Daily Ausaf:
2026-07-24@04:26:45 GMT

یاد ہے قربانی کا دنبہ، مگر بھول گئے ہم وہ مکالمہ

اشاعت کی تاریخ: 6th, June 2025 GMT

حضرت ابراہیم علیہ السلام اور ان کے بیٹے حضرت اسماعیل علیہ السلام کی قربانی کی اصل روح محض جانور کے ذبح کرنے کے عمل میں نہیں بلکہ روحانی اطاعت، اخلاقی جرات، اور اللہ کی رضا میں مکمل سرتسلیم خم ہونے میں پوشیدہ ہے۔ اصل فلسفہ اُس مکالمے میں ہے جو ایک باپ اور بیٹے کے درمیان ہوا۔ قرآن مجید سورہ الصافات میں اس مکالمے کو نہایت خوبصورتی سے بیان کرتا ہے:’’پھر جب وہ (اسماعیل) ان کے ساتھ دوڑ دھوپ کرنے کے قابل ہو گیا، تو (ابراہیم نے) کہا: اے میرے بیٹے! میں خواب میں دیکھتا ہوں کہ میں تجھے ذبح کر رہا ہوں، سو دیکھو تمہاری کیا رائے ہے؟ اس نے کہا: اے ابا جان! آپ وہی کیجیے جو آپ کو حکم دیا گیا ہے۔ ان شاء اللہ آپ مجھے صابروں میں پائیں گے۔‘‘ (سورۃ الصافات 102:37)یہ مکالمہ محض ماضی کی ایک کہانی نہیں، بلکہ ایک لازوال سبق ہے۔ اطاعت، ضبطِ نفس اور ایمان کی فتح کی ایک روشن مثال۔ دنبہ، جو اللہ کی طرف سے حضرت اسماعیلؑ کی جگہ بطور فدیہ عطا کیا گیا، ایک علامت بن گیا۔ مگر ہم اکثر اصل سبق، اصل روح کو بھول جاتے ہیں یعنی وہ مکالمہ، وہ روحانی سرتسلیم۔حضرت ابراہیم علیہ السلام کی طرف سے اپنے سب سے عزیز کو اللہ کے حکم پر قربان کر دینا اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کا اس پر آمادگی کے ساتھ راضی ہو جانا ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ اصل قربانی اپنی خواہشات، اپنی انا، اور اپنی پسند کی اطاعت کو اللہ کی رضا کے تابع کرنا ہے۔ ہم نے دنبے کو یاد رکھا، مگر مکالمہ کو بھلا دیا، جو کہ اصل روحِ قربانی تھا۔آج جب کہ امتِ مسلمہ اور بالخصوص پاکستان، سیاسی عدم استحکام، معاشی زوال، اخلاقی انحطاط اور سماجی ٹوٹ پھوٹ جیسے بحرانوں کا شکار ہے، تو ضروری ہے کہ ہم اپنے انفرادی اور اجتماعی رویوں میں قربانی کے حقیقی فلسفے کو زندہ کریں۔ ہمارا معاشرہ بدعنوانی، ناانصافی، عدم برداشت اور لالچ سے بوجھل ہے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی قربانی ہمیں صرف جانور ذبح کرنے کا پیغام نہیں دیتی، بلکہ انا، ناجائز خواہشات، اور طاقت و دولت کی ہوس کو ذبح کرنے کا درس دیتی ہے۔قرآن مجید فرماتا ہے: بیشک اللہ کسی قوم کی حالت نہیں بدلتا جب تک وہ خود اپنی حالت نہ بدلے۔ (سورۃ الرعد 11:13)یہ آیت ہمارے موجودہ حالات سے براہِ راست مطابقت رکھتی ہے۔ اگر پاکستان نے اپنی کھوئی ہوئی عزت اور وقار کو پانا ہے تو اندرونی پاکیزگی ضروری ہے۔ ہمارے حکمرانوں کو اپنی ذاتی خواہشات کو اجتماعی فلاح پر قربان کرنا ہوگا۔ ہمارے شہریوں کو بے ایمانی، رشوت، ٹیکس چوری، اور قومی وسائل کے غلط استعمال کو ترک کرنا ہوگا۔ ہر فرد کو سوچنا ہوگا کہ وہ اجتماعی بہتری کے لیے کیا قربانی دے سکتا ہے۔حضرت ابراہیم علیہ السلام کو اپنے بیٹے کی قربانی کا حکم اس لیے نہیں دیا گیا کہ انہیں تکلیف دی جائے، بلکہ یہ ان کی مکمل اطاعت اور روحانی پختگی کا امتحان تھا۔ آج پاکستان بھی آزمائش کے مراحل سے گزر رہا ہے۔ ہمیں خود سے پوچھنا ہوگا — ہم اللہ کی رضا کے لیے، اور اپنی قوم کی درست سمت میں بحالی کے لیے کیا قربان کرنے کو تیار ہیں؟ کیا ہم فرقہ واریت کو اتحاد کے لیے چھوڑ سکتے ہیں؟ کیا ہم نفرت انگیز تقاریر اور انتہا پسندی کو امن کے لیے ترک کر سکتے ہیں؟ کیا ہم ناجائز کمائی کو عدل پر مبنی معیشت کے لیے چھوڑ سکتے ہیں؟