اسلام آباد:

وزیراعظم کے معاون خصوصی بلال بن ثاقب نے کہا ہے کہ پاکستان کرپٹو میں آگے بڑھ رہا ہے اور حکومت کی مدد سے "اسٹریٹجک بٹ کوائن ریزرو" قائم کر رہے ہیں۔

وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے کرپٹو، بلاک چین اور پاکستان کرپٹو کونسل کے چیف ایگزیکٹیو افسر بلال بن ثاقب نے کہا ہے کہ پاکستان کرپٹو میں آگے بڑھ رہا ہے جبکہ بھارت میں ٹریکشن کی کمی ہے۔

بلال بن ثاقب نے کہا کہ پاکستان نہ صرف کرپٹو کو آزما رہا ہے بلکہ مکمل عزم کے ساتھ اس میدان میں داخل ہو چکا ہے، حکومت کی مدد سے "اسٹریٹجک بٹ کوائن ریزرو" قائم کر رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہاں چیزیں مزید دلچسپ ہو جاتی ہیں کہ امریکا کی جانب سے ایسا کرنے کے صرف تین ماہ بعد پاکستان نے اپنا ریزرو بنایا، بھارت ابھی تک صرف کرپٹو پر بات چیت کے وعدے ہی کر رہا ہے اور بھارت کی جانب سے کئی برسوں سے "کرپٹو پالیسی پیپر" جاری کرنے کا کہا جا رہا ہے۔

بلال بن ثاقب نے کہا کہ بھارت کا تازہ ترین وعدہ "جون 2025" کا ہے، جو ہر گزرتے دن کے ساتھ قریب تو آ رہا ہے لیکن حقیقت میں کبھی پہنچتا نہیں، یہ صورت حال کسی طنزیہ شاعری سے کم نہیں لگتی۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان جسے کبھی ٹیکنالوجی کی دنیا میں پیچھے سمجھا جاتا تھا اب جدت کے اس سفر میں قیادت کرنے کے خواب دیکھ رہا ہے، پاکستان ایک "نیو بورن" کے عمل سے گزر رہا ہے اور اب وہ عالمی سطح پر اپنی نئی پہچان بنانے کے لیے تیار ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: بلال بن ثاقب نے کہا کہ پاکستان نے کہا کہ رہا ہے

پڑھیں:

مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان

بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے بڑھتے ہوئے واقعات کے خلاف سخت اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے جرائم میں ملوث افراد کو جلد انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیےفاسٹ ٹریک عدالتیںقائم کی جائیں گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ طلبہ کے مستقبل سے کھیلنے والوں کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر جاری اپنے بیان میں وزیراعظم مودی نے کہا کہ نوجوانوں کا مستقبل حکومت کی اولین ترجیح ہے اور امتحانی نظام میں بدعنوانی یا پرچے لیک کرنے جیسے جرائم میں ملوث عناصر کو سخت اور فوری سزا دی جائے گی۔

یہ امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے معاملے پر وزیراعظم مودی کا پہلا عوامی بیان ہے۔ تاہم ان کے ردعمل کے بعد بھی ملک بھر میں جاری طلبہ احتجاج میں کمی نہیں آئی۔ متعدد طلبہ اور سماجی حلقوں نے سوال اٹھایا کہ حکومت نے اس حساس معاملے پر ردعمل دینے میں اتنی تاخیر کیوں کی۔

دوسری جانب لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے وزیراعظم کے بیان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے حکومت پر تعلیمی نظام کو کمزور کرنے کا الزام عائد کیا۔

راہل گاندھی نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں لکھا کہ نوجوانوں کے مستقبل کو سب سے زیادہ نقصان موجودہ حکومت نے پہنچایا ہے۔ ان کے مطابق حکومت نے نہ صرف تعلیمی نظام کو تباہ ہونے دیا بلکہ ذمہ دار افراد کو بھی تحفظ فراہم کیا۔

انہوں نے کہا کہ احتجاج کرنے والے طلبہ کے تین بنیادی مطالبات ہیں، جن میں وزیر تعلیم دھرمندر پردھان کو عہدے سے ہٹانا، طلبہ سے باضابطہ معافی مانگنا اور احتجاج کے دوران طلبہ پر مبینہ تشدد میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی شامل ہے۔

واضح رہے کہ ملک میں تعلیمی اصلاحات اور امتحانی نظام میں شفافیت کے مطالبات کے حوالے سے احتجاجی تحریک جاری ہے۔ حالیہ دنوں میں طلبہ اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کے بعد یہ معاملہ مزید شدت اختیار کر گیا ہے، جبکہ امتحانی پرچے لیک ہونے کے واقعات نے بھارت کے تعلیمی نظام پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • ٹرمپ کا نیا ٹیرف پاکستان، بھارت، چین، یورپی یونین سمیت 60 شراکت داروں پر آج سے نافذ
  • پاکستان کا بنگلہ دیش کے ساتھ تعلیمی تعاون بڑھانے کا عزم، ڈھاکہ یونیورسٹی کے شعبہ اردو میں کمپیوٹر لیب قائم
  • سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
  • بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
  • اقوام متحدہ میں پاکستان کا امن اور مذاکرات پر زور، بھارت پر عالمی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام
  • پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
  • نذیر احمد جنجوعہ قائم مقام سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی پاکستان مقرر
  • مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
  • سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
  • مقبوضہ کشمیر میں تیز بارشیں، بھارت نے پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا