یاد ہے قربانی کا دنبہ، مگر بھول گئے ہم وہ مکالمہ
اشاعت کی تاریخ: 6th, June 2025 GMT
حضرت ابراہیم علیہ السلام اور ان کے بیٹے حضرت اسماعیل علیہ السلام کی قربانی کی اصل روح محض جانور کے ذبح کرنے کے عمل میں نہیں بلکہ روحانی اطاعت، اخلاقی جرات، اور اللہ کی رضا میں مکمل سرتسلیم خم ہونے میں پوشیدہ ہے۔ اصل فلسفہ اُس مکالمے میں ہے جو ایک باپ اور بیٹے کے درمیان ہوا۔ قرآن مجید سورہ الصافات میں اس مکالمے کو نہایت خوبصورتی سے بیان کرتا ہے:’’پھر جب وہ (اسماعیل) ان کے ساتھ دوڑ دھوپ کرنے کے قابل ہو گیا، تو (ابراہیم نے) کہا: اے میرے بیٹے! میں خواب میں دیکھتا ہوں کہ میں تجھے ذبح کر رہا ہوں، سو دیکھو تمہاری کیا رائے ہے؟ اس نے کہا: اے ابا جان! آپ وہی کیجیے جو آپ کو حکم دیا گیا ہے۔ ان شاء اللہ آپ مجھے صابروں میں پائیں گے۔‘‘ (سورۃ الصافات 102:37)یہ مکالمہ محض ماضی کی ایک کہانی نہیں، بلکہ ایک لازوال سبق ہے۔ اطاعت، ضبطِ نفس اور ایمان کی فتح کی ایک روشن مثال۔ دنبہ، جو اللہ کی طرف سے حضرت اسماعیلؑ کی جگہ بطور فدیہ عطا کیا گیا، ایک علامت بن گیا۔ مگر ہم اکثر اصل سبق، اصل روح کو بھول جاتے ہیں یعنی وہ مکالمہ، وہ روحانی سرتسلیم۔حضرت ابراہیم علیہ السلام کی طرف سے اپنے سب سے عزیز کو اللہ کے حکم پر قربان کر دینا اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کا اس پر آمادگی کے ساتھ راضی ہو جانا ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ اصل قربانی اپنی خواہشات، اپنی انا، اور اپنی پسند کی اطاعت کو اللہ کی رضا کے تابع کرنا ہے۔ ہم نے دنبے کو یاد رکھا، مگر مکالمہ کو بھلا دیا، جو کہ اصل روحِ قربانی تھا۔آج جب کہ امتِ مسلمہ اور بالخصوص پاکستان، سیاسی عدم استحکام، معاشی زوال، اخلاقی انحطاط اور سماجی ٹوٹ پھوٹ جیسے بحرانوں کا شکار ہے، تو ضروری ہے کہ ہم اپنے انفرادی اور اجتماعی رویوں میں قربانی کے حقیقی فلسفے کو زندہ کریں۔ ہمارا معاشرہ بدعنوانی، ناانصافی، عدم برداشت اور لالچ سے بوجھل ہے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی قربانی ہمیں صرف جانور ذبح کرنے کا پیغام نہیں دیتی، بلکہ انا، ناجائز خواہشات، اور طاقت و دولت کی ہوس کو ذبح کرنے کا درس دیتی ہے۔قرآن مجید فرماتا ہے: بیشک اللہ کسی قوم کی حالت نہیں بدلتا جب تک وہ خود اپنی حالت نہ بدلے۔ (سورۃ الرعد 11:13)یہ آیت ہمارے موجودہ حالات سے براہِ راست مطابقت رکھتی ہے۔ اگر پاکستان نے اپنی کھوئی ہوئی عزت اور وقار کو پانا ہے تو اندرونی پاکیزگی ضروری ہے۔ ہمارے حکمرانوں کو اپنی ذاتی خواہشات کو اجتماعی فلاح پر قربان کرنا ہوگا۔ ہمارے شہریوں کو بے ایمانی، رشوت، ٹیکس چوری، اور قومی وسائل کے غلط استعمال کو ترک کرنا ہوگا۔ ہر فرد کو سوچنا ہوگا کہ وہ اجتماعی بہتری کے لیے کیا قربانی دے سکتا ہے۔حضرت ابراہیم علیہ السلام کو اپنے بیٹے کی قربانی کا حکم اس لیے نہیں دیا گیا کہ انہیں تکلیف دی جائے، بلکہ یہ ان کی مکمل اطاعت اور روحانی پختگی کا امتحان تھا۔ آج پاکستان بھی آزمائش کے مراحل سے گزر رہا ہے۔ ہمیں خود سے پوچھنا ہوگا — ہم اللہ کی رضا کے لیے، اور اپنی قوم کی درست سمت میں بحالی کے لیے کیا قربان کرنے کو تیار ہیں؟ کیا ہم فرقہ واریت کو اتحاد کے لیے چھوڑ سکتے ہیں؟ کیا ہم نفرت انگیز تقاریر اور انتہا پسندی کو امن کے لیے ترک کر سکتے ہیں؟ کیا ہم ناجائز کمائی کو عدل پر مبنی معیشت کے لیے چھوڑ سکتے ہیں؟نبی کریم ﷺ نے فرمایا:یقیناً جسم میں ایک گوشت کا ٹکڑا ہے، اگر وہ درست ہو جائے تو سارا جسم درست ہو جاتا ہے، اور اگر وہ خراب ہو جائے تو سارا جسم خراب ہو جاتا ہے۔ وہ ٹکڑا دل ہے۔ (صحیح بخاری و مسلم)دل کی اصلاح نہایت اہم ہے۔ لالچ، حسد، تکبر جیسے روحانی امراض کو ختم کرنا ہوگا۔ ہماری سیاست کو ریاکاری اور خودغرضی سے پاک کرنا ہوگا۔ ہماری معیشت کو سود اور استحصال سے نجات دینی ہوگی۔ اور ہماری تعلیم میں ایسی اقدار شامل کرنا ہوں گی جو ذمہ داری، سچائی اور خدمتِ خلق سکھائیں۔اگر ہم حضرت ابراہیم علیہ السلام کی قربانی پر غور کریں تو معلوم ہوگا کہ یہ اندھی اطاعت نہیں تھی۔ یہ خواب، مشورہ، فہم، اور پھر مکمل اطاعت پر مبنی تھا۔ اسی طرح پاکستان کو بھی کوئی قدم بغیر ویژن، مشاورت، اور اخلاقی بنیاد کے نہیں اٹھانا چاہیے۔ ہماری قربانیاں با مقصد ہونی چاہییں — ایک اعلیٰ مقصد کے لیے، جو اسلامی اصولوں اور قومی مفاد کے مطابق ہو۔قرآن کہتا ہے:نہ ان (قربانی کے جانوروں) کا گوشت اللہ تک پہنچتا ہے اور نہ ان کا خون، بلکہ اللہ تک تمہارا تقویٰ پہنچتا ہے۔ (سورۃ الحج 37:22)یہ آیت اس تصور کو ختم کر دیتی ہے کہ قربانی صرف جانور کے ذبح کا نام ہے۔ اصل قربانی تقویٰ ،اللہ کا خوف اور شعور ہے۔ پاکستان کو اس تقویٰ کی اشد ضرورت ہے۔ سرکاری افسران دیانتداری سے کام لیں، تاجر انصاف کے اصولوں کو اپنائیں، علما اخلاص اور اتحاد سے رہنمائی کریں، میڈیا سچ پر مبنی رپورٹنگ کرے، اور نوجوان عارضی خواہشات کو ترک کر کے ملک کی تعمیر میں کردار ادا کریں۔حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل علیہم السلام کا مکالمہ ہمیں باپ بیٹے کے درمیان اعتماد، تربیت اور روحانی ہم آہنگی کا پیغام دیتا ہے۔ آج جب خاندانی ڈھانچے کمزور ہو رہے ہیں، تو یہ واقعہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ اصل طاقت ایمان، بات چیت اور باہمی ذمہ داری میں ہے۔ پاکستانی معاشرے کو خاندان کے ادارے کو پھر سے ایمان، مکالمے، اور ذمہ داری پر قائم کرنا ہوگا۔ہم کسی بھی شعبے میں ہوں، ہمیں قربانی کا سبق دل سے اپنانا ہوگا۔ بغیر قربانی ہم بکھرے رہیں گے، قربانی کے ساتھ ہم ایک مضبوط قوم بن سکتے ہیں۔ اصل قربانی اپنی کم تر خواہشات کو اعلیٰ مقاصد کے لیے چھوڑ دینا ہے۔ مسئلہ یہ نہیں کہ ہمارے پاس صلاحیت یا وسائل نہیں، مسئلہ یہ ہے کہ ہم آرام، تعیش، شارٹ کٹس، اور خودغرضی چھوڑنے کو تیار نہیں۔اس عید پر، جب امت حضرت ابراہیم علیہ السلام کی قربانی کو یاد کرتی ہے، تو پاکستان کو مثال بن کر آگے آنا چاہیے۔ آئیے اُس مکالمے کی روح کو زندہ کریں، سچائی، ایمان اور عزم کے لمحے کو۔ قربانی کے پیغام کو اپنے گھروں، دفاتر، بازاروں اور حکومت تک لے جائیں۔آئیے ہم صرف دنبے کو نہ یاد رکھیں، بلکہ اُس جذبے کو بھی جس نے قربانی کو ممکن بنایا۔ اس برس ہماری قربانیاں باطن کی بھی ہوں، تکبر کے بجائے عاجزی، دھوکے کے بجائے سچائی، تفرقے کے بجائے اتحاد، مایوسی کے بجائے امید۔تب ہی ہم اللہ کی مدد کے مستحق بنیں گے، سماجی ہم آہنگی اور قومی تجدید ممکن ہوگی۔ تب ہی ہماری قربانی اللہ کی نظر میں معنی رکھے گی اور اقوام کی تاریخ میں مقام پائے گی۔ تب ہی پاکستان وہ ملک بن سکے گا جس کا خواب علامہ اقبالؒ نے دیکھا اور جس کے لیے قائداعظمؒ نے جدوجہد کی ایک ایسی قوم جو محض خون سے نہیں، بلکہ ایمان، قربانی اور صداقت سے تعمیر ہوئی ہو۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
کلیدی لفظ: علیہ السلام کی قربانی حضرت اسماعیل قربانی کے کرنا ہوگا کے بجائے سکتے ہیں اللہ کی بلکہ ا کے لیے
پڑھیں:
ناتمام (آخری قسط)
ہارون صاحب کی کتاب ’’ناتمام‘‘ میں کچھ غیر معمولی شخصیات کے بارے میں لکھی گئی تحریریں بے حد دلنشین ہیں۔ ایک جگہ لکھتے ہیں ’’کبھی کبھی یہ طالب علم سوچتا ہے سیدنا علی بن عثمان ہجویریؒ کے بعد شاید اقبالؔ ہی وہ مفکر تھے، جنھوں نے امت کے ادبار پر دل سوزی کے ساتھ پیہم تدبر کیا، جس برصغیر میں وہ پیدا ہوئے تھے، اسے الوداع کہا تو وہ بدل چکا تھا، مسلم برصغیر کو امید اور امکان کی راہ دکھانے میں ان کا حصہ کسی بھی شخص سے زیادہ تھا، یہ اقبالؔ ہی تھے، جنھوں نے کہا تھا: جہاں کہیںجہاں میں روشنی ہے، مصطفیؐ کے طفیل ہے یا مصطفی ؐ کی تلاش میں! ۔۔۔۔‘‘
