور متاثرہ شہری سدھیر کو نوٹس جا چکے تھے، عدالت کے سامنے باری باری شناخت پریڈ کا عمل ہوا جہاں سدھیر نے ڈمی ملزمان کے ہمراہ سلمان فاروقی اور اس کے ساتھی اویس ہاشمی کو پہچان لیا، لیکن کہانی میں نیا موڑ سدھیر کے عدالتی بیان کے بعد آیا۔

آپ سوچ رہے ہوں گے وہی ہونا تھا جو ہوتا چلا آرہا ہے لیکن ایک لمحے کے لیے سوچیے کہ کیا اس سسٹم میں جہاں جگہ جگہ سلمان فاروقی جیسے ان گنت بااثر افراد دندنا رہے ہوں وہاں اقلیتی برادری سے تعلق رکھنے والا نوجوان سدھیر مقابلہ کر پائے گا، سدھیر اس ملک کے کروڑوں عام شہریوں کی ترجمانی کرتا ہے، جو اپنے ساتھ ساتھ اپنی بہنوں کا بھی سہارا ہے وہ بھلا گھر کے کاموں کے ساتھ کوئی اور جھنجھٹ کیسے پال سکتا ہے؟ کیا آپ کے پاس وقت ہے، طاقت ہے، پیسہ ہے، شاید سدھیر کے پاس بھی نہ ہو۔

مزید پڑھیں: کراچی میں تشدد کے شکار نوجوان نے گرفتار ملزمان کو معاف کردیا

نوجوان سدھیر نے عدالت میں بیان دیا کہ اسے عدالت کی جانب سے طلب کیے جانے کا علم نہیں تھا، وکیل سے علم ہوا تو حاضر ہوگیا، کوئی کیس نہیں کرنا چاہتا میں نے ملزم کو معاف کردیا ہے۔

عدالت نے شناخت پریڈ کے بعد ملزمان کو عدالتی ریمانڈ پر جیل بھیجنے کا حکم دیا اور پولیس سے مقدمہ کا چالان طلب کرلیا ہے، دوسری جانب سلمان فاروقی اور اویس ہاشمی ضمانت کی درخواست پہلے ہی دائر کر چکے تھے، جس پر فیصلہ سناتے ہوئے کراچی کی ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ نے دونوں ملزمان کی درخواست مسترد کردی، جس کے بعد اب ممکن ہے گرفتار ملزمان اعلیٰ عدالت سے رجوع کریں۔

پولیس اس کیس میں 14 روز میں چالان عدالت میں پیش کرنے کی پابند ہے، چالان جمع ہونے پر اس بات کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ کیس ختم ہو رہا ہے یا پولیس کی جانب سے مضبوط کیس بنایا گیا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اقلیتی برادری اویس ہاشمی ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ پولیس جیل ڈی آئی جی ساؤتھ سدھیر سلمان فاروقی سوشل میڈیا سید اسد رضا شناخت پریڈ عدالتی ریمانڈ نتاشا دانش کیسں.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: اقلیتی برادری اویس ہاشمی ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ پولیس جیل ڈی آئی جی ساؤتھ سدھیر سلمان فاروقی سوشل میڈیا شناخت پریڈ عدالتی ریمانڈ نتاشا دانش کیسں نوجوان سدھیر سلمان فاروقی سوشل میڈیا کی درخواست شناخت پریڈ ملزمان کو عدالت میں ملزمان کی جس کے بعد پولیس نے تشدد کا کے لیے

پڑھیں:

جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے رکنِ پارلیمنٹ  کی نوجوان خاتون کے ساتھ نازیبا ویڈیو سامنے آگئی

لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن)جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے رکنِ پارلیمنٹ  کی نوجوان خاتون کے ساتھ  نازیبا ویڈیو سامنے آنے پر تنازعہ کھڑا ہو گیا۔ پہلے تو اس ویڈیو کو فیک اور آرٹیفیشل انٹیلی جنس کی تخلیق  بتایا گیا لیکن جب ویڈیو اصل نکل آئی تو ممتاز سینئیر سیاست دان نے دوسری شادی  کرنے کا دعویٰ کیا۔ خاتون کے غیر شادی شدہ ہونے کی دستاویز نے سیاستدان کو زیادہ مشکل میں ڈال دیا۔  بنگلہ دیش کی پارلیمنٹ کے رکن، جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے سینئیر سیاستدان غازی نذرالاسلام کی   ایک نوجوان خاتون کے ساتھ ویڈیو وائرل ہونے کے بعد ایک کی مبینہ دوسری شادی کے معاملے پر تنازع  ان کے دوسری شادی کا اعتراف کر لینے کے بعد کم نہیں ہوا۔ اب جماعت اسلامی نے اعلان کیا ہے کہ وہ اس سارے معاملہ کی تحقیقات کروا رہی ہے

عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کر گئی

 بنگلہ دیش کے  میڈیا کے مطابق غازی نذرالاسلام کی سوشل میڈیا پر ایک نوجوان خاتون کے ساتھ ویڈیو وائرل ہو گئی تھی۔ پہلے تو ان کے حامیوں نے اس ویڈیو کو ڈیپ فیک اور آڑٹیفیشل انٹیلیجنس سے بنائی گئی  ویڈیو قرار دیا، لیکن جب  تنقید کرنے والے  خاموش نہیں ہوئے تو بعض لوگوں نے اس ویڈیو کی سافٹ وئیرز کی مدد سے ویریفیکیشن کی۔ فیکٹ چیک کرنے والے ایک  ادارے  نے بتا دیا کہ ویکڈو بالکل اصلی ہے۔  نذر الاسلام کی نوجوان خاتون کے ساتھ  ویڈیو کے مصنوعی ذہانت سے تیار ہونے یا اس میں کوئی تبدیلی کیے جانے کے شواہد نہیں مل۔ اس کے بعد لوگوں کی ساری توجہ ویڈیو   میں شامل افراد اور ان کے باہمی تعلق پر مرکوز ہوگئی۔ جب سوشل میڈیا پر  تنقید کافی برھ گئی تو    جماعت اسلامی کے سینئیر سیاست دان اور رکن پارلیمنٹ نے ویڈیو کلپ میں اپنے ساتھ دکھائی دینے والی نوجوان خاتون کو اپنی بیوی قرار دے دیا۔  غازی نذرالاسلام نے اپنے بیان میں کہا کہ خاتون ان کی دوسری بیوی ہے  اور ان کی شادی 17 جون کو دونوں خاندانوں اور ان کی پہلی بیوی کی رضامندی سے ہوئی تھی۔

چیئرمین یورپی یونین پاک فرینڈشپ فیڈریشن یورپ کی ہیوی انڈسٹریز ٹیکسلا کے چیئرمین سے ملاقات

 نذر الاسلام نے یہ مؤقف اختیار کیا کہ اس وائرل ویڈیو کو خفیہ طور پر ریکارڈ کرکے بھتہ خوری اور سیاسی کردار کشی کےلیے منظرِ عام پر لایا گیا۔ جماعت اسلامی کے اس سینئیر رکنِ پارلیمنٹ کی پہلی بیوی نے اس موقع پر شوہر کا ساتھ دیا اور  ایک ویڈیو بیان میں اپنے عمر رسیدہ  شوہر کے مؤقف کی  تصدیق کی کہ ان کے شوہر نے نوجوان لڑکی مریم بیگم سے دوسری شادی کرلی ہے۔ مریم بیگم نے بھی ایک علیحدہ ویڈیو میں خود کو غازی نذرالاسلام کی بیوی  قرار دیتے ہوئے کہا کہ شادی 17 جون کو دونوں خاندانوں اور نذر الاسلام کی پہلی بیوی کی موجودگی میں ہوئی تھی۔

پی سی بی نے ڈومیسٹک کرکٹ کے نئے سیزن کا شیڈول جاری کر دیا

 بنگلہ دیشی میڈیا  میں سامنے آنے والی رپورٹوں کے مطابق غازی نذرالاسلام اور ان کے خاندان کی تصدیق کے باوجود سوشل میڈیا پر خاتون مریم بیگم  سے متعلق  قانونی دستاویزات منظر عام پر آئی ہیں، جن کی آزادانہ تصدیق نہیں ہوسکی اور نہ ہی رکن پارلیمنٹ یا خاتون اور ان کے اہلخانہ نے دستاویز ات میں موجود تضاد پر کوئی وضاحت دی ہے۔ شادی کے پانچ دن بعد نذر الاسلام نے بیوی کو کنوارا ظاہر کر کے اسکی سرکاری نوکری کی سفارش کی؟ ایک دستاویز میں نذر السلام کے ساتھ نظز آنے والی لڑکی مریم کی ازدواجی حیثیت ’غیر شادی شدہ‘ درج ہے اور اس دستاویز  پر غازی نذرالاسلام کی جانب سے 22 جون، یعنی اپنی بتائی ہوئی مبینہ شادی  کی تاریخ کے پانچ روز بعد، سرکاری ملازمت کے لیے سفارش بھی موجود دکھائی دیتی ہے۔ 