نبی کریم ﷺ نے فرمایا:یقیناً جسم میں ایک گوشت کا ٹکڑا ہے، اگر وہ درست ہو جائے تو سارا جسم درست ہو جاتا ہے، اور اگر وہ خراب ہو جائے تو سارا جسم خراب ہو جاتا ہے۔ وہ ٹکڑا دل ہے۔ (صحیح بخاری و مسلم)دل کی اصلاح نہایت اہم ہے۔ لالچ، حسد، تکبر جیسے روحانی امراض کو ختم کرنا ہوگا۔ ہماری سیاست کو ریاکاری اور خودغرضی سے پاک کرنا ہوگا۔ ہماری معیشت کو سود اور استحصال سے نجات دینی ہوگی۔ اور ہماری تعلیم میں ایسی اقدار شامل کرنا ہوں گی جو ذمہ داری، سچائی اور خدمتِ خلق سکھائیں۔اگر ہم حضرت ابراہیم علیہ السلام کی قربانی پر غور کریں تو معلوم ہوگا کہ یہ اندھی اطاعت نہیں تھی۔ یہ خواب، مشورہ، فہم، اور پھر مکمل اطاعت پر مبنی تھا۔ اسی طرح پاکستان کو بھی کوئی قدم بغیر ویژن، مشاورت، اور اخلاقی بنیاد کے نہیں اٹھانا چاہیے۔ ہماری قربانیاں با مقصد ہونی چاہییں — ایک اعلیٰ مقصد کے لیے، جو اسلامی اصولوں اور قومی مفاد کے مطابق ہو۔قرآن کہتا ہے:نہ ان (قربانی کے جانوروں) کا گوشت اللہ تک پہنچتا ہے اور نہ ان کا خون، بلکہ اللہ تک تمہارا تقویٰ پہنچتا ہے۔ (سورۃ الحج 37:22)یہ آیت اس تصور کو ختم کر دیتی ہے کہ قربانی صرف جانور کے ذبح کا نام ہے۔ اصل قربانی تقویٰ ،اللہ کا خوف اور شعور ہے۔ پاکستان کو اس تقویٰ کی اشد ضرورت ہے۔ سرکاری افسران دیانتداری سے کام لیں، تاجر انصاف کے اصولوں کو اپنائیں، علما اخلاص اور اتحاد سے رہنمائی کریں، میڈیا سچ پر مبنی رپورٹنگ کرے، اور نوجوان عارضی خواہشات کو ترک کر کے ملک کی تعمیر میں کردار ادا کریں۔حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل علیہم السلام کا مکالمہ ہمیں باپ بیٹے کے درمیان اعتماد، تربیت اور روحانی ہم آہنگی کا پیغام دیتا ہے۔ آج جب خاندانی ڈھانچے کمزور ہو رہے ہیں، تو یہ واقعہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ اصل طاقت ایمان، بات چیت اور باہمی ذمہ داری میں ہے۔ پاکستانی معاشرے کو خاندان کے ادارے کو پھر سے ایمان، مکالمے، اور ذمہ داری پر قائم کرنا ہوگا۔ہم کسی بھی شعبے میں ہوں، ہمیں قربانی کا سبق دل سے اپنانا ہوگا۔ بغیر قربانی ہم بکھرے رہیں گے، قربانی کے ساتھ ہم ایک مضبوط قوم بن سکتے ہیں۔ اصل قربانی اپنی کم تر خواہشات کو اعلیٰ مقاصد کے لیے چھوڑ دینا ہے۔ مسئلہ یہ نہیں کہ ہمارے پاس صلاحیت یا وسائل نہیں، مسئلہ یہ ہے کہ ہم آرام، تعیش، شارٹ کٹس، اور خودغرضی چھوڑنے کو تیار نہیں۔اس عید پر، جب امت حضرت ابراہیم علیہ السلام کی قربانی کو یاد کرتی ہے، تو پاکستان کو مثال بن کر آگے آنا چاہیے۔ آئیے اُس مکالمے کی روح کو زندہ کریں، سچائی، ایمان اور عزم کے لمحے کو۔ قربانی کے پیغام کو اپنے گھروں، دفاتر، بازاروں اور حکومت تک لے جائیں۔آئیے ہم صرف دنبے کو نہ یاد رکھیں، بلکہ اُس جذبے کو بھی جس نے قربانی کو ممکن بنایا۔ اس برس ہماری قربانیاں باطن کی بھی ہوں، تکبر کے بجائے عاجزی، دھوکے کے بجائے سچائی، تفرقے کے بجائے اتحاد، مایوسی کے بجائے امید۔تب ہی ہم اللہ کی مدد کے مستحق بنیں گے، سماجی ہم آہنگی اور قومی تجدید ممکن ہوگی۔ تب ہی ہماری قربانی اللہ کی نظر میں معنی رکھے گی اور اقوام کی تاریخ میں مقام پائے گی۔ تب ہی پاکستان وہ ملک بن سکے گا جس کا خواب علامہ اقبالؒ نے دیکھا اور جس کے لیے قائداعظمؒ نے جدوجہد کی ایک ایسی قوم جو محض خون سے نہیں، بلکہ ایمان، قربانی اور صداقت سے تعمیر ہوئی ہو۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Ausaf