’’سیّد ابوالاعلیٰ نے آخری دنوں میں اقبالؔ سے فیض پایا۔ ان کی وفات پر اپنے مضمون ’’اقبالؔ، میرا نفسیاتی سہارا‘‘ میں لکھا ’قرآنِ کریم ان کے لیے ایک شاہ کلید تھا، تمام بند دروازے جس سے کھل جاتے‘آج کل کے دانشور کیا ہیں کہ مغرب کی چکاچوند نے جنھیں اندھا کردیا، جو یہ نہیں سمجھتے کہ ترقی، علم اور ارتقا، تقلید میں نہیں ہوتا، جہاں جو چیز اچھی ہے، وہ لے لی جاتی ہے اور جو ناقص ہو، وہ ترک کردینی چاہیے اور یہ عالمانِ دین ہیں کہ اکیسویں صدی میں قبائلی عہد میں زندہ رہنے پر مصر ہیں، جنھیں سرکارؐ کا پڑھایا ہوا اولین سبق ہی یاد نہیں۔ غوروفکر، حسنِ کلام، حکمت اور دلیل کے ساتھ مکالمہ، دردمندی اور دل سوزی کے ساتھ تفکّر اور تدبّر درکار ہے۔‘‘
مصنّف قائد اور اقبالؒ کا پھر ایک کالم میں ذکر کرتے ہیں ’’یہ قوم اپنے دو عظیم رہنماؤں کو بھول گئی۔ جناح ایسے تھے کہ عمر بھر تین باتوں کا طعنہ انھیں کبھی نہ دیا گیا۔ کبھی وعدہ نہ توڑا، کبھی مالی بے قاعدگی نہیں، کبھی جھوٹ نہ بولا۔ اقبالؔ ایسے کہ تمام فکری تعصبات سے اوپر اٹھ کر سوچ بچار کیا اور پیہم کیا، تمام خلوص، تمام صلابتِ کردار۔۔ نہیں، فقط سیاست سے ہماری زندگی نہیں بدلے گی، تعلیم، غوروفکر اور حسنِ کردار۔ حضورؐ نے ارشاد فرمایا تھا: اللہ جسے ہدایت دینا چاہے، اپنی آنکھ اس پر کھول دیتا ہے۔ دوسروں کے عیب چننے سے نہیں، حیات اپنی اصلاح سے ثمر بار ہوتی ہے۔‘‘ مصنّف نے کیا دلپذیر باتیں لکھی ہیں جو ہرشعبۂ حیات کے لیڈر کو پڑھنی چاہئیں۔
ناتمام میں مصنف نے بھٹوصاحب کا بھی تجزیہ کیا ہے، لکھتے ہیں ’’بھٹو حیرت انگیز خامیوں اور خوبیوں کا مجموعہ تھے۔ 1965کی جنگ کے ہنگام وہ ایک قوم پرست بن کر ابھرے، جب بھارت کے خلاف ہزار سالہ جنگ کا انھوں نے نعرہ لگایا، غریب آدمی کے احساسات کا انھوں نے ادراک کیا، سندھ اور پنجاب میں وہ ایک مقبول رہنما بن کر ابھرے مگر 1970 کے انتخابی نتائج کو عملاً انھوں نے تسلیم کرنے سے انکار کردیا۔ شیخ مجیب الرحمٰن کو واضح اکثریت حاصل ہوئی تو جنرل یحییٰ سے انھوں نے گٹھ جوڑ کرلیا اور انتقالِ اقتدار کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ بن گئے، ان دو آدمیوں کی ہوسِ اقتدار نے پاکستان کے دولخت ہونے کی بنیاد فراہم کی۔‘‘
پھر لکھتے ہیں ’’ایک راز بھٹو نے پالیا تھا۔ لیڈر وہ شخص ہوتا ہے، جو کسی قوم کی عمیق ترین، سب سے بنیادی اور سب سے بڑی آرزو کو پوری طرح پہچان لے۔ جنگِ ستمبر تک، وہ فیلڈ مارشل ایوب خان کے درباری تھے، کبھی اسے صلاح الدین قرار دیتے اور کبھی ایشیا کا ڈیگال۔ جنگِ ستمبر میں پہلی بار دلوں میں یہ امید جاگی کہ کشمیر پہ دشمن بھارت کا تسلّط تمام ہوسکتا ہے، بھٹو نے اس نجیب آرزو کو پہچانا اور اس کا مظہر بن گئے، اقوامِ متحدہ میں جاری مباحث کے دوران، جن کا ایک ایک لفظ غور سے پڑھا اور سنا جایا کرتا، بھٹو نے بھارت کے ’’میسنے‘‘ وزیرِ خارجہ سردار سورن سنگھ کو مخاطب کرکے کہا: لڑنا پڑا تو کشمیر کے لیے ایک ہزار برس تک بھی ہم لڑیں گے، تبھی وہ ہیرو بن کر ابھرے۔ ہاں! مگر ان کا کوئی عقیدہ نہ تھا، قوم پرست وہ یقیناً تھے اور بے شک انھوں نے پہلی بار Anti Estabhishment پارٹی تشکیل دی مگر خود پسند، اقتدار کے حریص اور نرگسیت کے مارے۔ باقی سب تاریخ ہے"
پاکستانی سیاست کا تجزیہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں’’ پاکستانی سیاست اور معاشرے کا مرض یہ ہے کہ سائنسی اندازِ فکر سے وہ محروم ہے۔ تعصّبات اور جذبات کا غلبہ اس قدر ہے کہ کبھی نفرت چھا جاتی ہے اور کبھی محبت۔ بھٹو صاحب کے مداحوں سے عرض کیجیے کہ بے شک مقبول وہ بہت تھے۔
بجا کہ ملک کو انھوں نے دستور عطا کیا، ایٹمی پروگرام کی بنیاد رکھی، جذباتی توازن سے مگر وہ محروم تھے اور پرلے درجے کے انتقام پسند۔ دوسروں کا تو ذکر ہی کیا، اپنی پارٹی کے سیکریٹری جنرل جے رحیم کو پٹوایا۔ قومی اسمبلی میں پیپلز پارٹی کے رکنِ اسمبلی ملک سلیمان اور ان کے خاندان کی تذلیل کی، اپنے وزیرِ اعلیٰ حنیف رامے کو شاہی قلعے میں قید رکھا۔ پارٹی کے ایک دوسرے لیڈر احمد رضا قصوری پر قاتلانہ حملے میں ان کے والد مارے گئے۔ کوئی نہیں سنتا، کوئی نہیں مانتا۔‘‘
کتاب کے مصنّف، عمران خان کے سب سے بڑے سپورٹر تھے اور شاید اب بھی ہیں مگر اس کتاب میں انھوں نے اس کی خامیاں بھی چھپانے کی کوشش نہیں کی، لکھتے ہیں ’’لاہور میں موسم بہار کی ایک سویر جب میں زمان پارک میں اسے ملنے گیا تو وہ ورزش میں مصروف تھا۔ کچھ دیر کے بعد وہ نمودار ہوا اور ضرورت سے زیادہ پُراعتماد لہجے میں کہا’’اپنے جسم پر بھی آدمی کو سرمایہ کاری کرنی چاہیے‘‘ ۔ ’’جی ہاں‘‘۔ عرض کیا ’’اپنے ذہن پر بھی‘‘۔ اسے دھچکا لگا ’’تمہارا مطلب یہ ہے کہ میں نے ذہن پہ سرمایہ کاری نہیں کی‘‘۔ ہاں! میں نے جواب دیا ’’میرا مطلب یہی ہے‘‘۔ بدمزہ نہیں، وہ کچھ حیران سا ہوا اور ناشتے میں جُت گیا، پھل، دہی، ڈبل روٹی کے دو ٹکڑے اور بہت سا جوس۔ مجال ہے کہ ایسے میں دوسروں کو وہ دعوت دے‘‘۔