دہشتگردی کے خاتمے تک فتنۃ الخوارج و فتنۃ الہندوستان کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی، فیلڈ مارشل

 بنگلہ دیش کے میڈیا کے مطابق یہ خاتون سرکاری ملازمت کی خواہاں تھیں اور غازی نذرالاسلام نے ان کی درخواست کی سفارش کی تھی۔  غازی نذرالاسلام نے ان تمام کہانیوں نظر انداز کرتے ہوئے ایک اور پیچیدہ کہانی سے پردہ اٹھا دیا جو  دال میں کافی کچھ کالا ہونے کی نشاندہی کرتی ہے۔ عمر رسیدہ سیاستدان نذر الاسلام نے یہ دعویٰ کیا کہ 13 جولائی کو وہ ڈھاکا کے موگ بازار میں ایک دفتر گئے تھے جہاں ان کی دونوں بیویاں بھی موجود تھیں۔

 نذر الاسلام نے الزام لگایا کہ  ڈرائیور، دوسری  کے ماموں اور چند نامعلوم افراد نے انہیں یرغمال بنا کر ایک لاکھ ٹکا بھتہ وصول کیا،  ان لوگوں نے نذر الاسلام کے بقول مزید رقم کا مطالبہ کیا اور  ان لوگوں نے ہی ان کی مریم کے ساتھ خفیہ طور پر نجی ویڈیو ریکارڈ کرکے بعد میں سوشل میڈیا پر پھیلا دی۔  نذر الاسلام کے اس دعوے میں کمزوری یہ ہے کہ ویڈیو کلپ مین نذر الاسلام کو اس خاتون کے ساتھ اپنے کمرے میں بیٹھے اور بوس و کنار کرتے دیکھا جا سکتا ہے۔  لوگ یہ سوال کر رہے ہیں کہ بازار کے کسی دفتر  میں یرغمال بنا کر بھتہ لینے والوں کی رسائی ان کے گھر کے کمرے تک کیسے تھی۔  

پاکستان نے کابل فضائی حملوں پر ایمنسٹی انٹرنیشنل کی رپورٹ مسترد کر دی

  اس سکینڈل کے سوشل میڈیا اور میڈیا میں بہت زیادہ ڈسکس ہونے کے بعد آخر کار جماعت اسلامی بنگلہ دیش نے کہا ہے کہ وہ اس سارے معاملے کی معلومات اکٹھی کر رہی ہے اور حقائق سامنے آنے کے بعد تنظیم کے اندر تادیبی کارروائی کا فیصلہ کیا جائے گا۔ جماعت اسلامی کے اسسٹنٹ سیکریٹری جنرل احسان الحق محبوب زبیر کے مطابق پارٹی میڈیا رپورٹس، رکنِ پارلیمنٹ، ان کی دونوں بیویوں اور خاتون کے والد کے بیانات کا جائزہ لے رہی ہے۔

مزید :

متعلقہ مضامین

  • ’چاہیں تو گھر سے کھانا بھجوا دوں‘، سلمان خان کی سونم وانگچک سے بھوک ہڑتال ختم کرنے کی اپیل
  • اسکردو: سیلفی بناتے کچورا جھیل میں گرے موبائل کو نکالتے ہوئے نوجوان گر کر جاں بحق
  • کراچی، رینجرز اور ایس آئی یولیس کے ساتھ مقابلے میں 3 بھتہ خور ہلاک، ایک زخمی گرفتار
  • کراچی، نوجوان لڑکی کو گھر میں گھس کر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا، والد کی مدعیت میں مقدمہ درج
  • کراچی: زیادتی کی شکار غیرملکی خاتون نے ملزم کو معاف کردیا
  • گھوٹکی: سابق ایم پی اے شہریار شر کے بیٹے کو بازیاب کروالیا: ایس ایس پی
  • رحیم یارخان: لاپتا نوجوان کی لاش گرفتار ایس ایچ او کی نشاندہی پر برآمد
  • سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت
  • کراچی: ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار تینوں ڈاکو اپنے ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک
  • جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے رکنِ پارلیمنٹ  کی نوجوان خاتون کے ساتھ نازیبا ویڈیو سامنے آگئی