کلیدی لفظ: علیہ السلام کی قربانی حضرت اسماعیل قربانی کے کرنا ہوگا کے بجائے سکتے ہیں اللہ کی بلکہ ا کے لیے

پڑھیں:

پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا

پاکستان کی جغرافیائی حیثیت محض ایک زمینی ریاست کی نہیں بلکہ ایک ایسے ملک کی ہے جس کے مفادات خشکی، سمندر اور خطے کی مجموعی سلامتی سے یکساں طور پر وابستہ ہیں۔ اسی لیے جب مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے شعلے بلند ہوتے ہیں تو ان کی تپش صرف جنگ میں شریک ممالک تک محدود نہیں رہتی بلکہ عالمی تجارت، توانائی کی رسد، بحری راستوں، علاقائی معیشتوں اور سفارتی توازن کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے۔

آج بحیرہ احمر، باب المندب اور آبنائے ہرمز صرف آبی گزرگاہیں نہیں رہیں بلکہ عالمی طاقتوں کی کشمکش، علاقائی رقابتوں اور غیر ریاستی مسلح گروہوں کی حکمت عملی کا مرکز بن چکی ہیں۔ ایسے ماحول میں پاکستان کی جانب سے اپنے بحری مفادات اور سعودی عرب کی سلامتی کے بارے میں دوٹوک اور واضح موقف اختیار کرنا نہ صرف ایک ذمے دار ریاست کی علامت ہے بلکہ یہ اس حقیقت کا اظہار بھی ہے کہ قومی سلامتی کی تعریف اب سرحدوں تک محدود نہیں رہی، بلکہ سمندری راستے، تجارتی جہاز، بندرگاہیں اور توانائی کی سپلائی لائنیں بھی اسی قدر اہم قومی مفادات کا حصہ بن چکی ہیں۔

 پاکستان نے جس واضح انداز میں یہ اعلان کیا ہے کہ پاکستانی پرچم بردار جہازوں، بحری تنصیبات یا سمندری مفادات کے خلاف کسی بھی جارحیت کو قومی سلامتی کے خلاف حملہ تصور کیا جائے گا، وہ دراصل بین الاقوامی قانون کے بنیادی اصولوں کی توثیق بھی ہے اور قومی خودمختاری کے تحفظ کا منطقی اظہار بھی۔ دنیا کی کوئی بھی ذمے دار ریاست اپنی تجارت، بحری نقل و حمل اور اقتصادی شہ رگوں کو خطرات کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑ سکتی۔

پاکستان کی بڑی بندرگاہیں، برآمدات، درآمدات اور توانائی کی ضروریات عالمی بحری راستوں سے وابستہ ہیں، اس لیے ان راستوں میں پیدا ہونے والی بے یقینی براہِ راست قومی معیشت پر اثر انداز ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام آباد کی جانب سے یہ واضح پیغام دینا کہ قومی بحری مفادات کے دفاع کے لیے ہر ضروری اقدام کیا جائے گا، دراصل ایک فطری ریاستی ذمے داری ہے، نہ کہ محض سفارتی بیان۔