پھر لکھتے ہیں ’’عمران خان اپنی پہاڑ سی غلطیوں کو بھلا کر ظفرمندی کے خواب کا اسیر تھا، 11 مئی کی صبح احسن رشید سے کہا کہ انتخابی نتائج سنتے ہی شوکت خانم اسپتال آجانا کہ جشن منایا جاسکے۔ اپنے بچوں سے لندن میں کہہ آیا تھا کہ اگلی بار وزیراعظم کی حیثیت سے برطانیہ آئے گا۔ نتیجہ نکلا تو صرف اس کی نہیں، پارٹی کے تمام بزر جمہروں کی رائے یہ تھی کہ قبول کرلینا چاہیے۔
الجھے ہوئے ذہن کے ساتھ کئی ماہ وہ مخمصے کا شکار رہا، پارٹی کو ان دنوں دو تین گھنٹے سے زیادہ وقت نہ دیا کرتا۔ شاطروں نے سمجھ لیا کہ اسے الّو بنانے میں کامیاب رہے‘‘۔ ایک اور جگہ لکھتے ہیں ’’ناقابلِ فہم بات یہ ہے کہ دس حلقے کھولنے کی شرط کے ساتھ مفاہمت پہ آمادگی کے بعد تحریکِ انصاف کے سربراہ وزیراعظم کے استعفیٰ کی تاریخیں کیوں دینے لگے؟ نوبت پھر تھرڈ امپائر کی انگلی تک پہنچی، بلا استثنیٰ سبھی کا تاثر یہ تھا کہ کپتان کا اشارہ عسکری قیادت کی طرف ہے۔ کئی دن بعد کپتان نے اعلان کیا کہ ان کی مراد اللہ تعالیٰ سے تھی۔ اللہ تعالیٰ امپائر نہیں، وہ کائنات اور زندگی کا خالق ہے۔ حیات کی تمام حرکیات اور قوانین کا، وہ دلوں کے بھید جانتا ہے۔ ذاتِ باری تعالیٰ کو کرکٹ کے امپائر سے تشبیہہ دینا پرلے درجے کی بدذوقی اور سطحیت تھی۔ کپتان اگر انھی لوگوں کے زیرِ اثر رہا، جن کے زیرِ اثر ہے تو مستقبل میں بھی اس طرح کے واقعات ہوتے رہیں گے‘‘۔
کچھ دوسرے لیڈروں کے بارے میں لکھتے ہیں ’’چوہدری نثار علی میں صلاحیّت بے پایاں تھی مگر روحانی جہت معمولی۔ کھٹ سے اللہ کی رحمت کا دروازہ کھلتا مگر بن مانگے تو گاہے وہ گھاس بھی نہیں دیتا، چہ جائیکہ عظمت ورفعت۔ یوں بھی عظمت غریبوں، دکھ جھیلنے اور ایثار کرنے والوں کے لیے ہوتی ہے۔ چوہدری کہاں، شریف برادران کہاں، ان کے مقاصد محدود ہیں۔ اقتدار کا انبساط، جو دنیا کا سب سے تباہ کن نشہ ہے، جان چھوڑتا ہی نہیں، عزتِ نفس اور شان وشوکت کا ایک سطحی سا تصور۔عمران خان سمیت سبھی کا حال پتلا ہے۔ پانی پت کی تیسری جنگ لڑنے جاتے ہیں اور لشکر سراج الدولہ سے بدتر۔ رہے علّامہ طاہرالقادری تو جرأت ہی نہیں، جسارت ہی نہیں، فقط زورِ خطابت۔ کوئی دن میں غبارہ پھٹ جائے گا‘‘۔
’’اچھی حکمرانی کی بے تاب تمنا بھی بجا۔ بحث بہت ہوچکی۔ سیاست کے قرینوں سے اب ہم آگاہ ہیں مگراس کے لیے سیاست کافی نہیں زندگی جوڑ توڑ سے بہت بڑی ہے۔ علم اور اخلاق کے بغیر معاشرے، اقوام نہیں، ریوڑ ہوتے ہیں۔ علم، اخلاق اور تربیت۔ قرآن کریم اور اس کا صاحب انوار شارع۔۔ اور ہاں جدید علم!‘‘
ہر طبقۂ فکر کے لوگوں خصوصاً سیاست میں دلچسپی رکھنے والوں کو یہ کتاب ضرور پڑھنی چاہیے۔