گیس لیکج دھماکے میں زخمی سابق سینیٹر عباس آفریدی انتقال کرگئے
اشاعت کی تاریخ: 6th, June 2025 GMT
گیس لیکج دھماکے میں زخمی سابق سینیٹر عباس آفریدی انتقال کرگئے WhatsAppFacebookTwitter 0 6 June, 2025 سب نیوز
کوہاٹ: گیس لیکج دھماکے میں زخمی ہونے والے سابق سینیٹر عباس آفریدی زخموں کی تاب نہ لاتےہوئے انتقال کرگئے۔
تفصیلات کے مطابق عباس آفریدی گزشتہ روز اعظم باغ میں گیس لیکج دھماکے میں زخمی ہوئے تھے جس کے بعد انہیں سی ایم ایچ کھاریاں برن سینٹرمنتقل کیاگیا تھا جہاں آج وہ انتقال کرگئے۔
خاندانی ذرائع کا کہنا ہے کہ عباس آفریدی کی نماز جنازہ سہ پہر 5 بجے بابری بانڈہ کوھاٹ میں ادا کی جائے گی۔
پولیس کے مطابق گزشتہ روز گیس لیکج دھماکے کے مزید 3 زخمی زیرعلاج ہیں۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرپاکستان میں بہت مضبوط لیڈر شپ ہے، ٹرمپ کے نئے بیان پر بھارت سیخ پا پاکستان میں بہت مضبوط لیڈر شپ ہے، ٹرمپ کے نئے بیان پر بھارت سیخ پا آئین کے تحت حاصل اختیار کو احتجاج میں خم ٹھونک کر استعمال کروں گا، علی امین گنڈاپور شہریوں قربانی ضرور کریں مگر صفائی کا بھی ضرور خیال رکھیں:چیئر مین سی ڈی اے کی اپیل اگلی جنگ ہوئی تو ٹرمپ کو رکوانے کا وقت نہیں مل پائے گا، بلاول بھٹو نے خبردار کردیا کوہاٹ :حجرے میں دھماکہ،سابق سینیٹر عباس آفریدی سمیت 3 افراد زخمی قازقستان کا بھارت سے جنگ میں پاکستان کی کامیابی پر اظہار مسرت، باہمی شراکت داری کا عزمCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: گیس لیکج دھماکے میں زخمی سابق سینیٹر عباس انتقال کرگئے
پڑھیں:
سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
بھارت کے معروف سماجی کارکن سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ طویل مذاکرات اور ملک میں ممکنہ تشدد کے خدشات کے پیش نظر یہ فیصلہ کیا گیا۔
عرب میڈیا کے مطابق سونم وانگچک نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں بتایا کہ مختلف شرائط پر ہونے والے طویل مذاکرات کے بعد اور ملک میں کشیدگی کے امکانات کو دیکھتے ہوئے انہوں نے اپنا احتجاج ختم کر دیا ہے۔
Just now in the presence of Union Ministers Sh. JP Nadda, Dr. Jitendra Singh and the senior leaders of Apex Body of Leh Ladakh I finally broke my fast after 26 days. Earlier 65 members of parliament from different political parties had visited or signed letters urging me to break… pic.twitter.com/RFCet7Oksy
— Sonam Wangchuk (@Wangchuk66) July 23, 202659 سالہ سونم وانگچک نے 28 جون کو بھوک ہڑتال کا آغاز کیا تھا۔ ان کی یہ ہڑتال بھارت میں نوجوانوں کی قیادت میں چلنے والی کاکروچ موومنٹ سے اظہارِ یکجہتی کے لیے تھی۔
اس تحریک کے شرکاء میڈیکل کالجوں کے داخلہ امتحانات کے پرچوں کے مبینہ لیک ہونے کے معاملے پر بھارتی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان سے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
مظاہرین کا مؤقف ہے کہ امتحانی نظام میں شفافیت کو یقینی بنانے اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کے لیے وزیرِ تعلیم کو اپنے عہدے سے الگ ہونا چاہیے۔
سونم وانگچک کے بھوک ہڑتال ختم کرنے کے اعلان کے باوجود بھارت میں امتحانی نظام اور حکومتی پالیسیوں کے خلاف احتجاجی تحریک بدستور جاری ہے۔