 بحیرہ احمر میں حوثی حملوں اور تجارتی جہازوں کو دی جانے والی دھمکیوں نے عالمی تجارت کو غیر معمولی اضطراب میں مبتلا کر دیا ہے۔ ماضی میں قزاقی کو سمندری تجارت کے لیے سب سے بڑا خطرہ سمجھا جاتا تھا، مگر اب منظم مسلح گروہ جدید میزائلوں، ڈرونز اور بحری حملوں کی صلاحیت کے ذریعے پوری عالمی سپلائی چین کو یرغمال بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

اس صورتحال نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ غیر ریاستی عناصر بھی ایسے وسائل حاصل کر چکے ہیں جن کے ذریعے وہ عالمی معیشت پر ریاستوں سے کم اثر نہیں ڈال سکتے۔ یہی وجہ ہے کہ متعدد آئل ٹینکروں نے اپنے راستے تبدیل کیے اور یورپی بحری اداروں نے بھی تجارتی جہازوں کو احتیاطی ہدایات جاری کیں، جو اس بحران کی سنگینی کا واضح ثبوت ہے۔

حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب سے وابستہ تجارتی سرگرمیوں کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں صرف ایک ملک کے خلاف کارروائی نہیں بلکہ بین الاقوامی تجارت کی آزادی پر حملہ ہیں۔ سمندری راستوں کی آزادی بین الاقوامی قانون کا بنیادی اصول ہے، جس پر عالمی تجارت کا پورا نظام قائم ہے، اگر کسی گروہ کو یہ حق دے دیا جائے کہ وہ سیاسی یا عسکری مقاصد کے لیے تجارتی جہازوں کی نقل و حرکت روک دے تو پھر عالمی تجارت مسلسل خوف اور غیر یقینی کا شکار ہو جائے گی۔ پاکستان کی تشویش اسی تناظر میں نہایت برمحل ہے کیونکہ اس کی تجارت کا بڑا حصہ بھی انھی عالمی بحری راستوں سے وابستہ ہے۔

 پاکستان نے سعودی عرب کی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے لیے اپنی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کر کے نہ صرف دونوں ممالک کے تاریخی تعلقات کو مضبوط کیا ہے بلکہ ایک اصولی موقف بھی اختیار کیا ہے۔ پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات کئی دہائیوں پر محیط اعتماد، مذہبی وابستگی، اقتصادی تعاون اور دفاعی اشتراک پر استوار ہیں۔ اس لیے اگر کسی بحران کے ذریعے سعودی عرب کو براہِ راست جنگ میں گھسیٹنے یا اس کے تجارتی مفادات کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی جاتی ہے تو پاکستان کا اس پر تشویش ظاہر کرنا ایک ذمے دار دوست اور شراکت دار ریاست کے کردار کی عکاسی کرتا ہے۔

اس وقت اصل تشویش صرف بحیرہ احمر تک محدود نہیں رہی بلکہ امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی عسکری کشیدگی نے پورے خطے کو ایک نئے اور زیادہ خطرناک مرحلے میں داخل کر دیا ہے۔ دونوں ممالک کی جانب سے مسلسل سخت بیانات، ایک دوسرے کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں اور فوجی کارروائیوں کا دائرہ وسیع ہونے کے امکانات اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ جنگ اب محدود رہنے کے بجائے تدریجاً علاقائی شکل اختیار کر سکتی ہے۔ جب عسکری کارروائیوں کا ہدف پل، بجلی گھر، توانائی کے مراکز اور دیگر شہری تنصیبات بن جائیں تو اس کے اثرات براہِ راست عام شہریوں پر مرتب ہوتے ہیں۔

اس تمام منظرنامے کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ بین الاقوامی قانون اور سمندری ضابطوں کا احترام مسلسل کمزور پڑ رہا ہے، اگر بحری گزرگاہوں کو سیاسی دباؤ کے آلے کے طور پر استعمال کیا جانے لگا تو مستقبل میں دنیا کے دیگر حساس سمندری راستے بھی اسی نوعیت کے تنازعات کا شکار ہو سکتے ہیں۔ اس لیے عالمی برادری کی ذمے داری ہے کہ وہ آزادی جہاز رانی، تجارتی تحفظ اور شہری بنیادی ڈھانچے کے احترام کو ہر حال میں یقینی بنانے کے لیے موثر اقدامات کرے۔

پاکستان کے لیے موجودہ حالات ایک واضح پیغام رکھتے ہیں کہ بحری سلامتی کو قومی سلامتی کی حکمت عملی کا مزید مضبوط حصہ بنایا جائے۔ بحری افواج کی استعداد، ساحلی نگرانی، بندرگاہوں کی حفاظت، تجارتی جہازوں کی سیکیورٹی اور بین الاقوامی بحری تعاون کو مزید موثر بنانا وقت کی ضرورت ہے۔ گوادر اور کراچی جیسے اہم بندرگاہی مراکز صرف قومی معیشت کے ستون نہیں بلکہ علاقائی تجارت کے اہم مراکز بھی ہیں، جن کا تحفظ ہر حال میں یقینی بنایا جانا چاہیے۔

اس بحران میں پاکستان کے لیے سفارتی توازن بھی غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ ایک جانب سعودی عرب سمیت خلیجی ممالک کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں تو دوسری جانب ایران ایک ہمسایہ اور اہم علاقائی ملک ہے۔ اس لیے پاکستان کا کردار اشتعال انگیزی میں اضافہ کرنے کے بجائے کشیدگی کم کرنے، رابطے بڑھانے اور مذاکرات کی حمایت کرنے کا ہونا چاہیے۔ یہی وہ راستہ ہے جو پاکستان کی خارجہ پالیسی کی روایات، قومی مفادات اور علاقائی امن کے تقاضوں سے مطابقت رکھتا ہے۔

عالمی طاقتوں کو بھی یہ حقیقت تسلیم کرنا ہوگی کہ طاقت کے ذریعے حاصل ہونے والی کامیابیاں عارضی ہوتی ہیں، جب کہ ان کے نتیجے میں پیدا ہونے والا عدم استحکام کئی دہائیوں تک برقرار رہ سکتا ہے۔ مشرق وسطیٰ پہلے ہی جنگوں، پابندیوں، پراکسی تنازعات اور بیرونی مداخلتوں کے باعث شدید نقصان اٹھا چکا ہے، اگر موجودہ کشیدگی کو بروقت نہ روکا گیا تو اس کے اثرات صرف جنگ میں شامل ممالک تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پوری عالمی معیشت، توانائی کے نظام اور بین الاقوامی امن کو اپنی لپیٹ میں لے لیں گے۔

پاکستان کا حالیہ موقف اسی لیے اہم ہے کہ اس میں اپنے قومی اور بحری مفادات کے تحفظ کا واضح اعلان بھی موجود ہے، سعودی عرب کی سلامتی کے ساتھ اصولی یکجہتی بھی اور بالواسطہ یہ پیغام بھی کہ سمندری راستوں کو جنگی حکمت ِ عملی کا ہدف بنانا کسی کے مفاد میں نہیں۔ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ اشتعال انگیز بیانات، عسکری دھمکیوں اور جوابی کارروائیوں کے بجائے سنجیدہ سفارت کاری، علاقائی مکالمے اور بین الاقوامی قانون کی بالادستی کو ترجیح دی جائے، اگر بنیادی ڈھانچے، توانائی کے مراکز، بحری راستوں اور تجارتی جہازوں کو جنگ کا مستقل ہدف بنا دیا گیا تو دنیا ایک ایسے بحران میں داخل ہو سکتی ہے جس کے اثرات نسلوں تک محسوس کیے جائیں گے۔ امن صرف جنگ نہ ہونے کا نام نہیں بلکہ ایسا بین الاقوامی نظم ہے جس میں تجارت محفوظ ہو، ریاستوں کی خودمختاری محترم رہے، شہری تنصیبات محفوظ ہوں اور اختلافات کا فیصلہ میدان جنگ کے بجائے مذاکرات کی میز پر ہو۔ یہی وہ راستہ ہے جو مشرق وسطیٰ کو مزید تباہی سے بچا سکتا ہے اور یہی وہ سوچ ہے جس کی آج پوری دنیا کو سب سے زیادہ ضرورت ہے۔

متعلقہ مضامین

  • عطا اللہ تارڑ نے اب تک معافی نہیں مانگی، وزیراعظم وزرا کے تضحیک آمیز رویے کا نوٹس لیں، سحر کامران
  • شہدا ء کا مقام اور فضیلت
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • انفرااسٹرکچر پر امریکی حملوں کا جواب شدید اور وسیع ہوگا، ایران
  • حضرت داتا گنج بخش ؒ کا سالانہ عرس; انتظامات کے حوالے سے خصوصی اجلاس
  • جامعہ کراچی میں سالانہ یومِ حسینؑ، شیعہ سنی علماء کا خطاب، اساتذہ و طلباء کی شرکت
  • دبئی ایئرپورٹ پر اے آئی امیگریشن سسٹم متعارف، 3.4 سیکنڈ میں کلیئرنس
  • سرکاری ملازمین پنشن میں اضافہ، خیبرپختونخوا حکومت کا بڑا ریلیف اعلان
  • سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل